اب امریکہ کی باری ہے —مدثر گِل

یہ 1995 کی بات ہے جب میں ایک چھوٹا بچہ تھا۔ نہ مجھے جمہور اور نہ جمہوریت کا پتہ تھا، نہ جہاد کی سمجھ تھی نہ دہشت گردی کی۔ مسجدوں سے اذان، تلاوت، نعت اور جہادی ترانوں کی آواز بذریعہ لاؤڈ سپیکر صبح دوپہر شام متواتر گونجتی رہتی تھی۔ جب بھی کسی مجاہد کا خون جوش مارتا وہ لاؤڈ سپیکر آن کر کے کوئی جہادی ترانہ پورے جذبے کے ساتھ سنا جاتا۔ کبھی کبھی یہ جوش تین چار جہادی نغموں کے بعد بھی جاری و ساری رہتا تھا۔ ان ترانوں میں ایک ترانہ کافی مقبول تھا جو ننھے مجاہد زیادہ پسند کرتے تھے۔ وہ نغمہ تو پورا مجھے یاد نہیں مگر صرف ایک مصرع “اب امریکہ کی باری ہے” یاد ہے۔ تب میں ابھی چھٹی ساتویں کا طالبعلم تھا۔ ہماری معاشرتی علوم کا حدود اربعہ ہمارے اسلاف کے کارناموں سے بھرا پڑا تھا۔ دنیا کے نقشے کے حساب سے بھی صرف امریکہ پاکستان سے کچھ دور نظر آتا جہاں پر پاکستان کا پرچم لہراتا ہوا نظر نہیں آتا تھا۔ باقی تو نقشے کے حساب سے سب ممالک دو فرلانگ پر تھے اس لیے ہمارے ماسٹر صاحب کے بقول جلد ہی ہم انکو فتح کرنے والے ہیں۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے یقین تھا کہ اگر مجاہدین کا یہی جذبہ برقرار رہا تو ہم کشتیوں پر جا کر کسی دن امریکہ پر بھی اپنا جھنڈا لہرا آئیں گے۔ بیشک اُس حساب سے امریکیوں کی ہی باری بنتی تھی۔
چند ایک اور جماعتیں پاس کرنے کے بعد معاشرتی علوم مطالعہ پاکستان میں بدل گئی اور امریکہ کی بجائے بھارت کے ساتھ کارگل کے محاذ پر کشتیاں لنگر انداز کر لی گئیں۔ میڈیا نامی وبا ابھی پھوٹنا بھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ ایک ماہان اسلامی سپہ سالار کی فتح پر مٹھایاں تقسیم ہونی شروع ہو گئیں۔ اپنے ہی ملک کو فتح کرنے کے بعد مفتوح ریاست کے ہر ادارے/محکمے میں فاتح افواج کے جوان نظر آنے لگے۔ ان جوانوں میں سے جو بڑھاپے میں پہنچ کر پنشن سے فیضیاب ہو رہے تھے انکو کوٹے کے ذریعے ہر ادارے/محکمے میں مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لیے مخصوص سیٹیں دلوا دی گئیں۔ شاید فاتح فوج کے لیے یہی لا محدود وقت کے لیے مال غنیمت تھا جو آج تک بھی جاری و ساری ہے۔ (اگر یقین نہ ہو تو نظر دوڑا کر دیکھ لیں بہت سے “ریٹائرڈ” نظر آ جائیں گے)
لڑکپن کا دور جمہوریت کو سمجھنے میں گزر گیا۔ کہ یہ کونسی ریل ہے جو کبھی پٹری سے اتر جاتی ہے اور کبھی چڑھ جاتی ہے؟ اتنی بار چڑھنے اترنے سے اس کے انجن اور ڈبوں کو کیا نقصان نہیں پہنچتا ہے؟ ان سب عوامل میں اس کے سواروں کا کیا بنتا ہو گا؟ اس دور میں مختلف علاقوں میں شورشیں شروع ہو چکی تھیں۔ کالج کے اس زمانے میں مختلف طلبا تنظیموں کی غنڈہ گردی سے بھی کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔ رہی سہی کسر میڈیائی وبا نے پوری کر دی اور ہمیں جمہوری روگ پوری طرح لگ گیا۔
جوانی کے ان ایام میں امریکہ کی باری تو گزر چکی ہے اور اب وہ باری باری اسلامی ممالک سے باریاں لے رہا ہے۔ مگر ابھی بھی ایک نعرہ ہواؤں میں کبھی کبھی گونجتا ہے کہ “امریکہ اور انڈیا کا جو یار ہے۔۔۔۔۔ غدار ہے غدار ہے”۔ اور میں سوچوں میں گم ہو جاتا ہوں کہ سعودی امریکی یارانے کو میں کس نظر سے دیکھوں؟

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}