وعدوں کی سیاست اور ریاست کی ذمہ داری — شیر افضل گوجر

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد نواز شریف نے چار سال پہلے پچیس مارچ کو مانسہرہ کے ٹھاکرہ سٹیڈیم میںاپنے انتخابی منشور میں ــ ایڈ نہیں ٹریڈ اور ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پا کر قوم کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے چھٹکارہ دلا نے اور پاکستان میں ایٹمی دھماکوںکے بعد معاشی دھماکے کی خوشخبری سناتے ہوئے اہلیان مانسہرہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا چودہ سال پہلے کے مانسہرہ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے ،مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی تو آج مانسہرہ کا سماجی حلیہ تبدیل ہو چکا ہوتا اور خوشحالی کا دور دورہ ہوتا،انہوں نے اس موقع پر مانسہرہ کی پسماندگی اور غربت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خطاب میں ضلع مانسہرہ کی تقدیر بدلنے کے لئے مانسہرہ میں خواتین یونیورسٹی،سوئی گیس کی فراہمی سمیت بڑے تعمیراتی منصوبوں کا وعدہ کیا تھا اور با الکل اسی طرح کے وعدے چند روز قبل انہوں نے اوکاڑہ کے جلسہ میں دوہرائے ہیں۔
اگر چہ ان وعدوں پر آج تک کوئی عملدرآمد نہیں ہو سکا،شائد آمدہ الیکشن مہم میں بھی عوام کو چار سال پرانے لولی پاپ پر ہی ٹرخایا جائے گا کیوں کہ مسائل آج بھی وہی ہیں جو چار سال پہلے موجود تھے اگربرسر اقتدار آنے والی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کی چارسال کی کارکردگی اور ایک ایک انتخابی وعدے پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حکومت صرف توانائی کے شعبہ میں تاحال تبدیلی نہیں لا سکی،جو حکومت اپنے ملک کو درپیش توانائی کا داخلی نوعیت کا مسئلہ حل کرکے شہریوں کی انرجی کی ضرورت پوری کرنے اور روشنی فراہم کرنے کی اہلیت نہ رکھتی ہو اس حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ معاشی غربت،سماجی بد حالی،سیاسی پسماندگی اور علمی ابتری جیسے انسانی ترقی سے جڑے ہوئے بڑے مسائل حل کرنے کی اہلیت اور ارادہ رکھتی ہے تو یہ سنجیدہ سوچ رکھنے والوں کا پاگل پن ہی کہلائے گا۔
روٹی کپڑا اور مکان کے بعد ایڈ نہیں ٹریڈ کا انتخابی سلوگن تیار کرنے والوں کی پاکستانی ووٹرز کی نبض شناسی سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر انتخابی مہم کے بعد ان نعروں کی بنیادوں پر برسر اقتدار آنے والے حکمرانوں نے” روٹی ،کپڑا اور مکان” یا” ایڈ نہیں ٹریڈ ”کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش،پیش رفت ،پالیسی بھی ترتیب دی یا اس ریڈی میڈ سلوگن کو اگلی انتخابی مہم کے لیے غلاف پہنا کر تاک میں رکھ دیا؟یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا سوال ہے جو ہر با شعور شہری کی زبان پر اور ذہنوں میں کلبلا رہا ہے؟حقیقت پسندانہ طریقہ کار تو یہ تھا کہ ملک کو درپیش سیاسی،سماجی اور معاشی مسائل کا الگ الگ تجزیہ کیا جاتا،خرابی کی کیفیت،نوعیت اور شدت کا اندازہ لگایا جاتااور دوسرے مر حلے میں ان مسائل کے باہم تعلق کی کھوج لگائی جاتی۔
مثال کے طور پر آبپاشی کے بحران کا وفاق کی اکائیوں میں موجود تعلقات سے کیا تعلق ہے ،شہری منصوبہ بندی اور ٹریفک کے مسائل کو آبادی میں اضافے سے کیا سروکار ہے،ماحولیاتی آلودگی کتنے مسائل کی ماں ہے؟شدت پسندی کا کاشتکار اور مالی کون ہے،آبادی میں اضافے کا خواندگی کی شرح سے کیا واسطہ ہے،خواندگی اور اعلیٰ تعلیم کے مسائل کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؟ناخواندگی کی بڑھتی ہوئی شرح کا معاشی ترجیحات سے کیا رشتہ ہے ،معاشی ترجیحات کے درست نہ ہونے کا جمہوری عمل کی کمزوری میں کتنا ہاتھ ہے،جمہوری عمل کے انحطاط اور اور سیاسی جماعتوں کی کمزوری میں کیا تعامل پایا جاتا ہے سیاسی جماعتوں کی ثقافت کا زرعی ملکیت کی نوعیت سے کیا تعلق ہے،ذرائع ابلاغ کی پسماندگی کس طرح جمہوری قدروں سے اغماض پر منتج ہوتی ہے اور سالانہ ترقیاتی سکیموں کے فنڈز کیسے برمودہ ٹرائی اینگل کی نذر ہو رہے ہیں اور توانائی کا مسئلہ قوم کی معیشت اور نفسیات کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہا ہے۔۔۔۔؟
تیسرے مرحلے پر ان تمام بحرانوں میں مشترک نکات کی نشاندہی کی جاتی ،مختلف شعبوں میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے شعبہ جاتی اقدامات کی نشاندہی کے علاوہ اس بنیادی خرابی کا سراغ لگایا جاتا جس کی موجودگی میں قومی بحران کے جملہ پہلوئوں میںموثر اور دیرپاء بہتری لانا ممکن نہیں ہے۔اس میںکوئی شک نہیں کہ قومی سلامتی کی ریاست کی فکری پالیسی سے پاکستان میں زندگی کے ہر شعبہ میں بحران پیدا ہوئے،بنیادی طور پر ریاست اور عوام میں عدم اعتماد ،ادارہ جاتی شفافیت کا فقدان اور حکمرانی کے جواز سے منسلک اجتماعی بحران آہستہ آہستہ ریاست کی رگ رگ میں خرابی کی صورتیں پیدا کرتا ہے۔
ریاست کو لا حق بنیادی خرابی سے نظریں چرانے کا ایک ڈھنگ یہ ہے کہ مختلف شعبوں میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو وسیع تر تناظر سے الگ کر کے دیکھا جائے ۔مثال کے طور پر زرعی پیداوار میں کمی اور آبپاشی سے منسلک مشکلات کو خالص تکنیکی مسائل قرار دیا جائے اور ان مسائل میں سیاسی عمل کی نوعیت کو نظر انداز کر دیا جائے، آبادی میں اضافے کی شرح کو اس کے اقداری نظام سے جوڑ کر نہ دیکھا جائے جس میں افزائش آبادی کے موضوع کو فحاشی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔نصاب تعلیم پر غور فکر کرتے ہوئے اس کے موضوعات اور لغت کو قومی سیاسی مکالمے سے الگ کرکے دیکھا جائے،لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ کو قومی معیشت اور نفسیات پر پڑنے والے اثرات سے الگ کرکے محض روشنی اندھیرے سے تعبیر کیا جائے،شدت پسندی کو محض دو یا تین فرقوں کی آپس کی لڑائی یا چند شر پسند عناصر کی کارستانی قرار دے کر قومی سلامتی سے جڑے اس اہم مسئلے کا سطحی تجزیہ کرکے مذہبی ہم آہنگی کی کوششیں شروع کر دی جائیں اور کچھ ایلیٹ کلاس مولویوں کو فائیو سٹار ہوٹلوں میں بلا کر دعوتیں اڑانے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور قومی وسائل کے ضیاع کو سماجی بدحالی سے الگ کرکے وسیع تناظر میں دیکھنے کے بجائے ادارہ جاتی کرپشن قرار دے کر چپ سادھ لی جائے۔
اس حکمت عملی کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مختلف شعبہ زندگی میں در آنے والی خرابیوں کو ایک سادہ اور گمراہ کن جواز کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ جیسے کچھ عرصہ سے اس خیال کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ہماری معاشی،سیاسی اور معاشرتی خرابیوں کی اصل وجہ ہے۔اس جواز میں رجعت پسند سیاست کے لیے بہت سی سہولیات چھپی ہوئی ہیں اور رائے عامہ کو اپنی تجزیاتی توانائیاں صرف کرنے کے لیے ایک غیر حقیقی ہدف میسر آجاتا ہے اور قومی بحران کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹ جاتی ہے اور عوام میں تعصب،کم علمی اور تفرقے جیسے منفی رجحانات فروغ پاتے ہیں۔
اس وقت پاکستان کو درپیش یہ تمام بحران ایسے مضبوط پھندے کی صورت اختیار کر چکے ہیں جو ریاست اور معاشرے کے گلے میں آویزاں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایڈ نہیں ٹرید جیسے نعرے یا روٹی ،کپڑا اور مکان ،کے لواحقین کو کون سمجھائے کہ اپنی خود مختاری کے بدلے بیرونی امداد کی دست نگر پاکستانی معیشت کو خود کفالت کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے خوش کن نعروں کی نہیں ، اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے اور اچھی حکمرانی جامع منصوبہ بندی،جواب دہی،شفافیت اور جمہوری رویوں کو اپنائے بغیر نا ممکن ہے۔
چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کو گیم چینجر منصوبہ قرار دے کر اس بڑے معاشی منصوبہ سے ضرور توقعات وابستہ کیجیے ،اس خوشی میں خوب جشن بھی منائیے مگر عرض یہ ہے کہ اونٹ گھر میں لے آئے ہیں تو گھر کے دروازوں پر بھی توجہ دی جیئے۔۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}