زبان و بیان — پروفیسر لیاقت علی عظیم

زبان و بیان
1.ایک لفظ ہے جبریل۔ بہت سے لوگ اسے غلط لکھتے ہیں ۔یہ لفظ جبرآئیل نہیں ہے بلکہ اصل لفظ جبریل ہےیعنی یہ پانچ حروف ہیںجیسے ج ب ر ی ل ۔یعنی JIBREEL ۔جبکہ لفظ جبرآئیل میں سات حروف ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہےکہ یہ لفظ قرآن کریم میں جبریل ہی آیا ہے تو میں سمجھتا ہوں قرآن کریم کے الفاظ میں رد ّو بدل کرنا نہ صرف جہالت ہے بلکہ اثم کبیر ہے یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔
علّامہ اقبال کی ایک کتاب کا نام بھی بالِ جبریل ہے۔
دلیلِ قرآن
قرآن حکیم میں یہ لفظ 3 بار آیا ہے۔……
1. سورۃ البقرۃآیۃ نمبر 97
2.سورۃ البقرۃ آیۃ نمبر 98
3.سورۃالتحریم آیۃ نمبر 4
سورۃ البقرۃکی آیۃ نمبر 98 میں ہے ۔۔۔
مَنْ کَانَ عُدُوًّا لِلّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہ وَ رُسُلِہ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکاَلَ ۔۔۔۔۔۔۔۔
مندرجہ بالا آیۃ مبارکہ میں ایک اور فرشتے کا نام بھی آیا ہے وہ ہے میکال Meekal لوگ اسے بھی میکائیل لکھتے اور بولتے ہیں جو کہ سراسر جہالت ہے ۔اس کی بنیادی وجہ ان دونو ںناموں کے علاوہ دو اور نام ہیں جو اپنی جگہ بالکل درست ہیںجیسے عزرائیل اور اسرافیل ۔
پس ان ناموں کی وجہ سے لوگ غلطی سے جبریل کو بھی جبرائیل اور میکال کو بھی میکائیل بولتے ھیں ۔۔۔۔
پس آئندہ سے انسان کو اس بڑے گناہ سے بچنا چاہیے اور درست الفاظ کا ہی استعمال کرنا چاہیے۔۔۔
وما علینا الا البلاغ

You may also like this

16 May 2017

ﺍﺭﺩﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ۔۔۔ شورش کشمیری

<div dir="auto"><span style="font-size: 20px;">*ﺁﻏﺎ ﺷﻮﺭﺵ ﮐﺎﺷﻤﯿﺮﯼ ﻣﺮﺣﻮﻡ*</span

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}