زیادہ بگڑے ہوئے بچے کی تربیت کیسےکریں؟ ۔۔۔ جیمس پاو -ترجمہ :محمد اویس سندھو

تعلیم وتربیت ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور والدین کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بہترین تعلیم وتربیت کریں ۔کچھ بچے پیدائشی طور پر اور کچھ بچے ماحول کی خرابی کی وجہ سے بگڑ جاتے ہیں تو ایسے بچوں کی تربیت والدین اور اساتذہ کے لیے ایک کھلا چیلنج بن جاتی ہے ، جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہوجاتے ہیں ایسے بچوں کی اقسام اور تربیت کی حکمت عملی اورماہرین کی آرا درج ذیل ہیں۔
قریباً بیس سال پہلے Stella Chess اور الیگزنڈر تھامس نے بچوں کی توسیعی آزمائش کی۔ (Extensive Testing) ۔انہوں نے نو مختلف رجحانی خصوصیات (Temperomental characteristic) کو آزمایا جیسے کہ منفی یا مثبت صورتحال کے رد عمل کی شدت‘ غصہ اور ناکامی و مایوسی کی سطح‘ دل لگی(پیار) (Offection) ‘ کسی کام میں دھیان دینے کی اہلیتFocus on Activities) (To اور عام موڈ (General Mood)۔
انہیں پتہ چلا کہ ہر بچے کا ایک منفرد مزاج ہوتا ہے جو کہ ساری زندگی قائم رہتا ہے۔ (یہ بات ہر ماں کے علم میں ہوتی ہے) انہیں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ ہر دس میں سے ایک بچہ ایسا ہوتا ہے جس میں اوپر بیان کی گئی ساری خصوصیات کے حوالے سے بہت شدت پائی جاتی ہے اور اسی وجہ سے اس کی پرورش بہت مشکل ہوتی ہے۔
بہت سے بچے ایسے بھی ہیں جو زندگی میں اچھے اور برے کا سامنا کرتے وقت ذہنی توازن قائم رکھتے ہیں۔وہ خوشگوار چیز کامزہ لیتے ہیں اور تکلیف دہ چیز کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایسے بچے زندگی سے شاذونادر ہی مغلوب ہوتے ہیں۔ اس قسم کے بچوں سے نپٹنا بہت آسان ہے اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے استعمال ہونے والی ہر ٹیکنیک ان پر قابل عمل ہوتی ہے۔
حساس طبیعت رکھنے والے بچے کے ساتھ بھی زندگی اتنی آسان نہیں ہوتی۔ اس قسم کے بچوں کو موڈ میں بہت وسیع اور شدید قسم کی تبدیلیوں کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ جہاں ایک اوسط درجے کا بچہ ذرا سی تنگی محسوس کرتا ہے‘ حساس قسم طبیعت رکھنے والا بچہ بہت ہی پریشانی اور غصہ کا اظہار کرتا ہے اور اس طرح اپنے گرد بسنے والوں کی زندگی بھی مشکل کر دیتا ہے۔ ایسے بچوں کو ہر چیز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے‘ نظم و ضبط‘ حوصلہ اور نگران۔ ان بچوں کو بھی ہم (Disturbed) نہیں کہہ سکتے بجائے اس کے ان بچوں میں جذباتی ردعمل زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
اوسط درجے کا بچہ کسی ایک یا دو معاملات میں والدین کے لیے مشکل کا باعث بنتا ہے۔ کئی بچے ہوم ورک کرنے سے لڑتے ہیں یا ان کو صبح اٹھانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حساس بچہ ہر جگہ اور ہر میدان میں ہی مصیبت اور اذیت کا باعث ہوتا ہے اور اس کا ردعمل بھی عام بچوں سے دس گنا زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب ایک والدین سے پوچھا گیا کہ ان کا بچہ کسی معاملے میں ان کو زیادہ تنگ کرتا ہے؟ تو ان کا جواب تھا‘ ’’وہ کس معاملے میں نہیں کرتا؟‘‘۔
حساس بچوں کو سکول کے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالنے میں دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ سکول کے ماحول میں چونکہ بچے کا واسطہ نئے اصول‘خواہشوں اور امیدوں سے پڑتا ہے۔ بچے کو دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا اور ماحول کا حصہ بننے کے لیے ہم آہنگی پیدا کرنا سیکھنا چاہیے۔ آپ کو حساس بچے کے لیے ایک بہتر حکمت عملی اور ایک قابل عمل ڈسپلن پروگرام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کام میں یہ کتاب آپ کی مدد کرے گی۔
ہماری کتاب بچوں کے رویوں سے متعلقہ مسائل اور بچوں کو معاشرتی تربیت اور ان کا تعلیمی کیرئیر بہتر بنانے میں آپ کی راہنمائی کرے گی۔ آپ بچے کے کردار میں تو تبدیلی لا سکتے ہیں مگر اس کے جذبات میں نہیں۔ آپ بچے کو ہوم ورک کرنے‘ سکول جانے‘ نہ لڑنے (لڑائی جھگڑانہ کرنے ) پر مجبور تو کر سکتے ہیں لیکن اس بات پرنہیں کہ وہ ان کاموں کو پسند بھی کرے۔
کچھ والدین اس بات پر بھی مطمئن نہیں ہوتے کہ ان کے بچے صفائی رکھتے ہیں یا ہوم ورک کرتے ہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ کام وہ دلجمعی اور جوش و خروش سے کریں۔ یہ ایک غیر حقیقی امید ہے۔ والدین ہونے کی حیثیت سے ہم زیادہ سے زیادہ یہ امید کر سکتے ہیں کہ جب ان کا رویہ بہتر ہو گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

اس باب میں ہم نے بچے کے تعلیمی تجربات کا جائزہ لیا اور ان عمومی مسائل کا ذکر کیا جو کہ بچے کو تعلیمی مسائل کے دوران در پیش ہوتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح لیبلز اور دلائل بہانوں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں‘ اور اکثر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس باب میں بگڑے ہوئے اور پریشان حال بچے کا بھی ذکر تھا جسے نظم و ضبط اور نگرانی کی زیادہ ضرورت تھی۔ آخر میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہم رویہ تو بدل سکتے ہیں لیکن جذبات نہیں۔

اقتباس : از کتاب آپ کا بچہ کیسے کامیاب ہو

۔ 30 20 480 0304کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے

You may also like this

09 October 2017

غلط ترتیب کے غلط نتائج ۔۔۔ اریبہ فاطمہ

<p style="text-align: justify;"></p> <p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}