جمہوری نظام میں اپوزیشن کا کردار ۔۔۔ صاحبزادہ محمد امانت رسول

جمہوری نظام میں انتخابات کی بہت اہمیت ہے۔ انتخابات درحقیقت عوام کا اختیار ہے ،وہ جس جماعت کے حق میں چاہیں اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ دانشور ،سیاستدان اور علماء کرام اسی حق کو صحیح استعمال کرنے کے لئے عوام میں شعور و آگہی کی تحریک برپا کیئے رکھتے ہیں تاکہ لوگ اپنے حق کا صحیح استعمال کریں اور غلط امیدوار کو منتخب نہ کریں۔ ووٹ دینا ایک طرف عوام کاحق ہے جس سے اسے محروم نہیں کیا جا سکتا ۔ دوسری طرف یہ بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے،اگر عوام اس ذمہ داری کو صحیح طریقے سے ادا نہیں کرینگے تو دنیا میں ہی نہیں آخرت میں بھی جواب دہ ہو ں گے اور یہ جواب دہی’’اَن توء دوالاما نات الی اھلھا‘‘کے ماتحت ہو گی۔ دانش کا تقاضا یہ ہے کہ عوام پانچ سال رونے کے بجائے،فقط ایک دن ا پنے ووٹ کا صحیح استعمال کرے۔
جمہوری معاشروں میں انتخابات کے بعد دو گروہ (حزب) سامنے آتے ہیں ایک حزب اقتدار دوسرا حزب اختلاف ۔حزب اقتدار وہ ہے جسے عوام کی اکثریت ووٹ کے ذریعے منتخب کر کے حکومت بنانے کا اختیار دیتی ہے ۔ حزب اختلاف ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جو عوامی حمایت حاصل کرنے میں دوسرے نمبر پہ ہوتا ہے ۔ حزب اختلاف کے متعلق ہر گز خیال نہیں کیا جانا چاہئے کہ یہ وہ گروہ ہے جو عوامی حمایت سے محروم رہتا ہے ۔ عوامی حمایت اسے بھی حاصل ہوتی ہے لیکن حزب اقتدار کے بعد … …اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حزب اختلاف کا اصل کردار کیا ہوتا ہے۔ حزب اختلاف کا اصل کردار حکومت کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دینا ہے اور وہ ٹف ٹائم پارلیمنٹ میں دینا ہے۔ سڑکوں پر مظاہروں ، دھرنوں اور جلسوں میں ٹف ٹائم دینا جمہوری روایات کے خلاف ہے۔
اپوزیشن کے کردار و ذمہ داری سے متعلق جہاں تک میں نے مطالعہ اور تحقیق کی ہے۔ مجھے یوں سمجھ آتی ہے کہ اس کا کردارنگران کا ہے جوکمرہ امتحان میں بیٹھے طلباء پر نظر رکھتا ہے کہ کہیں وہ نقل نہ کریں۔ اپوزیشن حکومت کا قبلہ درست کرنے اور رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کا کردار سراسر آئینی اورقانونی ہے۔ الیکشن سے قبل اور دوران ، سیاستدان انتخابی جلسوں کا اہتمام کرتے اور اپنا Manifestoعوام کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ حکومت میں آنے کے بعد ،ان کی معاشی ،تعلیمی اورفلاحی پالیسیز کیا ہوںگی اس سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں۔ وہ عوام کو قائل کر تے اوریقین دلاتے ہیں کہ ہم ضرور اپنی پالیسیوں پر عمل کریں گے۔ وہ بھرپور انتخابی مہم چلاتے، محلوں، علاقوں ، گلی کوچوںاور سڑکوں پہ کیمپ لگاتے اور لوگوں کو ہر طرح اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ مسلسل کاوش و کوشش کے بعد عوام کا فیصلہ سامنے آ جاتا ہے۔ اب وقت کام کا ہوتا ہے حکومت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے اور اپوزیشن اپنا کردار ادا کرے، اب دونوں کا میدان سڑکیں اور گلیاں نہیں بلکہ پارلیمنٹ بن جاتا ہے۔ اگر اپوزیشن پارلیمنٹ میںاپنی حاضری کو یقینی بنائے اپنی سیاسی دلچسپیوں کا مرکز پارلیمنٹ کو بنائے یعنی قانون سازی میں بھرپور شرکت کرکے حکومتی وزراء کو سوال و جواب کے کٹہرے میں لائے،حکومتی پالیسیوں ، فیصلوں اور ارادوں پہ کھل کر تنقید کرے اور ساتھ ساتھ ان کی راہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دے تو عوام اور ملک کی اس سے بڑی اور کوئی خدمت نہیں ہے۔
حکمران پارٹی کے بعدملکی قیادت اپوزیشن ہوتی ہے ۔ اپوزیشن کو زمامِ اقتدار سنبھالنے کے لئے اپنے میں وہ صلاحیت و اہلیت پیداکرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کاخلاء وہ حکومتِ وقت میں محسوس کرتی ہے۔ اپوزیشن درحقیقت متبادل قیادت ہوتی ہے جو حکومتِ وقت پہ واضح کرتی ہے کہ اس میں ملک چلانے اور ملکی معاملات کو باحسن طریقے سے سرانجام دینے کی صلاحیت و قابلیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس قابلیت کا اظہار ، داخلی اورخارجی مسائل کے حل کیلئے اس کی جدوجہد اور بصیرت سے ہوتا ہے۔مظاہرے ،جلوس اور جلسے عوامی جذبات کا رخ موڑنے کا کام تو کر سکتے ہیں لیکن سنجیدہ اور مستحکم
سیاسی روایات کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ ان سرگرمیوں سے ردعمل، لااُبالی پن اور عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دیا جا سکتا ہے لیکن ایسی سرگرمیاں ملک کی ترقی و فلاح کے لئے کسی طرح بھی کارآمد ثابت نہیں ہو سکتیں۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا منشور عوامی خدمت ہوتا ہے لیکن ہم عوامی خدمت کواقتدارکے ساتھ مشروط کردیتے ہیں۔ اپوزیشن کی سیاست اقتدار، اقتدار اور فقط اقتدار کی سیاست ہوتی ہے۔ اس کے پاس سب سے بڑا ہتھیار ’’حکومت کی کرپشن’’ کا نعرہ ہے ۔ وہ عوام کو یہ باور کر انے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ حکومت اتنی کرپٹ ہے کہ اگر کچھ اور عرصہ برسرِاقتدار رہی تو ملک کا دیوالیہ ہو جائے گا۔ لہٰذا اقتدار ہمارے حوالے کیاجائے، ہم اس ملک کے مسائل کو حل کریں گے۔ ہر برائی، خرابی اور نقصان کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ حکومت ابھی اقتدار کے ’’ہنی مون‘‘ کے عرصہ میں ہوتی ہے کہ اپوزیشن سڑکوں پہ نکل آتی ہے ۔پہلے روز سے اپوزیشن کی کوشش ہوتی ہے کہ حکومت کو چلنے نہ دیا جائے۔ اپوزیشن کا یہ رویہ فقط حکومتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ اپوزیشن اپنی ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برآں نہیں ہوتی۔ عوام حکومت سے توقع رکھتے ہیںکہ وہ ان کے مسائل حل کرے لیکن عوام کو اس بات کا شعور نہیں دیا جاتا کہ انہی کے حق میں ایک طاقتور آواز اپوزیشن ہے جس کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں عوام کی آواز بنے۔ جہاں جہاں حکومت کی پالیسیاں عوام دوست نہ ہوں وہاں اپوزیشن اُن کمزوریوں کی نشاندہی کرے ۔گزشتہ چار سال سے اپوزیشن یک نکاتی ایجنڈے پہ کام کر رہی ہے اور وہ’’ورزیراعظم کا استعفیٰ‘‘ ہے۔ میں ہر گز یہ نہیں کہتاکہ حکومت نے کرپشن نہیں کی اور مجھے اپوزیشن کے متعلق بھی یہ خوش گمانی نہیں ہے کہ اگر وہ برسرِ اقتدار آئے تو کرپشن نہیں کرے گی ۔اگر کرپشن کے کلچر کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں اپنے سماج اور سماجی رویوں سے اس کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ یہ ایسا کام نہیں ہے جو حکومت کی تبدیلی سے مشروط ہے۔ ہمیں کرپشن کے خلاف کوششیں اقتدارکے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے نہیں بلکہ مضبوط اورصحت مند روایات
کے قیام کیلئے کرنی ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}