امام شاہ ولی اللہ ،مولانا عبید اللہ سندھی اور عصر حاضر کا نوجوان — محمد عباس شاد

کسی بھی سوچ اور نظریے کے حامل افراد کو جب منزل نہ ملے تو سوالات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ ایسی جماعتیں جو کسی نظریے اور پائیدار سوچ کے بجائے وقتی ایشوز اور نعروں پر اپنی جماعتی عمارت کی تعمیر کرتی ہیں، ان کے عارضی وجود کو ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔ پے در پے وقتی ایشوز اورجذباتی نعرے ان کے وجود کو عارضی آکسیجن تو فراہم کرتے ہیں، لیکن ان جماعتوں کو ٹھوس وجود دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ 
پاکستانی سیاست کی خالق جماعتیں کچھ ایسے ہی ایشوز اور نعروں پر اپنے وجود کو دھکیلتی رہی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہوکر نئے نئے ناموں سے تاریخ میں سفر کرتی رہی ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل برصغیر میں ہندومسلم تنازعہ، ہندو اکثریت کا خوف، علاحدہ وطن کا حصول، اسلامی ریاست کا خواب اور بعد از قیامِ پاکستان کشمیر تنازعہ، ماضی کی ہندومسلم منافرت، جہادِ افغانستان جیسے ایشوز پر ان جماعتوں نے اپنے وجود کو برقرار رکھا ہے۔ سیاسی جماعتیں جو براہِ راست مسندِ اقتدار پر قابض ہوتی ہیں یا اپوزیشن کا دم بھرتی ہیں، وہ اپنے سیاسی وجود کو قائم رکھنے کے لیے قدرے کم اور چھوٹے چیلنجز سے دوچار ہوتی ہیں۔ بہ نسبت ان جماعتوں کے جو اپنے آپ کو نظریاتی کہلوانے پر مُصِر ہوتی ہیں یا اسلامی ہونے کی دعوے دار ہوتی ہیں۔ آج کل پاکستان میں موجود مذہبی سیاست کی حامل قوتیں کچھ اسی قسم کے چیلنج سے دوچار ہیں۔
دو سپر پاورزکے درمیان سرد جنگ کے خاتمے نے ان ایشوز پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے کئی چلتے کاروبار ٹھپ کردیے تھے۔ اب عالمی سیاست میں نت نئی تبدیلیوں اور بدلتی ہوئی حکمتِ عملیوں نے مذہبی سیاست کے کئی خواب بھی چکنا چور کردیے ہیں۔ افغانستان میں جیسی تیسی قومی حکومت کے قیام نے ’’جہاد‘‘ کے سہارے وجود پذیر ایک پوری معیشت کی عمارت کو متزلزل کردیا ہے۔ بالآخر کشمیر ایشو سمیت سارے مسائل نئے تجارتی راستوں اور کاروباری پالیسیوں کی نظر ہوکر اپنا وجود کھو بیٹھیں گے اور ستر سال قبل تراشے گئے مسائل پر اب پُرانی سیاست کے کھیل کے تسلسل کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
ایسے میں دینی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے کام کرنے والے نوجوان کئی ایک مخمصوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے سوالات کے جوابات ان کی قیادت کے پاس نہیں ہیں۔ کیوں کہ جس قیادت نے کشمیر اور افغان پالیسی کے زیر اثرسوشل اِزم کے خطرے اور ہندو دشمنی پراپنی سیاست کی ساری عمارت کھڑی کی تھی، اب نہ تو اس میں نوجوانوں کے لیے کوئی کشش رہی ہے اور نہ یہ ایشوز اب ریاست کی ضرورت رہے ہیں۔
ان بے چین نوجوانوں کے سوالات کے جوابات اگر کہیں ہیں تو وہ امام شاہ ولی اللہ کی  فکر میں ہیں۔ ولی اللّٰہی فکر کی اساس وقتی نعروں اور جذباتی فضا میں کسی تخلیق کیے گئے نظریۂ ضرورت کے بجائے سوسائٹی کی مستقل تعمیر وتشکیل کے ان نظریات و اَفکار پر ہے، جنھیں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن حکیم میں تدبر و بصیرت، اَحادیثِ نبوؐیہ میں محققانہ طرزِ فکر، تصوف اور علومِ دینیہ وشرعیہ کی روشنی میں انسانیتِ عامہ کی ترقی کی ایک ایسی سماجی حکمتِ عملی پیش کی ہے، جس پر عمل کرکے جہاں ہم سرمایہ دارانہ نظام کے جبر اور سوشل اِزم کی مذہب بے زار تعلیم سے بچ سکتے ہیں، وہاں جدید عہد کے صنعتی اور مشینی تقاضوں کو بھی پورا کرسکتے ہیں۔
مولانا عبید اللہ سندھیؒ طویل جلاوَطنی کے بعد جب وطن لوٹے تو انھوں نے اپنی ساری زندگی کے تجربات کی روشنی میں یہ جانا کہ اس خطے کے مسائل کا حل امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفے کے سوا اَور کہیں نہیں ہے۔ اور ان کے اس رسوخ اور پختگی کی وَجہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی حکمت اور فلسفے کا گہرا مطالعہ تھا۔ چناں چہ وہ فرماتے ہیں: 
’’شاہ ولی اللہؒ کے فلسفے سے ہمارا تعلق پچاس برس سے دنیا جانتی ہے۔ اس وقت ہم اپنی تحقیقات کا نچوڑ آئندہ نسل کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستانی قومی فکر میں ایک معقول خیال کا اضافہ کریں‘ جس سے ایک مسلمان بھی اپنے ہندوستانی ہونے پر اسی قدر فخر کرسکے، جس طرح دنیا کے عقل مند محبانِ وطن مسلم ہوں یا غیر مسلم‘ اپنے اپنے وطن کی عزت پر ناز کرتے ہیں۔ وہ خیال دنیا کے ایک غیر معروف، لیکن بہت بڑے فلاسفر امام ولی اللہ دہلویؒ کا فلسفہ ہے۔‘‘ (خطبات ومقالات)
اور پھر وہ اپنے مسلک اور مکتبۂ فکر کے اربابِ اختیار سے اس فلسفے کو داخلِ نصاب کرنے کی تلقین بھی کرتے رہے۔ چناں چہ وہ فرماتے ہیں:’’جمعیت علمائے ہند جیسی جماعت کو میں زور سے دعوت دیتا ہوں کہ وہ امام الائمہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفے پر استقلالی نظر ڈالے اور اپنے مدارس اور مجالس میں اس کو رَواج دے۔‘‘ (خطبات ومقالات)
مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے فکر پر پہلا حملہ دیوبند تحریک کی اساسی فکرکے علیٰ الرغم قائم حلقوں نے کیا تھا،لیکن حضرت سندھیؒ کے دو مقالات ’’شاہ ولی اللہؒ کی حکمت کا اجمالی تعارف‘‘ اور ’’شاہ ولی اللہؒ اور اُن کی سیاسی تحریک‘‘ نہ صرف مُسکِت جواب ثابت ہوئے، بلکہ ہندوستان کے علمی حلقے ان سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اوّل الذکر مقالے کو مدیر ’’الفرقان‘‘ مولانا منظوراحمد نعمانیؒ نے ولی اللّٰہی علوم ومعارف کے لیے بنیادی لٹریچر تسلیم کیا اور حضرت سندھیؒ کے ولی اللّٰہی حکمت پر مطالعے کو گہرا اور عمیق قرار دیا اور مولانا سیّد سلیمان ندویؒ نے بعداز مطالعہ اپنے تأثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ’’مولانا سندھیؒ کے مضمون کو میں نے بہ غور پڑھا اور اس یقین کے ساتھ ختم کیا کہ بے شک مولانا کی نظر حضرت شاہ صاحبؒ کے فلسفے اور نظریات پرنہایت وسیع اور عمیق ہے۔‘‘
دوسرا حملہ حضرت سندھیؒ کی فکر پر پاکستان میں اپنے آپ کو دیوبندی کہلانے والوں نے اس وقت کیا، جب دنیا حضرت سندھیؒ کوولی اللّٰہی حکمت کا شارح اور حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کا جاں نثار مان رہی تھی تو مودودی اور ندوی فکر سے متأثر پاکستان کے بعض دیوبندی حلقے ان کے بارے میں نوجوان نسل میں بدگمانی پیدا کرنے میں مصروف تھے۔ 
کیوں کہ جہادِ افغانستان اور دیگر وقتی ایشوز پر تمام مذہبی قوتوں کو مقتدر حلقوں کی جانب سے اکٹھا کیا جاچکا تھا اورمولاناسندھیؒ سے متأثر نوجوان نعروں کی سیاست کا آلۂ کار نہیں بنے۔ وہ جہادِ افغانستان کی سیاست کا ایندھن نہیں بن سکتے تھے۔ اس لیے انھیں مولانا سندھیؒ سے دور کرنا وقت کی سامراجی سیاست کا تقاضا تھا۔ 


آج کل پھر سوشل میڈیا مولانا سندھیؒ پر گفتگو اور بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جس پر تین قسم کے نوجوان اور دانش ور آمنے سامنے ہیں: ایک طبقہ وہ ہے جو موجودہ مذہبی طبقوں سے بدظن ہوکر کسی نئے راستے کی تلاش میں ہے۔ اس نے مولانا سندھیؒ کا نام تو ایک روشن خیال عالم دین کے طور پر سن رکھا ہے، لیکن ابھی ان کی فکر کے بنیادی ماخذوں تک اس کی رسائی نہیں ہوئی۔ مولانا سندھی ؒ سے متعلق جو جیسا جہاں سے ملا، پڑھ لیااور ایک رائے قائم کرلی۔ یہ طبقہ بعض اوقات امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے فکر کے گزشتہ ساٹھ سال سے محافظ حلقے پر جملے کستا بھی نظر آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے شاہ ولی اللہؒ اور مولانا سندھیؒ پر قبضہ کررکھا ہے۔ اس طبقے سے گزارش یہ ہے کہ فکر آفاقی اور انسانی ہوتا ہے۔ اس پر کسی کا قبضہ نہیں ہوتا، لیکن اس فکر کے دفاع اور فروغ کے حوالے سے جو اوّلیت کی فضیلت ولی اللّٰہی فکر پر مبنی جماعت، سلسلۂ رائے پور اور ادارہ رحیمیہ کے متوسلین کو حاصل ہے، اس سے آپ انھیں محروم نہیں کرسکتے۔


ایسے ہی خیال کے حامل دوست کو بیرونِ ملک مقیم دانش ور اور قانون دان جناب سلمان یونس نے مندرجہ ذیل جواب دیا ہے: ’’یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ جب روایتی مذہبی طبقہ باجماعت ضیاء الحق کی امامت میں امریکا کے سپانسرڈ جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا توتنظیم فکر ولی اللّٰہی اس وقت بھی شاہ ولی اللہؒ ، حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ ، مولانا سیّدحسین احمد مدنی ؒ اور مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کے افکار اور منہج پر قائم رہی اور ’’افغان جہاد‘‘ کو فساد ہی کہتی اور سمجھتی رہی۔ یہ بات بھی شاید آپ کو معلوم ہو کہ جمعیت طلبائے اسلام جو کہ ایک خالص نظریاتی اور آزاد پلیٹ فارم تھا، پر جے یو آئی کی طرف سے مارے گئے شب خون کی راکھ سے فکرِ ولی اللّٰہی کی تنظیم ہوئی تھی۔ ‘‘ 


دوسرا طبقہ وہ ہے جو ابھی تک مسموم پروپیگنڈے کا شکار ہے۔ مولانا سندھیؒ کا نام آتے ہی وہ اپنے ذہن میں منفی سوالات کا ایک سلسلہ قائم کرلیتا ہے اور سنی سنائی باتوں پر اپنے خود ساختہ فیصلے پر پہنچ کر مولانا سندھیؒ سے گریزاں رہتا ہے۔اس طبقے سے گزارش ہے کہ وہ ایک بار مولانا سندھی ؒ کے دروازے پر بھی حاضری دے۔ مخالفین کی بنائی تصویر پر فیصلے کے بجائے ان کی اپنی تعلیمات کو ان کے اپنے لٹریچر سے سمجھنے کی کوشش کریں۔
تیسرا طبقہ وہ ہے جو مولانا سندھی ؒ سے اپنے کسی خاندنی ماحول یا پاکستان میں مولانا سندھی ؒ کے فکر کے فروغ کی کسی تحریک سے متأثر ہے اور وہ ان کے دفاع کی تڑپ اپنے سینے میں رکھتا ہے۔ اسے وقت کے چیلنج کو درست تناظر میں سمجھنا ہے کہ جہاں عام نوجوان درست فکر کے متلاشی ہیں، ان کی درست نہج پر تربیت کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے، وہاں اس سے بھی باخبر رہنے کی ضرورت ہے کہ جو جماعتیں مولانا سندھیؒ سے عناد کی ایک تاریخ رکھتی ہیں اور اب وہ دبے لفظوں میں مولانا سندھیؒ کا نام بھی لینے لگی ہیں اور ان کے فکر ی اثاثے کو اپنی تشریحات کا جامہ پہنانے کا حق بھی جتانے کی کوشش کررہی ہیں، وہ کہیں کسی نئے بندوبست کا حصہ تو نہیں ہیں۔ 


ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کو ایک فرد یا شخصیت کے طور پر نہیں، بلکہ حضرت شیخ الہندؒ کی جماعت کے ترجمان کے طور پر جاننا اور سمجھنا چاہیے۔ حضرت سندھیؒ ولی اللّٰہی فکر پر قائم اجتماعیت کا حصہ ہیں اور وہ اپنی اجتماعیت کی فکری میراث کے نمائندہ ہیں۔ جو لوگ انھیں اس اجتماعیت کے مدِ مقابل لاکر کھڑا کرنا چاہتے ہیں یا ان سے الگ ثابت کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی ولی اللّٰہی فکر کے خلاف سازشوں کی تاریخ میں ایک نئے داؤ پیچ کے مرتکب ہورہے ہیں۔


 

 

People Comments (1)

  • Omar May 7, 2017 at 1:19 pm

    Jazakallah.
    Please guide about the authentic literature of maulana sindhi.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}