روس اور چین — قاضی انعام

 دونوں ممالک روس  اور چین کے اندر  عوام کی ذہن سازی سوشلسٹ اور کمیونزم کی بنیادوں پر ہوئی ہے۔ وہاں کی عوام اجتما عی محنت پر یقین رکھتے ہیں اور ان دونوں عظیم اقوام کی عوام تعمیری تحقیقی اور تسخیری ذہن کے ساتھ محنت کرتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلی ایک صدی سے ان دونوں اقوام نے سرمایہ دارانہ معاشی و سیاسی جبر کا مقابلہ بڑی حوصلہ مندی سے کیا ہے اور دونوں ریاستوں نے معاشی  و سائنسی ترقی کی منازل بھی طے کی ہیں ۔

روس کا اپنی تاریخی سرحدوں کے اندر واپس چلے جانا  اور اردگرد کی چھوٹی نسلی لسانی اقوام کو آزادی دے دینا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ روس اپنی  تاریخی سرحدوں کے اندر معاشی خود انحصاری اور خوشحالی لانا چاہتا ہے ۔ اور ٹیکنالوجی میں اس کی بالا دستی خلاؤں تک ہے جب امریکہ نے اس کے اردگرد چھیڑ خانی شروع کی تو اس نے بڑی آسانی سے منہ توڑ جواب دیا ہے اور امریکہ دفاعی پوزیشن پر آگیا ہے ۔

سوشلسٹ نظام مضبوط قومی تصور کو اجاگر کرتا ہے،چین اگر مارکیٹ اکانومی کا حصہ بنا بھی ہے تو اس کی عوام کی اجتماعی ذہن سازی پر کوئی فرق نہیں پڑا ،آج امریکہ اگر ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو چین اور روس جیسے ملک اپنے وسائل پر انحصار کی بنیاد پر اپنی عوام کو خوشحال رکھ سکتے ہیں،لیکن سرمایہ داری نظام دوسروں کے وسائل اور معاشی استحصال کی بنیادوں پر قائم رہتا ہے ۔اگر معاشی استحصال اور وسائل  میں کمی آجائے تو سرمایہ داری نظام افراتفری کا شکار ہوکر سوشلسٹ تحریکوں کا حصہ بن جاتا ہے یا ایسی ریاستیں ٹوٹ پھوٹ کے عمل کا حصہ بن جاتی ہیں اور بڑی سرمایہ دارانہ قومی ریاستوں کے اندر علیحدگی پسندی کی نسلی لسانی تحریکیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کی مثال برطانیہ ،سپین اور یورپ کی دوسری سرمایہ دار ریاستیں بھی ہیں ۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}