حافظہ کے فطری قوانین — ڈیل کارنیگی – ترجمہ -محمد احسن

نامور ماہر نفسیات پروفیسر کارلؔ سیشور نے کہا تھاکہ’’ ایک عام شخص اپنی اصلی قوت حافظہ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہیں کرتا۔ فطری قوانین حافظہ کی خلاف ورزی کرکے وہ نوے فی صد قوت حافظہ ضائع کردیتا ہے‘‘۔
آپ بھی انہیں عام آدمیوں میں سے ایک ہیں؟ تو آپ میں ایک تہذیبی اور کاروباری خامی ہے۔ یہ فطری قوانین حافظہ، بڑے سادہ ہیں۔ یہ فقط تین ہیں،ہر طریقہ یادداشت کی بنیاد انہیں پر ہے۔ اختصاراً ان کے نام یہ ہیں۔ تأثر‘ تکرار اور تلازم خیالات۔
حافظے کا ایک اصول یہ ہے جس بات کو آپ اپنے ذہن میں محفوظ رکھنا چاہتے ہوں اس کا تأثر بڑا گہرا،واضح اور دیرینہ ہونا چاہئے۔ ’’تھیوڈور روز ولٹ ‘‘کا شاندار حافظہ ہر ملاقاتی کو بے حد متأثر کیا کرتا تھا۔ اس کے تأثرات نقوشِ آب کے بجائے خطوط ِسنگ ہوتے تھے۔ بد سے بدتر حالات میں بھی اس نے بے پناہ مشق کے ذریعے سے خیالات مربوط کرنے کی عادت ڈال رکھی تھی۔ 1912ء میں اس کا صدر دفتر کانگرس ہوٹل میں تھا۔ نیچے گلی میں لوگ جھنڈے ہاتھوں میں لیے شور مچا رہے تھے۔ ’’ہم ٹیڈی سے ملنا چاہتے ہیں‘ ہم ٹیڈی سے ملنا چاہتے ہیں‘‘ لوگوں کا شور و غل باجوں کی آوازیں،سیاست دانوں کی آمد و رفت،تھوڑے تھوڑے وقفے کی مجلسیں اور صلاح مشورہ ایک عام شخص کو پاگل بنانے کے لیے کافی تھے مگر’’ روز ولٹ‘‘ اپنے کمرے میں آرام سےکرسی پر بیٹھا بڑے مزے سے یونانی مؤرخ ’’ہیروڈوٹس‘‘ کو پڑھتا رہا۔ مؤرخ نے برازیل کے جنگلات میں اپنے سفر کے حالات لکھے تھے ۔ان جنگلات میں گھوم پھر کر جب وہ شام کو اپنے کیمپ میں واپس آیا تو ایک بڑے درخت کے نیچے ایک سوکھی ہوئی جگہ تلاش کرکے وہاں ایک سٹول پر بیٹھ کر گبن کی کتاب ’’سلطنت رومہ کا عروج و زوال‘‘ پڑھنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں وہ کتاب میں اس قدر محو ہوگیا کہ بارش، کیمپ کے شور و غل اور خط سرطان کے گرم جنگلات کے ہنگاموں سے بالکل متأثر نہ ہوا۔ ایسی صورت میں اس نے جو کچھ پڑھا تھا اگر اسے یاد رہ گیا تھا تو حیرت کی کون سی بات ہے۔
کئی دنوں تک ذہن کو گرد آلود رکھنے کے بجائے پانچ منٹ کی گہری اور واقعی فکر زیادہ کار گرثابت ہوتی ہے۔ ہنری وارڈ بیچر لکھتا ہے ’’ہماری پُرعمل ساعتیں ہمارے بے عمل برسوں سے بہتر ہوتی ہیں‘‘۔ آگینی گریسی نے ایک دفعہ کہا تھا : ’’جو چیز میں نے اب تک سیکھی ہے اور جو سب چیزوں سے زیادہ اہم ہے اور جس کی مشق میں ہر قسم کے حالات میں کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اپنا ہر کام پوری توجہ سے کرتا ہوں‘‘۔
قوت اور بالخصوص قوت حافظہ کے بھیدوں میں سے یہ بھی ایک بھید ہے۔

   

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}