تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے طریقے — ڈاکٹر ممتاز خان

آج دنیا کے نقشے پر وہ ہی اقوام اور ان کے افراد نمایاں نظر آتے ہیں، جن کے سماج کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کا ماحول پایا جاتا ہے۔ انسان کا مزاج و ذہنی رجحان اس کے ڈی۔این۔اے اور ماحول سے پیدا ہوتا ہے۔ ڈی۔این۔اے پر فرد کا کوئی اختیار نہیں کہ وہ کس کے گھر پیدا ہوا، لیکن ماحول کو تبدیل کرنے کی صلاحیت ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔
اگر ہم یہ بحث فرد کے گرد گھومائیں تو یہ بات ہر فرد کو یاد رکھنی چاہیے کہ تخلیقی صلاحیتیں پیدا کی جاسکتی ہیں۔ ایک انسان اپنی مسلسل محنت سے اپنے آپ کو بہت زیادہ تخلیقی بنا سکتا ہے۔ بے شک ہر فرد جہاں آنکھ کھولتا ہے وہ اس کی ذاتی ترقی کا ایک نقطہ آغاز ہوتا ہے، والدین کی وراثت فرد کے مستقبل کا کردار متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن ہر انسان اس پہ بھی پورا پورا قادر ہے کہ وہ اپنے آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھائے۔ تخلیقی صلاحیتیں کس مقصد کے لیے بڑھائی جاتی ہیں، پہلے انسان کو اپنا ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوتا ہے۔ ٹارگٹ سیٹ کرنے کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے، اس ٹارگٹ کو پورا کرنا۔ تخلیقی صلاحیتیں دراصل اسی ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے مختلف طریقوں کو سوچنے کا ہی نام ہے۔
سوچنے کا عمل بہت دشوار ہوتا ہے، لیکن اگر آپ اپنی زندگی کے باقی معاملات کو اپنے پراجیکٹ کے ساتھ جوڑ لیں تو زندگی کا رخ آپ کے پراجیکٹ کی طرف ہو جاتا ہے۔ جب آپ اپنے پراجیکٹ کو اہمیت دینا شروع کر دیں گے تو آپ اُس کے ساتھ جذباتی طور پرجڑ جائیں گے۔ جس دن آپ اپنے پراجیکٹ کے ساتھ جذباتی طور پر جڑ گئے وہ دن ہی آپ کے نکھار اور تخلیقی صلاحیتوں کا پہلا دن ہوگا۔ پھر اس کے بعد آپ کا دماغ خود کار مشین کی طرح وہ طریقے اور اصول آپ کو بتائے گا جس سے آپ کی صلاحیتیں اور زیادپ نکھر جائیں گی۔
سوکام سے جذباتی لگاؤ پہلی شرط ہے۔
جذباتی لگاؤ کیوں ضروری ہے؟
اصل میں جذبات وہ توانائی مہیا کرتے ہیں جو عقل کو چاہے ہوتی ہے۔ عقل جذبات کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ جب جذبات اور عقل کے درمیان توازن اور انڈرسٹینڈنگ (ہم آہنگی) پیدا ہو جاتی ہے تو آپ کے جذبات آپ کے کام کو کرنے کے نئے طریقے بتاتے ہیں اور یہ طریقے ہی آپ کی تخلیقی صلاحیتیں ہیں۔ اب اگر آپ مرعوب فرد یا قوم ہیں تو آپ اپنے اندر کی آواز کو نہیں سنتے۔ آپ غیروں کے طریقوں پریقین کرتے ہیں، بے شک وہ آپ کے حالات سے مطابقت رکھتے ہوں یا نہیں۔ آپ کے حالات کے مطابق جو مشورہ آپ کا ذہن دیتا ہے اس سے بہتر کوئی اور نہیں ہوتا کیونکہ آپ کے حالات آپ کے ذہن سے زیادہ کسی اور کا ذہن نہیں جانتا ہوتا۔
جذبات کو اپنے ذہن سے جوڑنے کے لیے بھی کچھ ٹوٹکے ہیں۔ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں:
۱۔ درست ماحول کا انتخاب (ماحول سے مراد آپ کے دوست، لائف پارٹنر اور خاندان کے وہ لوگ  ہیں جن سے آپ کے راہ و رسم ہیں)
۲۔ درست میڈیا کا انتخاب ( آپ فارغ اوقات میں کیا دیکھتے، سنتے اور سوچتے ہیں)
۳۔ درست رہائش اور جگہ
۴۔ درست غذا
۵۔ تنہائی کی سوچیں
۶۔ درست فیصلے و انتخاب (آپ کو زندگی میں کچھ چھوڑنا پڑتا ہے، دوسرے لفظوں میں کچھ پانے کے لیےکچھ کھونا پڑتا ہے)
۷۔ روحانی، جسمانی اور رومانوی طاقتوں کے درمیان توازن اور ان کے حصول کے لیے درست طریقے کا انتخاب
۸۔ مایوس اور بری روح کے حامل افراد سے ذہنی دوری بنائے رکھنا (اگر ہم سماجی حالات میں جسمانی دوری ممکن نہ بنا سکیں)
۹۔ اپنے پراجیکٹ کے سب ٹاسکس کو اہمیت دینا اور ان کے بارے مسلسل سوچنا
۱۰۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ اور موٹیویشنل سیمینارز میں شرکت
یہ سب کرنے کے بعد آپ میں ایک مثبت طاقت آئے گی اور آپ کا ذہن آپ کو مجبور کرے گا کہ آپ اپنے متعین راستے سے نہ بھٹکیں اور پھر اس کے حصول کے لیے اپنی ترجیحات کا تعین کریں۔ جب آپ اپنے مقصد سے جڑ جائیں گے تو پھر سارے طریقے آپ کا دماغ سوچے گا۔ آپ کے دن اچھے ہونا شروع ہو جائیں گے اور اسی دن سے آپ کی قسمت بدل جائے گی۔
اگر سسٹم یا سیاسی نظام سماجی ماحول کو بہتر کر دے تو فرد کے لیے اور آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مذید بہتر بنا لے اور تھوڑے وقت میں بہتر بنا لے۔ اگر سیاسی نظام کی ترجیحات مختلف ہوں تو پھر افراد بھی اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرتے ہیں اور وہ ان ہی پرانے راستوں کے ذریعے منزل حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ناکامی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ بیرونی ماحول اس کو سپورٹ نہیں کرتا۔ سو ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا ماحول جس میں بیرونی ماحول تخلیقی کاموں کو سپورٹ نہ کرے، تب بھی سمجھدار افراد اپنے صلاحیتوں کو دبائیں نہیں، بلکہ مناسب وقت کا انتخاب کریں۔ اپنے اوزار تیار رکھیں اور وقت آنے پہ اپنے خیالات اور پلانز کو پایا تکمیل تک پہنچائیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}