امام شاہ ولی اللہ کے اقتصادی اصول — محمد عباس شاد

یکم مئی کی شام کو حضرت امام شاہ ولی اللہ کے فکروفلسفہ اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ایک مضمون شیئر کیا گیا تھا ، یہ مضمون بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے جس میں باقاعدہ ان بنیادی سیاسی و اقتصادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔جن کی روشنی میں آج  کے سب سے زیادہ  اس سنگین مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے ان اصولوں کے کما حقہ نتائج کے لیے اس کے سپورٹیو  اور معاون نظام کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ اس میں بھی حضرت الامام  شاہ ولی اللہ کا فکر ہماری پوری رہنمائی کرتا ہے۔ 


اقتصادی اصول

1۔ دولت کی اصل بنیاد محنت ہے ۔مزدور اور کاشت کار قوت کا سبہ ہیں، باہمی تعاون شہریت کی روح رواں ہے ۔جب تک کوئی شخص ملک اور قوم کے لیے کام نہ کرے ملک کی دولت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ۔

2۔ جوا،سٹہ اور عیاشی کے اڈے ختم کیے جائیں جن کی موجودگی میں تقسیم دولت کا صحیح نظام قائم نہیں ہو سکتا اوربجائے اس کے کہ قوم اور ملک کی دولت میں اضافہ ہو ، دولت بہت سی جیبوں سے نکل کر ایک طرف سمٹ آتی ہے۔
3۔ مزدور ، کاشت کا ر اور جو لوگ ملک اور قوم کے لیے دماغی کام کریں ، دولت کے اصل مستحق ہیں ۔ ان کی ترقی اور خوشحالی ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی ہے۔ جو نظام ان قوتوں کو دبائے وہ ملک کے لیے خطرہ ہے ۔ اس کو ختم ہو جاناچاہیے۔
4۔ جو سماج محنت کی صحیح قیمت ادا نہ کرے مزدوروں اور کاشت کاروں پر بھاری ٹیکس لگائے، قوم کا دشمن ہے ۔اس کو ختم ہو جانا چاہیئے ۔
5۔ ضرورت مند مزدور کی رضامندی قابل اعتبار نہیں جب تک اس کی محنت کی وہ قیمت ادا نہ کی جائے جو امدادِ باہمی کے اصول پر لازم ہوتی ہے ۔
6۔ جو پیداوار یا آمدنی تعاون باہمی کے اصول پر نہ ہو وہ خلافِ قانون ہے ۔
7۔ کام کے اوقات محدود کیے جائیں ۔مزدوروں کو اتنا وقت ملنا چاہیئے کہ وہ اپنی اخلاقی اور روحانی اصلاح کر سکیں اور ان کے اندر مستقبل کے متعلق غور وفکر کی صلاحیت پیدا ہو سکے ۔
8۔ تعاون باہمی کا بہت بڑا ذریعہ تجارت ہے لہٰذا اس کو تعاون کے اصول پر ہی جاری رہنا چاہیے پس جس طرح تاجروں کے لیے جائز نہیں کہ وہ ’’بلیک مارکیٹ یا غلط قسم کے کمپیٹیشن ‘‘ (مقابلہ ) سے روح تعاون کو نقصان پہنچائیں ایسے ہی حکومت کے لیے درست نہیں کہ بھاری ٹیکس لگا کر تجارت کے فروغ و ترقی میں رکاوٹ پیدا کرے یا رخنہ ڈالے۔
9۔ وہ کاروبار جو دولت کی گردش کو کسی خاص طبقے میں منحصر کر دے ملک کے لیے تباہ کن ہے ۔
10۔ وہ شاہانہ نظام زندگی جس میں چند اشخاص یا چند خاندانوں کی عیش و عشرت کے سبب سے دولت کی صحیح تقسیم میں خلل واقع ہو اس کا مستحق ہے کہ اس کو جلد از جلد ختم کر کے عوام کو اس مصیبت سے نجات دلائی جائے اور ان کو مساویانہ نظام زندگی کا موقع دیاجائے۔


سیا سی اُصول

11۔ زمین کا مالک حقیقی اﷲ (اور ظاہری نظام کے لحاظ سے اسٹیٹ)ہے۔ باشندگان ملک کی حیثیت وہ ہے جو کسی مسافر خانہ میں ٹھہرنے والوں کی ہے ملکیت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حق انتفاع میں دوسرے کی دخل اندازی قانوناً ممنوع ہو۔
12۔ سارے انسان برابر ہیں ۔کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو مالکِ مُلک، ملک الناس ، مالک قوم یا انسانون کی گردنوں کا مالک تصور کرے۔ نہ کسی کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی صاحب اقتدار کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرے۔
13۔ اسٹیٹ کے سربراہ کار کی وہ حیثیت ہے جو کسی وقف کے متولی کی ہوتی ہے اگروہ ضرورت مند ہو تو اتنا وظیفہ لے سکتا ہے کہ عام باشندہ ملک کی طرح زندگی گزار سکے۔


بُنیادی حقوق

حجتہ البالغہ اور البدورالبازغہ وغیرہ تصانیف میں ارتفاقات (مفادات عامہ)کے عنوان سے بہت مفصل بحث موجود ہے۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ
14۔ روٹی، کپڑا، مکان اور ایسی استطاعت کہ نکاح کر سکے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کر سکے بلالحاظ مذہب و نسل ہر ایک انسان کا پیدائشی حق ہے۔
15۔ اس طرح مذہب ، نسل یا رنگ کے کسی تفاوت کے بغیر عام باشندگان ملک کے معاملات میں یکسانیت کے ساتھ عدل وانصاف ،ان کے جان و مال کی حفاظت ،ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ، حق ملکیت میں آزادی ، حق شہریت میں یکسانیت ہر باشندئہ ملک کا بنیادی حق ہے۔
16۔ زبان اور تہذیب کو زندہ رکھنا ہر ایک فرقہ کا بنیادی حق ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}