معمولی باتوں سے پریشان نہ ہوں— رچرڈکارلسن — مترجم زوہیب یاسر

اکثر اوقات ہم ایسی چیزوں پر بہت کام کرتے ہیں جن کا اگر ہم غور سے معائنہ کریں تو وہ اتنی اہم نہیں ہوتیں۔ہماری توجہ کا مرکز چھوٹے چھوٹے مسائل اور معاملات ہوتے ہیں اور ہمارا رد عمل ان کے بارے میں حد سے زیادہ ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ایک اجنبی شخص نے ٹریفک میں ہمارا راستہ کاٹ دیا۔بجائے اس کے کہ ہم اس واقعے کو بھول کر اپنے دن کے کام انجام دیں، ہم سارا دن اپنے غصے کو جواز دیتے رہتے ہیں۔ہم اپنے دماغ میں ایک تصوراتی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔اور ہم اس بات کو بھولنے کے بجائے اکثر اوقات دوسروں کو بھی بتاتے ہیں۔
ہم ڈرائیور کو کسی اور جگہ ایکسیڈینٹ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟جس شخص کا ایکسیڈینٹ ہواکوشش کریں کہ اس سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو اور یہ سوچیں کہ جانے وہ کس مسئلے کی وجہ سے اتنی جلدی میں تھا۔اس طرح ہم اپنی ذہنی حالت کو بہتر بنا سکتے ہیں اور دوسروں کے مسائل کو اپنی ذات پر نہیں لیتے۔
ایسے ہی واقعات کی اور بھی چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں جو ہمیں روزمرہ زندگی میں پیش آتے ہیں۔کبھی ہمیں قطار میں کھڑے ہو کر انتظار کرنا پڑتا ہے،کبھی ناجائز تنقید برداشت کرنا پڑتی اور کبھی ہمیں اپنے حصے سے بڑھ کر کام کرنا پڑتا ہے؛اور اگر ہم ان کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دیں تو ہمیں بہت فائدہ ہو سکتاہے۔
بہت سے لوگ زندگی میں آنے والے چھوٹے چھوٹے مسائل پر اتنے زیادہ پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے جادو اور اس کی خوشیوں کو ہی ختم کر دیتے ہیں۔ جب آپ اس مقصد کے لیے کام کرنے کا ارادہ کر لیتے ہیں تو آپ کو علم ہوتا ہے کہ آپ میں اور زیادہ مہربان بننے کے لیے کتنی انرجی موجود ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}