مثبت تبدیلی کے چند مفید کام — عثمان حبیب کراچی

یہ مختصر سے کام کرکے آپ معاشرے میں ایک مثبت اور مفید تبدیلی لا سکتے ہیں! 

1- سڑکوں،گلیوں اور گھروں کے باہر کچراکنڈی نہ پھینکیں! یہ کمینی حرکت بنی اسرائیل کیاکرتے تھے۔

2- سڑکوں، دیواروں اور فٹ پاتھوں پر ہرگز ہرگز نہ تھوکیں! پان ، گٹکے ،نسوار اور چھالیہ کے علاوہ ظاہر ہے آپ اور تھوکیں گے کیا؟ لہٰذا گزارش ہے کہ ان غلیظ چیزوں کو ہی چھوڑدیں۔ چھوڑنا کچھ مشکل نہیں بس تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے۔ رمضان آرہاہے جس میں آپ ان چیزوں کو چھوڑنے کی کامیاب کوشش کرسکتے ہیں،سو ہمت کریں اور ان فضول چیزوں کو چھوڑدیں ۔جن سے سوائے نقصان کے اور کچھ حاصل نہیں!!
3- نہ تو کسی کی توہین کریں ، نہ کسی کا مذاق اڑائیں اور نہ ہی کسی کو گالی سے نوازیں۔گالی دے کر آپ سامنے والے کا کیا بگاڑیں گے سوائے اپنی غلاظت وخباثت ظاہر کرنے اور اپنی شخصیت کو بدنما کرنے کے!
4- کرنسی نوٹوں،پبلک ٹوائلٹوں اور دیواروں پر لکھنے سے اجتناب کریں۔اگر چہ فیس بک کے آنے سے اس چیز میں کمی دیکھی گئی ہے ۔ لیکن مکمل اجتناب بہر حال ضروری ہے!
5- ملک کے دو اہم ترین مسائل ، پانی وبجلی کو بچائیں!
پانی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی وہ عظیم الشان نعمت ہے جو انسانوں اور جانوروں کے علاوہ نباتات وجمادات کی بھی اہم ترین ضرورت ہے۔لہٰذا اس نعمت کی جتنی قدر کی جائے اتنی کم ہے! 
 بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بجلی کی بچت بھی کافی حدتک مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خوامخواہ کوئی بلب روشن نہ کیاجائے۔ اے سی کا استعمال کم سے کم اور ضرورت کی حد تک کیا جائے۔کمرے سے نکلتے وقت بلب، پنکھا اور اے سی وغیرہ آف کیا جائے۔بجلی کے غیر قانونی استعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے ، یہ استعمال چاہے کنڈوں کی صورت میں ہو یا میٹر میں گڑ بڑ کی صورت میں ہو ، ہرحال میں اجتناب ضروری ہے!
6- درخت ہمارے لیے ایک پلانٹ کی حیثیت رکھتاہے۔جوہمیں روزانہ سینکڑوں لیٹر آکسیجن بالکل فری فراہم کرتاہے۔ دھوپ کی صورت میں مفت کا سایہ بھی ہمیں درخت سے ملتاہے اس کے علاوہ ہمارے ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے بھی زبردست کردار ادا کرتاہے۔ لہٰذا درختوں کوزیادہ سے زیادہ لگانے کی کوشش کریں اور جوہیں ان کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کیا کریں!
7-  ایک گزارش یہ بھی ہے جناب کہ ایمبولینس کو راستہ ضرور دیا کریں۔ آپ نہیں جانتے کہ ایمبولینس کو راستہ دینا کتنا ضروری اور کتنی اہمیت کا حامل ہے ۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے ایمبولینس کو راستہ دینے سے کسی کی جان بچ جائے!
8- ہیلمنٹ کی پابندی سے لے کر سگنل پر رکنے تک ٹریفک کے ہر اس قانون کی پابندی کریں جو اسلام کے مطابق ہو۔ اس میں آپ ہی کی جان اور مال کی حفاظت ہے!اکثر روڈ ایکسڈنٹ کی وجہ ٹریفک قوانین کو فالو نہ کرنا ہے۔
9- والدین اور داد دادی کا بھر پور احترام واکرام کریں ۔فیس بک پر فضول وقت ضائع کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مل بیٹھا کریں۔ان سے گفتگو کیا کریں۔ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ان کی دعائیں لیں۔ یاد رکھیں آج آپ جو سلوک اپنے ماں باپ کے ساتھ کریں گے کل کو آپ کی اولاد آپ کے ساتھ یہی کچھ کریں گی بلکہ اس سے زیادہ۔ لہٰذا خیال رہے!
10- صرف فیس بک ہی نہیں ، بلکہ اپنے گھروں ، رشتہ داروں اور راستے پر چلتی ہوئی ہر عورت کا احترام کریں۔
گھروں میں موجود خواتین کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ باہر سے کچھ منگوانا ہوتو خود جایاکریں۔
 راہ چلتی ہر عورت کو اپنی ماں ، بہن کی نظر سے دیکھیں۔ بلکہ دیکھنا جائز ہی نہیں چاہے جس بھی نظر سے دیکھیں۔ شریف انسان کا ثبوت دیتے ہوئے نظریں نیچے رکھ کر چلیں!
 خواتین سے بھی گزارش ہے کہ پردے کا خاص خیال رکھیں ۔ آپ کی عزت آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنی عزت نیلام کرتی ہیں یا حفاظت کرتی ہیں۔
گھر کے مردوں کو نوکر کی بجائے انسان سمجھیں اور جو بھی منگوانا ہو ایک ساتھ ہی لسٹ دے کر منگوالیاکریں۔ بار بار پریشان نہ کیا کریں۔
 خواتین وحضرات !کسی سے فضول کی کوئی امید اور توقع کی بجائے خود سے تبدیلی کا آغاز کریں۔ یہ سب کام کرنا کچھ مشکل نہیں ۔ معاشرے کا ہر شخص کرسکتاہے بشرطیکہ وہ خود کو معاشرے کا ذمہ دار فرد سمجھے!

قلم کے ساتھ ساتھ

عثمان حبیب کراچی

 
 
 
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}