شہر بسانے کا ہنر ۔۔۔ ڈاکٹرممتازخان

اگر ہم کسی بھی قوم کا تہذیبی سفر دیکھیں تو ہمیں ایک قدر مشترک ملے گی۔ وہ ہے نئے شہر بسانے کی پالیسی۔ نئے شہر بسانے سے جو بنیادی فوائد حاصل ہوتے ہیں، ان میں ترقیات، ٹیکنالوجی، ٹرینڈ ،افرادی قوت، اورسرمایہ کی ریل پیل شامل ہے ( چائینہ میں ۲۰۱۲ء میں شہر بسانے کے لے بیچی گئی زمین سے ۴۳۸ بلین ڈالر منافع ملا جو کہ بعد کے ترقیاتی پروگراموں میں لگایا جاتا ہے)۔ یہ سارا منافع وہاں کی لوکل باڈیز نے کمایا، (ہمارے ہاں تو یونین کونسل کے لوگوں کا ویژن کیا ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں)۔ یہ سب فوائد ملکی سرحدوں کے اندر آ جاتے ہیں اور یہ ایک خودکار عمل ہوتا ہے۔ اس کو بیرونی طاقتیں روک نہیں سکتیں۔ اگر کوئی روک سکتا ہے تو وہ انتظامیہ کی خودغرضی اور منافقت ہے۔ چائینہ نے ۱۹۴۹ء سے اب تک بیسیوں شہر بنائے ہیں، جو سنٹرل لیول پہ پلاننگ سے بنے ہیں۔ پھران میں حکومت کی ہدایت پہ معاشی وسماجی سرگرمیوں کا انعقاد، نئی تعلیمی درسگاہوں کا قیام، نئی فیکڑیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور یہ سلسلہ ایک تسلسل سے جاری ہے۔ اس میں کسی ایک گروپ کے فائدے یا شعوری طور پہ اس کو فائدہ پہچانے کے لیے پالیسی بنائی یا روکی نہیں جاتی ہیں۔ (وطن عزیزمیں جو کچھ ہوتا ہے اس میں خواص کے لیے ایسے دروازے رکھے جاتے ہیں جہاں سے ان کو نوازا جا سکے)۔
مغلیہ سلطنت کی کنسٹریکشن اور نئے شہر بسانے کی پالیسوں کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں کئی نام جیسے دہلی (شاہ جہان نےبنایا، ۱۶۳۸۔ ۱۶۴۹)، فتح پور سیکری، واراناسی ( یہ اکبرنے دوبارہ تعمیر کروایا تھا) ملیں گے، اس کے علاوہ آگرہ ( جوکہ سکندر لودھی نے بنایا تھا)، حیدرآباد ( قطب سلطنت ۱۵۸۹) جیسے بڑے شہر ملیں گے۔


جو لوگ برصغیر کے عظیم حکمرانوں کا آجکل کے مغرب نواز ٹولے سے موازنہ کرتے ہیں، وہ اپنے مطالعے کو وسعت دیں اور کابل سے شروع ہوکر سری لنکا تک پھیلی تہذیب کا مطالعہ کریں تو ان حکمرانوں کی وسعت علمی، اس وقت کی موجود تمام ٹیکنالوجییز پہ ان کا عبوراور سیاسی کنڑول، اور ان کی اعلی ذہانت کو ماننا پڑے گا۔ جب کہ ان کے ہم اثر یورپ، امریکہ، چین اور باقی ملکوں میں ایسا کچھ نہیں ملے گا، یا کم درجے کا ملے گا۔


پاکستان بننے کے بعد ہم نے اسلام آباد بنایا، پھر ایک ایسا طبقہ کنسٹریکشن میں گھس گیا، جو محلے اور کالونیاں ذاتی اغراض کے لیے بناتا ہے، جو صرف ذاتی فائدے کے لیے پیسے کو بڑہاتے ہیں؛ لیکن کنسٹریکشن کے پیچھے چھپی انڈسٹریز کی چین اس وقت تک ملکی فائدے میں نہیں آ سکتی جب تک کنسٹریکشن کی پالیسی مرکزی سطح پہ پلاننگ اور قومی مفاہمت اور عوامی فائدے کے لیے نہ بنے۔ کنسٹریکشن کے پیچھے کئی صنعتیں کام کر رہی ہوتی ہیں، مثلاً: توانائی، سٹیل، کمپیوٹر سوفٹوئیرز، ریسرچ کے ادارے، بینک، بینک کی ٹیکنالوجی، تیل، گیس، بجلی، پینٹ، الیکڑونکس اور نہ جانے کتنے شعبہ جات۔ اگر کسی ملک میں کنسٹریکشن کا جامع پلان بنا لیا گیا، تو پھر آپ ان سب ٹیکنالوجیز کو بڑی آسانی اور کسی کی کاسہ لیسی کیے بغیر اپنے ملک لا سکتے ہیں۔ ان سب ٹیکنالوجیز کی حامل فرمز کو منافع چاہیے ہوتا ہے اور وہ آپ کے ملکی فائدے کا سبب بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر انفرادی نقطہ نظر سے پالیساں بنائی جائیں تو، نہ یہ صنعتیں ملک میں آتی ہیں اور نہ ہی سرمائے کی صحیح گردش ہو پاتی ہے۔ اپنی چھت ملنا تو ایک خواب ہی رہتا ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}