بچوں کے تعلیمی مسائل — جیمس پاو -ترجمہ :محمد اویس سندھو

غلط رویّہ ذہنی بیماری نہیں ہے۔

(Misbehaviour is not mental Illness)
مسئلہ کردار کے حوالے سے ہزاروں بچوں کے ساتھ ہونے والے خاص تجربات کی بنا پر ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ تعلیمی مسائل کو پانچ اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(۱) کلاس روم میں خلل اندازی (Disturbative behaviour in classroom)
(۲) بھگوڑا پن یا بلا اجازت غیر حاضریاں (Truancy unauthorized absence)
(۳) سونپے گئے کام کی تکمیل میں ناکامی (Failuar to complete assigned work)
(۴) معاشرتی میل جول کی کمی (Lack of social interaction)
(۵) غیر معاشرتی (جارحانہ) رویہ (Antisocial behaviour)
عموماً عام طور پر پایا جانے والا سب سے زیادہ مسئلہ ان بچوں کا ہوتا ہے جو کمرئہ جماعت میں خلل ڈالتے ہیں۔ اس قسم کے بچے غیر ضروری باتوں ،ایک جگہ پر نہ ٹکنے اور دوسرے بچوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔
ہر استاد جماعت میں کم از کم ایک ایسے بچے کے بارے میں ضرور شکایت کرتا ہے۔ سبز فارمر اور اس کا آٹھ سالہ بیٹا ٹوم اسی طرح کی شکایت لے کر ہمارے پاس آئے۔
’’میں نے ایک سال پہلے Tom کی ٹیچر سے اس کے بارے میں پوچھنا شروع کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ Tom بہت زیادہ بولتا ہے‘ ٹیچرز کی باتوں پر دھیان نہیں دیتا اور ہمیشہ اپنی کلاس کو تنگ کرتا ہے۔ میں بتا نہیں سکتی کہ میں اس مسئلے کے حل کے لیے والدین اور اساتذہ کی کتنی کانفرنسز میں شریک ہو چکی ہوں۔
ہم نے زیادہ ہوم ورک دینے،بچے کو علیحدہ کونے میں بٹھائے رکھنے،اور اسے دلائل سے سمجھانے سے لے کر ٹیلی وژن کی پابندی‘ یہاں تک کہ مار پیٹ تک کے حربوں کو آزمایا ہے مگر ان میں سے کسی کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ اب میں نے آپ سے رجوع کیا ہے اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جذباتی (ہیجان انگیز) مسئلہ ہے۔‘‘
پورے ملک میں ٹام (Tom)جیسے ہزاروں بچے ہیں جن پر ان مسائل کے حل کے لیے گفتگو‘ منت سماجت، ڈرانے دھمکانے سے لے کر سزا دینے تک کے حربے آزمائے گئے لیکن بے سود۔
بھگوڑا پن (Truancy) سکول سے متعلقہ مسائل میں سے ایک عام طور پر پایا جانے والا مسئلہ ہے۔ سکول سے بھاگنے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سکولوں کو ہونے والے معاشی نقصان کا ذکر ہی کیا، بچوں کے تعلیمی اخراجات بے بہا ہیں۔
اس کی ماں ہمارے پاس یہ شکایت لے کر آئی:
’’Kelly ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ اپنی کلاس سے غیر حاضر رہتی ہے۔ وہ واقعی بہت پیچھے رہ گئی ہے اور اس کے گریڈ سے بھی یہ ظاہر ہے۔ وہ ساحل پر یا اپنی سہیلی کے ہاں چلی جاتی ہے۔ میں اس کو سکول کی اہمیت کے بارے میں باور کرانے کی کئی مرتبہ کوشش کر چکی ہوں۔ میں نے اسے مکمل طور پر ڈرانے دھمکانے کی کوشش بھی کی ہے۔ یہاں تک کہ دو ہفتے گھر میں بند رہنے کے باوجود اس کا بھگو ڑا پن ختم نہیں ہوا۔
سکول والے اسے کلاس کے بعد مزید وقت ٹھہرا کر اور اس کو Suspend معطل / نکال کر بھی کوشش کر چکے ہیں لیکن وہ پھر ویساہی کر رہی ہے۔ مجھے تو اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔‘‘
والدین جانتے ہیں کہ سکول میں حاضری کتنی اہم ہے وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ بچوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے لیکن وہ اکثر نا امید ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ ہر حربہ آزما چکے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ناکام ہی رہتے ہیں۔
تیسرا مسئلہ ایسے بچوں کا ہے جو گھر کے لیے دیے جانے والے کام (Homework) کو پورا نہیں کرتے۔ Cheryl کا والد اسی طرح کا ایک مسئلہ لے کر ہمارے پاس آیا۔
’’وہ صحیح نہیں ہوگی، میں اس کو سمجھانے کی ہزار ہا کوشش کر چکا ہوں۔ میں نے اس کو بہت سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ سکول کی زندگی میں کتنی اہمیت ہے کہ اس کو اچھی ملازمت نہیں ملے گی اور وہ دوسروں سے پیچھے رہ جائے گی۔ یہاں تک کہ میں اس کو سزا اور انعام دینے کا طریقہ بھی آزما چکا ہوں۔ میں اس بات سے بہت پریشان ہوں کیونکہ وہ اپنے ہم جماعتوں سے پیچھے رہ گئی ہے حالانکہ ذہانت کے حوالے سے دیکھا جائے تو وہ اوسط درجہ سے اوپر ہے۔‘‘
کلاس ورک کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہوم ورک مکمل کرنا بہت ضروری ہے۔ جو بچے اسائنمنٹ Assignments (لکھنے والا کام) مکمل نہیں کرتے وہ لازمی طور پر پیچھے رہ جاتے ہیں اوراگر یہ غفلت جاری رہے تو ان کا گریڈ بھی نیچے آجاتا ہے۔
معاشرتی مہارت کی کمی بھی بچوں کے سکول میں پیچھے رہ جانے کا سبب بنتی ہے۔ تمام بچوں کو اپنے ہم جولیوں کی قبولیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے اگر ان کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ان کی ساری شخصیت اور اپنے بارے میں تصور (Self Image) متاثر ہوتی ہے۔ جو بچے اکیلا پن محسوس کریں ان میں سکول کے بارے میں منفی رویہ بیدار ہونے کا امکان ہوتا ہے اور وہ اپنے کاموں کی پرواہ بھی نہیں کرتے۔ ایک والدین نے اپنے آٹھ سالہ بچے کے بارے میں ہمیں بتایا۔
’’Ken کے ہم جماعتوں نے کسی پوشیدہ وجہ سے اس کی عیب جوئی شروع کر دی۔ بچے اتنے ظالم بھی ہو سکتے ہیں اور Ken کبھی اپنا دفاع نہ کر سکا۔ جلد ہی وہ اکیلا رہ گیا اور اسے سکول سے نفرت ہونے لگی۔ اسے اس کے برے نتائج سے بچانا روز بروز مشکل ہوتا گیا۔ اس کا سارا موڈ (مزاج) ہی بدل گیا۔ جب بھی میں اسے کوئی کام کرنے کا کہتا تو اس کاایک ہی جواب ہوتا کہ یہ مجھ سے نہیں ہو سکے گا۔ اس کا گریڈ گرتا گرتا A سے B پھر C اور آخر میں D ہو گیا۔‘‘
اس قسم کی صورتحال والدین اور بچے دونوں کے لیے پریشان کن (مشکل) ہے۔ بعض بچوں میں فطری طور پر ہی ضروری (لازمی) معاشرتی مہارتوں (Necessary Social Skills) کی کمی ہوتی ہے۔ تاہم ہم یہ ثابت کریں گے کہ اس قسم کی مہارت بڑے ڈرامائی نتائج کے ساتھ بچوں کو سکھائی جا سکتی ہیں۔

انتہائی سنجیدہ اور اختلال انگیز مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ بچہ دوسرے بچوں کے بارے میں فعلی اور جسمانی دونوں حوالوں سے جارحانہ (معاندانہ) رویہ رکھتا ہے۔ ایسے بچے دوسروں کو اکثر ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں اور لڑتے رہتے ہیں۔ (مکابازی) کرتے رہتے ہیں۔ ان کو ہر مسئلے (Conflict) کا حل جارحانہ اور معاندانہ رویے میں ہی نظر آتا ہے۔ Tony مکمل طور پر اس قسم کا ہی ایک بچہ ہے۔
’’Tony ایک قسم کا غنڈہ بن چکا ہے۔ وہ سکول میں ہمیشہ لڑتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے دو بچوں کو زخمی بھی کیا ہے۔ وہ بہر حال اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ میں نے اسے سمجھایا ہے کہ لڑنے کی بجائے دوسرے سے بات کیا کرے۔ یہاں تک کہ میں

نے اس کے TV دیکھنے اور تیراکی پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘

اقتباس : از کتاب آپ کا بچہ کیسے کامیاب ہو

۔ 30 20 480 0304کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے

You may also like this

24 February 2017

مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلیمی نظریات اور خدمات --- تحریر: شاہد خان

<div dir="auto" style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">مولانا ابوالکلام

admin
24 February 2017

ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی کے بانی -- عبداللہ ولی بخش قادری

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">ہماری جدوجہد آزادی کے سرکردہ

admin
14 February 2017

کیا کامیاب پروفیشنل کے لئے کتابی نصاب کافی ہے -- تحریر شاہد خان

<div dir="auto" style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px; font-family: Jameel-Noori-Nastaleeq-Kashe

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}