پانامہ کا خزانہ ۔۔۔ مدثرگل

“مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” کے مترادف پانامہ کے خزانے کا ہنگامہ بھی روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے. ایک قسط کا اختتام اگلی قسط کے آغاز سے پہلے روایتی ہوا. یعنی پہلی قسط کا اختتام بھر پور تجسس پر مبنی ہوا کہ اگلی قسط دیکھنے کی دلچسپی برقرار رہے. جسطرح اگلی قسط کے دیکھنے تک دل میں مختلف قسم کی قیاس آرا ئیاں چلتی رہتی ہیں ٹھیک اسی طرح ہر ایک اپنے دل میں اپنے رجحان کے مطابق اگلی قسط کو اس طرف مڑتا ہوا دیکھ رہا ہے. اگر تو سوچی ہوئی ترکیب کے مطابق اختتام ہو جائے تو دلی اطمینان ملتا ہے نہیں تو کئی جواز ڈھونڈ کر رائٹر اور ڈائریکٹر کو نا سمجھ کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لی جاتی ہے.
سیریل-ا تو ہو چکی.فیصلہ آ گیا. اس فیصلے کا خلاصہ اب ہر کوئی من موجی دل کھوجی کے مطابق بیان کرتا نظر آ رہا ہے. فیصلہ بھی تو اس طرح کا ھے کہ سیریل-اا کی دلچسپی میں کوئی کمی نہ آئے.جو سیریل ہو چکی آپ نے دیکھ لی. اس لیے آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں.

سپریم کورٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے فیصلے کے مطابق جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم(jit) بنانے کا حکم ملا ہے. جو تفتیش کر کے عدالت کے لیے ثبوت اکھٹے کرے گی. JIT میں تقریباً ان تمام اداروں کے ممبران شامل ہیں جن کا پیسوں کے لین دین میں بلواسطہ یا بلاواسطہ کردار ہوتا ہے. دو ممبران اس JIT میں ایسے بھی ہیں جن کا بظاہر تو پیسوں کے لین دین میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے مگر انکے ادارے البتہ کچھ سیاسی معاملات میں لین دین میں شامل رہے ہیں.
یہ JIT ایسی کھلی گلی کا نام ہے جس میں مزید گلیاں شامل ہوتی رہتی ہیں. اس JIT کی گلی تو پوری دنیا میں اپنی شاخیں پھیلائے ہوئے ہے. یعنی جس ملک میں بھی پانامہ کے خزانے کا سراغ ہو گا وہاں پر یہ ممبران مکمل سرکاری خرچے پر عیاشی کر سکیں گے. شاید آپ یہ بات جان کر دل سے دعا کر رہے ہوں کہ کاش میں بھی JIT کا ممبر بن جاؤں.

جے۔آئی۔ٹی کیا ہوتی ہے اور یہ کس وجہ سے بنائی جاتی ہے میں وہ بھی مختصر بتاتا چلوں. عدالتیں ثبوتوں پر تحقیق کر کے فیصلے کرتی ہیں. وہ ثبوت مختلف متعلقہ تفتیشی ادارے عدالت کو اکھٹے کر کے دیتے ہیں. جہاں پر عدالت کو تحقیق کے لیے ثبوت میسر نہ ہوں وہاں پر عدالت کمیشن بنا دیتی ہے. اگر کمیشن میں ایک ادارے یا شعبے سے زائد ادارے شامل ہوں تو اس کو جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (JIT) کہا جاتا ہے. اس ٹیم کی رپورٹ میں ایک بات بہت اہم ہوتی ہے کہ تمام ممبران جس پوائنٹ پر متفق ہوں گے وہی ثبوت کے طور پر پیش ہو سکے گا اور اسی پر عدالت تحقیق کرے گی. اگر تمام ممبران کی رائے میں تضاد پایا جائے تو وہ رپورٹ محض ردی کا ایک ٹکڑا ہی ہوتا ہے.
اب سیریل-اا میں JIT کو شریف فیملی کے خلاف ثبوت اکھٹے کرنے کے لیے ان ممالک میں جانا ہو گا جہاں جہاں انکا کاروبار موجود ہے اور گزشتہ عرصے میں رہا ہے. ان 9 tax heaven میں بھی جانا ہو گا جہاں پر دیگر 444 پاکستانیوں کے نام اس پانامہ کے خزانہ والی بابرکت فہرست میں آئے تھے. سب لوگوں کی خوش فہمیاں اس وقت غلط میں بدل جائیں گی جب کوئی بھی ملک انکے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہو گا. آمادہ بھی کیسے ہوں یہ تفتیش تھوڑی پاکستان کا روایتی تھانیدار کر رہا ہے. جس کے آگے چادر چار دیواری کی کوئی اخلاقی قدر نہیں ہوتی. بلکہ یہ دنیا ہے اور دوسرے ممالک تب ہی ویسی معلومات دیتے ہیں جب انکے ساتھ ویسے معاہدے موجود ہوں. اس حقیقت کا ادراک تو سمووآ حکومت کی جانب سے پاکستانی خط کے جواب آنے پر ہی ہو گیا تھا. جب سمووآ نے پاکستان کو جواب میں لکھا تھا کہ جناب خواب خرگوش سے نکلیے اور پہلے ہمارے ساتھ اسطرح کے معاہدے کریں پھر کچھ پوچھیں.
اب ان ساری باتوں کے باوجود پاکستانی قوم اگر JIT کی بتی کے پیچھے لگی رہی تو پھر اس عظیم قوم کو عظیم تر بننے سے کون روک سکتا ہے!! شاید ہی اس پوری قوم کو بلحاظ پاکستانی یہ بات جلد سمجھ آ سکے کہ ہم پوری دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تو فرداً فرداً ایسے معاہدے کرنے سے رہے تو کیوں نا ہم اپنے ملک میں اسطرح کا مربوط نظام لے کر آئیں کہ اس طرح کی تفتیش کی ضرورت ہی نہ پڑے اور نہ ہماری جگ ہسائی ہو. کیوں نا ہم اس بات پر زور دیں کے ایسی قانون سازی کی جائے جس سے ایسے جرائم ممکن ہی نہ ہو سکیں.
مگر کیسے کریں!!!
ان 444 بھائی بندوں میں اپنے بھی تو کچھ لوگ شامل ہیں جن کے ذریعے اپنا پیسہ ان 9 ٹیکس کی جنتوں میں محفوظ کیا ہوا ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکے.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}