میں مشال خان بنتے بنتے بچ گیا ۔۔۔ صاحبزادہ محمد امانت رسول

نوے کی دہائی میں،میں لاہور آیا۔ گوجرانوالہ میں ،میں نے بی اے کی ،شرح جامی ، شرح وقایہ اور نورالانوار تک میں نے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ۔ خوش قسمتی سے لاہور آتے ہی مجھے ایک مسجد میں خطابت مل گئی۔ اس خطابت کا وظیفہ 1500 تھا۔ میں اس مسجد میں تقریباً 3 سال خطیب رہا اور مجھے اس کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا ۔ ہوا کچھ اس طرح کہ شعبان المعظم کے مہینے میں ، میں شبِ برات کے موضوع پہ گفتگو کر رہا تھا۔ گفتگو کے دوران میں نے حاضرین کو بتایا کہ یہ وہ رات ہے جس رات تمام مسلمانوں کے اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیئے جاتے ہیں ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا’’میرا نامہ اعمال بھی پیش ہوتا ہے‘‘۔ میری تقریر کے دوران مجمع میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ ہی دیر میں، ایک صاحب کھڑے ہو گئے اور غصے میں کہنے لگے۔ مولانا! آپ نے گستاخی کی ہے ،یہ کیسے ہو سکتا ہے رسول اللہ ﷺ کا نامہ اعمال پیش ہو۔ بہت ہی مشکل سے جمعہ کی نماز سے فارغ ہوئے، اس کے بعد مجمع اکٹھا ہو گیا۔ اس صاحب نے اپنے حامیوں کی موجودگی میں ایک شاندار اور جذباتی تقریر کی۔ لوگ مجھے خونخوار آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔مجھ سے اس کا حوالہ پوچھا گیا تو میں نے بتایا کہ یہ بات غنیتہ الطالبین میں لکھی ہے ۔یہ کتاب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ہے ۔ میں بہت پریشان تھا اور ایک مجرم کی طرح انتظار میں تھا کہ یہ مجمع میرے بار ے میں کیافیصلہ کرتا ہے۔ آخر کار لوگوں نے مجھ سے تجدید ایمان کا مطالبہ کیا جو میں نے اسی وقت کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان کیا۔ میں اس وقت شادی شدہ نہیں تھا ورنہ تجدید نکاح بھی ہوتا۔انتظامیہ سے اختلاف کے باعث ،جب میں نے مسجد چھوڑی تو اس وقت بھی ایک شخص نے مجھے ’’گستاخِ رسول‘‘ کا طعنہ دیا جس میں واضح دھمکی تھی کہ چپ کر کے نکل جائو ورنہ ہمارے ترکش میں یہ تیر ابھی تلک موجود ہے۔ وہاں سے میں بوریا بستر سمیت بھاگا۔ ایک صاحب کا یہ بتایا ہوا واقعہ مجھے آج مشال خان کی وجہ سے یاد آیا ہے۔ وہ صاحب مجھے اپنے بچ جانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہتے ہیں۔
(1)میں نے محلے میں کسی سے بگاڑی ہوئی نہیں تھی میری سب سے اچھی سلام دعا تھی۔ اگر میری کچھ لوگوں سے ان بن ہوتی تو آج وہ مجھے سنگسار کرنے اور موت کے گھاٹ اتارنے میں پیش پیش ہوتے۔
(2)میں نے (اس بات کے علاوہ) کبھی ایسی بات نہیں کہی تھی اور نہ ہی کبھی میں ایسے نظریات زیر بحث لایا تھا۔ جولوگوں کے معیار سے بلند اور ان کی سوچ سے ماوراء تھے۔ اس لئے لوگ مجھے کسی کا ایجنٹ ،دشمن ِدین اور غدارِ وطن خیال نہیں کرتے تھے۔
(3) میں نے کبھی مذہبی اور سیاسی تقسیم میں خود کو تقسیم نہیں کیا تھا ورنہ مخالف سیاسی جماعت اورمذہبی دھڑے کے لوگ مجھے مذہبی اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر اپنا راستہ صاف کر لیتے۔
(4)میں لوگوں کے مروجّہ تصور دین کا ایک عالم اورخطیب تھا۔ میرا مسئلہ معاشی تھا، میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ مجھے 1500کی ضرورت تھی اور میں جلد تعلیم مکمل کر کے کوئی روزگار حاصل کرنا چاہتا تھا۔ میں سوشلزم، کمیونزم ، مابعدجدیدیت، الحادیت اور علم الکلام وغیرہ کی جگالی نہیں کرتا تھا۔ میں ایک سید ھا سادہ مولوی تھا۔ میں تقریر میں جس بات کا حوالہ دے کر معتوب ٹھرا۔ اس حوالے سے ہی اندازہ کر لیں میرا’’مصدرِ علم‘‘ کیا تھااورکتنا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے ، اسی دوران ایک مولانا کو بلایا گیا۔ انہوں نے بھی میری آزادی میں اپنا کردار ادا کیا اور میری اس بات کے حوالے سے فرمایا’’یہ خاصوں کی بات تھی جوانہوں نے عامیوں کے سامنے کر دی، لوگوں نے ان کی اس بات کا بُرا منانے کے بجائے، واہ واہ کرنا شروع کر دی۔ مجھے حضرت صاحب کی بات اب بھی یاد ہے میں سوچتا ہوں ’’جو بات کتابوں میں آئی وہ خاصوں کی بات کیسے رہی، اگر خاصوں کی بات تھی تو عامیوں کے پاس کیسے آ گئی‘‘۔ بہرحال میں حضرت صاحب کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس موقع پہ میری بے عزتی اور توہین کر کے تجدید ایمان کے ذریعے میری خلاصی کروائی۔ وہ صاحب بتاتے ہیں میں جب اس واقعے کا تصور کرتا ہوں تو آج بھی کانپ اٹھتا ہوں اگر وہ جذباتی شخص تقریر کے بعد یہ کہہ دیتا’’مسلمانو! آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے ، یہ گستاخ آج بچ نہ پائے‘‘لوگ ڈنڈے ،چھرے، راڈ، سلاخیں ،اینٹیں ، پتھر اورریوالور لے کر میری طرف دوڑ پڑتے یا صرف گھونسوں ، مکوں اور لاتوں سے ہی مجھے مارنا شروع کر دیتے تو میں آج آپ کواپناحال نہ بتا رہا ہوتا ۔ یہ سب تکلیف اوراذیت اس تکلیف او ر اذیت سے زیادہ نہ ہوتی کہ دوسرے روز میری لاش کی تصویر کے ساتھ یہ سرخی اخبار میں لکھی ہوتی کہ’’ گستاخ رسول‘‘ کو قتل کر دیا گیا اور میرا جنازہ بھی کوئی پڑھنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔ میرے لیئے ہر اذیت سے بڑھ کر یہ عنوان تکلیف دہ ہے کہ’’ مجھے گستاخ رسول سمجھ لیا جاتا‘‘۔
مشال خان کی فیس بک پہ موجود تمام پوسٹوں میں سے ایک پوسٹ قابل اعتراض تھی لیکن 99 پوسٹیں لکھنے والے نوجوان سے کسی نے ایک پوسٹ کے بارے پوچھنا بھی گوارہ نہ کیا کہ آپ ایک سلجھے ،سنجیدہ اور تعلیم یافتہ نوجوان ہو آپ کی پوسٹیں آپ کے علم، مطالعہ اور سنجیدگی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہیں، یہ ایک پوسٹ کیسے لکھ دی جب کہ مشال خان یہ بھی کہہ چکا تھا۔ میری آئی ڈی سے کوئی غلط پوسٹیں لگا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ آئے روز ہوتا رہتا ہے ۔ہم فیس بک یہ اپنے دوستوں کوInformکرتے رہتے ہیں کہ اگرمیرے نام سے کوئی پوسٹ پیغام یا ریکوسٹ آئے تو وہ ہماری نہیں ہو گی۔ اس مشاہدے اور تجربے کے باوجود، ایک پوسٹ کی بنیاد پر اس کی جان لے لی گئی اور اس کی 99 پوسٹوں کو درخوراعتناء نہ سمجھا گیا۔ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کے بقول’’ اس کی ہلاکت کے بعد اس کا اکائونٹ استعمال ہو رہا ہے‘‘۔ انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخواہ صلاح الدین خان محسود نے اپنی ہنگامی پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشال خان پہ توہین رسالت کا الزام غلط ثابت ہوا ہے اور یہ ایک گھنائونی سازش ہے جس کے مرکزی کردار گرفتار کر لئیے گئے ہیں۔
وہ واقعہ بیسویں صدی کی نوے کی دھائی کا ہے اور یہ واقعہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا ہے ۔ وہ واقعہ ایک مسجد کا ہے اور یہ واقعہ ایک یونیورسٹی کا ہے ۔وہ واقعہ عوام کی عدالت کا ہے اور یہ واقعہ خواص(تعلیم یافتہ افراد) کی عدالت کا ہے، وہ واقعہ بھی ایک طالب علم کاہے اور یہ واقعہ بھی ایک طالب علم کا ہے۔ اُس واقعہ میں بھی لوگوں کا فیصلہ کن کردار تھا۔ اِس واقعہ میں بھی لوگوں نے ہی فیصلہ کن کرداراداکیا ہے ۔اُس واقعہ اور اِس واقعہ کے درمیان بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں ۔
میں فیصلہ اورنتیجہ آپ کے سپرد کرتاہوں بس یہ دیکھ لیجئے 1990 ء اور 2017ء …27 سالوں کافرق ہے۔ ان 27 سالوں میں ہمارا سماج اقدار، برداشت ،قانون کی بالادستی، عقل و ہوش اورتحقیق وتفتیش کے اعلیٰ اخلاقی معیار کی طرف بڑھا ہے یا اُس کا سفر ترقی معکوس کا سفرہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}