قیادت اور عوام کا رشتہ اعتماد ۔۔۔ ڈاکٹرممتازخان

جب کسی قوم کا سیاسی نظام کسی سوچ پہ کھڑا ہو جائے تو اس کی ترقی اور تہذیب کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ ایک سیاسی نظام کی جگہ دوسرا سیاسی نظام غالب آ جاتا ہے۔ اگر نیا سیاسی نظام غالب آنے کے بعد نتائج پیدا نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے: قیادت بددیانت ہے، انفرادیت پسند ہے یا پھر عالمی معاملات کا پورا شعور نہیں رکھتی۔ لیکن ان سب میں سے کچھ بھی نہ ہو تو پھر وہ کیسے اپنی تہذیب کو آگے لے جا سکتی ہے؟
اگر ہم چائینیز انقلاب کا مشاہدہ کریں تو کچھ نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک عوام کا قیادت سے رشتہ اور اعتماد ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک لفظ ہے، لیکن جب عوام یہ امید لگائے بیٹھی ہو کہ انقلاب کے بعد وارے نیارے ہوں گے، لیکن انقلاب کے کئی سال تک بھی کچھ نہ ملے تو اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔ لیکن چائینہ میں ویسٹ کے پراپیگنڈے کے باوجود ایسا نہیں ہوا، قیادت نے 1949ء میں جو پالیسیاں بنایئں ان کے نتائج سامنے نہ آسکے اور 1975ء تک چائینہ بھٹکتا رہا۔ انہوں نے کمیونزم کے بنیادی اصولوں کو بھی معاشی پالیسوں سے الگ کردیا، (لیکن کمیونزم کی سیاست کو نہیں چھوڑا۔) تب بھی قیادت نے عوام کا اعتماد نہیں کھویا۔
کیا وجوہات تھیں؟
کیا اعتماد کو ماپنے کا کوئی سرکاری پیرامیٹر ہے؟ ابھی تک نہیں۔
اعتماد ایک جذبہ یا احساس ہے، جو اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک قیادت کی نیت درست رہتی ہے۔ یہ دیکھا نہیں محسوس کیا جاتا ہے۔ حکمران فیل بھی ہو جائیں، تب بھی قائم رہتا ہے، بشرطیکہ وہ مفاد پرست، اور خود غرض نہ ہو جائیں۔ جب حکمران کی نیت خراب ہو جائے تو کم یا زیادہ عرصہ تک عوام کو دھوکہ دے کر اقتدار میں رہا جا سکتا ہے، لیکن معاشرے کے عام طبقات اس کو دل سے جان لیتے ہیں، وہ مجبور ہوتے ہیں کہ فوراً کچھ نہیں کر سکتے۔ اس دھوکے کا نتیجہ عوام کی سستی، کام چوری، بددیانتی اور قوانین سے انحراف کی صورت میں نکلتا ہے۔
جب چایئنہ کی لیپ فارورڈ پالیسی ناکام ہوئی تو عوام اور محنتی ہو گئی۔ قیادت جو بھی قانون بناتی، خود بھی عمل کرتی اور عوام بھی اس کو اپنا اخلاق بنا لیتی۔ زیادہ تر افراد تو قانون کی منطق کو بھی نہیں سمجھتے تھے، پھر بھی عمل کرتے تھے۔ یہ رویہ صرف کمیونسٹ چایئنہ میں نہیں، بلکہ کیپٹلسٹ معاشرے جنوبی کوریا میں بھی تھا اور آج بھی ہے۔ جب کوریا کی قیادت نے آئی۔ایم۔ایف کا قرضہ دینے کے لیے لوگوں سے اپیل کی، تو عوامی جذبات کو دیکھیے، عورتوں نے اپنے زیور تک دے دیئے۔ آج تک کوریا کے لوگ اپنی قیادت کی پالیسوں یا ملکی قوانین کے پیچھے منطق کو سمجھے بغیر عمل کرتے ہیں۔ وجہ صرف اعتماد ہے۔
پاکستان میں عوام نے کئی مرتبہ اپنی قیادت پہ اعتماد کیا۔ آزادی کے بعد اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت تک کی، یہ بہت بڑی قربانی تھی۔ قرض اتارو ملک سنوارو میں پیسے دیے، لیکن قیادت نے پھر بھی اپنے انفرادیت پسندی اور ذاتی اغراض کی سیاست نہیں چھوڑی۔
ایسے حالات میں ترقی کا یہ سلسلہ کیسے آگے بڑھے گا؟

You may also like this

16 February 2017

عصر حاضر کے تقاضے اوروطن عزیز کے مسائل --- ڈاکٹر وقار علی گل

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">اسلامی فلاحی ریاست کا خواب تحر

admin
09 February 2017

ایک اہم سوال!محمد عثمان

<hr /> <p style="text-align: justify;">یہ بات تو طے ہے کہ جلد یا بدیر سیاسی نظام پر حاوی

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}