ہیرو ۔۔۔ وقاص اٖفضل

اُس کے پاس تقریبا ہر مسئلے کا حل موجو د رہتا
میز پر چا ئے کا کپ رکھتے ہو ئے وہ گویا ہوا
سر آپ آج بھی پر یشان نظر آرہے ہیں
سوچ کی دنیا سے واپس آتے ہو ئے میں نے اُسے بیٹھنے کا اشا رہ کیا
معا شرے میں بڑھتی ہو ئی عدم برداشت کے بارے میں آپ کا کیا خیا ل ہے؟
میرے اچانک سوال سے وہ چونک گیا ۔
پھر توقف کے بعد معصومیت سے بولا
اب وقت آگیا ہے،’’ اس سرزمین کو اپنے ہیرو بدلنے ہو ں گے‘‘ـ۔
کیا مطلب ؟
ــــسر جی !قاسم ،غزنوی ،ایو بی کی بجا ئے
پھر سے بابا فرید ،بلھے ،وارث شا ہ کی طرف چلتے ہیں۔

You may also like this

17 April 2017

ترقی ۔۔۔ وقاص سلیم رانا

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">"ِاس ٹوک سَے مَنا آٹھ بندے ک

admin
29 March 2017

ترقی ۔۔۔ وقاص اٖفضل

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">وہ اردو اور انگلش پڑھ سکتا تھا&

admin
28 March 2017

صندوق ۔۔۔ محمد انس حسان

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">شہرکے عقبی حصہ میں مزدوروں کی

admin

People Comments (1)

  • qazi inam April 22, 2017 at 12:28 pm

    جنید بغدادی ،عبدلقادر جیلانی، ، چشتی عجمیری سے لے کر بلھے شاہ تک کے بزرگ گان دین کے علم اور طور طریقوں کو یرغمال بنا کر منڈی میں فروخت کرنے والے ہر جگہ موجود ہیں ،حتاکہ توحید کے اعلیٰ معیار کی بات کرنے والے ملاں بھی موجود ہیں اللہ کے رسول کی سنتوں کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے والے اور قوت اور طاقت حاصل کرنے والے بھی موجود ہیں ،لیکن آج خدا کے بندے کا علم اس مقام پر پہنچ چکا ہے ،جس مقصد کے لیے اللہ تعالی نے اس کو فرشتوں پر افضلیت بخش کر منتخب کیا تھا ،آج کا انسان ابلیس اور بندے کے علم کے درمیان اس بال برابر فرق کو بھی سمجھتا ہے جہاں سے دونوں کے راستے جدا ہوتے ہیں وہ راستہ نا عبادت کا ہے ،نا توحید کے معیار کے طور طریقوں کو سمجھنے کا ہے ،وہ خالص علم تحقیق تعمیر تسخیر کائنات کا ہے ،جس مقصد کے لیے انسان کی تحلیق ہوئی اور منتخب ہوا ،اس منزل تک پہنچنے کے لیے ایک راستہ سائنسی علوم کا ہے جو داہریت سے ہوتا ہوا خدا کے مقصد حیات تک پہنچتا ہے دوسرا روحانیت کا ہے جو آسان بھی ہے اور بہت مشکل بھی جہاں انسان کو وجود کی انتہائی ملامت سے گزرنا پڑتا ہے اور معاملات کو بھی درست رکھنا پڑتا ہے یہ راستہ بڑی قربانی مانگتا ہے ،تزلیل تحقیر ،ناانصافیاں قدم قدم پر انسان پر اپنا شکنجا کستی ہیں اگر انسان ثابت قدم رہے تو علم کے وہ بند دروازے کھل جاتے ہیں جہان انسان قلبی سکون سے زندگی گزار سکتا ہے ،پھر مشاہدے کا علم جو عبادت کے کلاسیکل طور طریقوں سے کئی گنا فضل ہے ،جہاں صرف توبہ اور تحقیق در تحقیق رہ جاتی ہے اور وہاں سائنس اور روحانیت مل جاتی ہے وہ معرفت کا علم ہے۔وہ علم رسول شناس بھی ہے اور خدا شناس بھی۔۔۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}