زوال پذیر پاکستان اور نو جوان ۔۔۔ ساجد سلہریا

پاکستان کی تاریخ کوئی لمبی چوڑی نہیں کہ اس کو سمجھا نےمیں مشکل پیش آئے محض 70 سالہ زوال زدہ دور ہے۔اس پر تحقیق و تجزیہ استحصالی نظام کو سمجھنے کے لئے نو جوانوںکو سچی و جھوٹی جماعتوں کی پہچان کرنا ہوگی۔ جن کی وجہ سے آج پاکستان معاشی بدحالی ،طبقاتی سیاست ، مذہبی منافقت اور بد اخلاقی کا شکار ہے۔

جب کوئی سسٹم انسانی سماج میں انتشارپیدا کرنا چاہتا ہے تو اس قوم میں انفرادیت پیدا کر دیتا ہے قوم مجموعی طور پر اجتماعی مسائل سے غافل ہوجاتی ہے۔ سیاسی شعور نہ ہونے کی وجہ سے شخصیت پرستی و خاندان پرستی کو ملکی وسائل پر قابض کر دیتی ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جب کبھی بھی ایسے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد بڑی توانسانی سوسائٹی اجتماعی طور پر زوال پذیر سماج کے طور پر سامنے آنے لگی  ۔جس میں طبقات، فرقہ واریت،اور نفرت نے جنم لیا ۔
جب کبھی لوگوں میں شعور بیدار ہوا تو حکمرانوں نے فرعون کا روپ دھار لیا اور انسانوں کو جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ۔اور حکمران ملکی وسائل کے مالک بن گئے اور جن پر بس نہیں چلاان کو سامراجی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کر کے اپنا حصّہ بٹورا اس حصّہ میں مفاد پرست اور خوشامندی لوگوں نے بھی اپنا ہاتھ صاف کیا اور یہ سب کچھ میرے ملک کے نوجوانوں نے اپنی آنکھوں سے ہوتا ہوا دیکھا اور ہم نے جھوٹے نعروں اور جھوٹی جماعتوں کا ساتھ دے کر قوم کو آج اس حال میں پہنچا یا کے دنیا میں پاکستان کی عزت خاک میں مل گئی ۔
آج  کا نوجوان جن لوگوں کے نعرے لگا رہا ہے ۔اس کو یہ یاد رکھنا چاہیے ان جھوٹے اور مکار لوگوں کے نعرے اُن کے باب دادا بھی لگاتے رہے ہیں لیکن قوم ذلت و رسوائی کے گڑھے میں غرق ہو کررہ گئی ہے۔

اس لیے میں اکثر کہتا ہوں اے نوجوانوں یہ سسٹم جس کے لیے بنایا گیا تھا وہ 70سال پہلے بھی خوش تھے اور آج 70سال بعدبھی وہی خوش ہیں ۔اگر یہی سسٹم جو ظلم کی بنیاد پر قائم ہے 70سال بعد بھی یہی لوگ ہونگے اور قوم ذلت و رسوائی کا طوق گلے میں ڈالے غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان شعور حاصل کر کے انفرادی سوچ سے نکل کر اجتماعی نظریہ اپنائے اپنی اجتماعیت مضبوط کر کے سچے لوگوں کی صحبت میں رہے یا تلاش کرے اور ظلم پر مبنی نظام کے خلاف شعوری جدوجہد میں شریک ہو۔ دنیا میں جتنے بھی انقلابات  آئےان میں نوجوانوں نے جدوجہد سے ہی آزادی حاصل کی ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}