مشال خان یوسفزئی کے قتل کے بعد — ڈاکٹر ممتاز خان

وطن عزیز ایک مصیبت سے جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے تو دوسری مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ مشال خان یوسفزئی کا قتل کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پہ سیاست اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست میں بہت فرق ہے۔ اگر یہ فرق ہمارے معاشرہ کی سمجھ میں آ جائے تو اس طرح کے واقعات کبھی بھی نہیں ہوں گے۔ لیکن یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ اس کی وجہ غلط مذہبی طاقتوں کو اسلام کا ٹھیکہ دنیے کی ہماری پرانی ریاستی پالیسی ہے۔ مذہب کی تشریحات اپنے مفادات کے لے کرنے والے لوگ، جماعتیں اور گروپس شعوری طور پہ اس طرح کے نظریات کی ترویج کرتے ہیں اور پھر چند لوگ اس کام کو بغیر معاوضہ لیے انجام دیتے ہیں۔ اس سے شر کی فلاسفی پھیلانے والے بچ جاتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں ہو پاتی۔

مذہب کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال برصغیر میں اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ غلط مذہبی گروہ اور سیاسی۔مذہبی گروپس ہندوستان اور پاکستان دونوں میں مذہب کے ذریعے اپنی طاقت بڑھانے پہ زور دیتے ہیں۔ 

تاریخی طور پہ مسلم لیگ نے سیاست میں کامیابی کے لے مذہب کو استعمال کیا تھا۔  جب ایک بڑی سیاسی طاقت اپنے مخالفین کا سیاسی مقابلہ اس طرح کے اوچھے طریقوں سے کرنا شروع کر دیتی ہے تو پھر وہ طریقہ رکتا نہیں اور سماج میں روایت بن جاتا ہے۔

مذہب کو ذریعہ بنا کر تحریک پاکستانکے دوران بھی لوگوں کے شدت پسندانہ جذبات ابھارنا درست نہ تھا پاکستان کے حصول کی تحریک اگر غربت کے نعرہ پہ چلتی تو زیادہ بہتر ہوتا اور آزادی کے بعد بھی ہمارافوکس غربت پررہتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ملک بننے کے بعد بھی بیرونی طاقتوں کی ایماء پہ ملک میں افغانستان کے حق میں جہاد کی تحریک، اسلام کے نام پہ شروع کی گئی۔ یہ بھی سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال تھا اور وہ جہادی نظریہ پاکستان کو تو متاثر کر ہی رہا ہے، آج پورا عالم عرب، افغانستان، یورپ اور افریقہ اس نظریے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ 

جہاد کے بعد اب عشق کے نام پہ قتل ایک اور شدت پسندی کی طرف جانا ہے۔ ان ساری تحریکوں کے ذریعے ہم اپنے نوجوان کو جذباتی اور شدت پسند بنا رہے ہیں اور اپنی آبادی کو اپنی طاقت بنانے کی بجائے بھیڑ بنا رہے ہیں۔ ایک ایسی بھیڑ جو چند سیاسی نعروں پہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے اور کسی بھی مقصد کے لے استعمال ہو جاتی ہے۔آبادی میں بے تحاشا اضافہ اور غیر تربیت یافتہ افرادی قوت کسی بھی قوم کی طاقت بننے کی بجائے اس کے لیے عذاب کا سبب بنتی ہے۔

اگر ہم اس بات کا تجزیہ کریں کہ آخر پاکستان کی مذہبی جماعتیں یا مذہب کا استعمال کرنے والی سیاسی جماعتیں، ان نظریات کو کیوں پھلاتی ہیں تو ہمیں اس کے پیچھے ڈالر/روپے کا کھیل نظرآئے گا۔ ان نظریات کا پرچار بیرونی آقاؤں کی ایما پر ہوتا ہے، اور مقامی خدا اپنی طاقت بھی بڑھانا چاہتےہیں۔ اس کے پیچھے معاشی فیکٹر ہے۔ پاکستان کے جی-ڈی-پی کا بڑا حصہ آج بھی زراعت سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ ہم نے اپنی آبادی کو جدید اکانومی سے متعارف کروایا ہی نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مغرب پہ انحصار اور قیادت کی کام چوری کی عادت تھی، جس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ دنیا کس طرف جا رہی ہے۔ ہماری آبادی کے وسائل کیوں کم ہو رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اپنے آبادی کے لیے قومی سطح پہ پلان کیسے بنایا جائے اس حوالے سے ریاستی سطح پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

 بنیادی طور پہ ہمارا نوجوان فارغ ہے اس کا ذہن خالی ہے اور پرانی ضرب المثل کہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے، کے مصداق فارغ نوجوان کو کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے سسٹم کو سمجھنا ہوگا کہ یہ واقعات ایک تسلسل کا حصہ ہیں جو کہ ایک سوچ پہ کھڑا ہے اور اس سوچ کی آبیاری بیرونی اور اندرونی پیسے سے ہو رہی ہے اور اس میں مہرہ کے طور پہ ہمارانوجوان مر بھی رہا ہے اوردوسروں کو مار بھی  رہا ہے۔

نوجوان کے ذہن کو مثبت معاشی کاموں کی طرف لگانا حکومت اور سسٹم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جبکہ معاشی سرگرمیاں پیدا کرنا بھی سسٹم کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے سسٹم نے آج بھی مذہبی قیادت اس ٹولہ کو دی ہوئی ہے جو سواری تو لینڈ کروزر میں کرتا ہے لیکن فتوی یہ دیتا ہے کہ تصویر بنانا حرام ہے۔ اب اگر اس قسم کے نظریات معاشرے میں لوگوں کی سوچ پہ غالب آ جائیں تو جدت ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں قوم کبھی بھی جدید معاشی نظام کی تشکیل نہیں کر پاتی اور پھر روائتی ذریعہء روزگار، جیسے زراعت بین الاقوامی منڈی میں اپنی قیمت کھو دیتے ہیں۔ مجبوراً ملک کی سرحدوں میں موجود گروہوں کو اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے بیرونی مدد لینا پڑتی ہے اور پھر بیرونی آقا اپنا ایجنڈا لاگو کرتے ہیں۔ یہی وجہ تھی ڈالر جہاد کی، بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کی، تحریک طالبان کی، اور اب عشق کے نام پہ پلنے والے گروپوں کی۔

اب اگر ہمارہ سسٹم بین الاقوامی معاشی نظام کی جدت کو سمجھے اور اس کے حساب سے پلان کرے تو ہمارہ نوجوان ان اشتعال انگیز کاموں میں نہیں الجھے گا، کیونکہ وہ مصروف ہونا چاہتا ہے۔اگر ہم بیرونی ڈالر کی خیرات لینے کے بجائے باعزت طور پہ اچھا معاشرہ تشکیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو سب اچھا ہو جائے گا۔ تہذیبی ارتقا کے جس مرحلہ پہ اقوام عالم کھڑی ہیں ہم اس میں اپنا کردار تب ہی ادا کر سکتے ہیں، جب ہم اپنا معاشی ڈھانچہ جدید اور قومی مفاد پہ کھڑا کرتےہیں۔ جب یہ ہو جائے گا، تو کوئی مرے گا بھی نہیں اور مارنے والے بھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوں گے، وہ دن شر پھلانے والوں کا آخری دن ہوگا۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}