صد سالہ یوم تاسیس؟ اور جمعیت علماءاسلام  ( ف ) عاصم ڈوگر

جمعیت علماء کے سرخیل اورمدرسہ دیو بند کے صدر جناب شیخ الہند مولا نا محمود حسن ؒ کی جماعت کی سامراج دشمنی اور خطے کی آزادی کے لئے قربا نیوں سے پوری د نیا کا باشعور طبقہ آگاہ ہے۔ ا نگریز سامراج کو ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کرنے کے لئے تمام تحریکات کا مرکز دیو بند اور اس سے جڑے مراکز سے رہا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ ؒ کے فکر پر قائم جماعت نے تسلسل کے ساتھ سامراج اور اس کے نظام کے خلاف عصری اور مستقبل کی پالیسیاں تشکیل دیں۔ ا ن پالیسیوں کے نتیجے میں ا نگریز سامراج کو نہ صرف بر عظیم سے نکلنا پڑا بلکہ د نیا بھر سے اس کے پاوں اکھڑ گئے ۔ یوں جس سامراجی طاقت کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہو تا تھا سمٹ کر ایک جزیرے برطا نیہ تک محدود ہو گئی۔ شیخ الہند ؒ نے بیسویں صدی کے آغاز پر کمزور ہوتے سامراج اور مستقبل کی حکمت عملی کے تحت آزادی اور نظام عدل کے قیام کے لئے عدم تشدد کی پالیسی وضع کی۔ امام انقلاب مولا نا عبید اللہ سندھی ؒ نے آپ کے استاد اور مرشد (شیخ الہند محمود حسن ؒ) کی وضع کردہ عدم تشدد کی پالیسی کی روشنی میں مستقبل میں قومی اور بین الاقومی دینی نظام کا خاکہ پیش کیا اور اپنی فکر و تحریر سے ولی اللٰھی جماعت کی راہیں متعینکردیں۔ قیام پاکستا کے بعد حقیقی آزادی سے محروم آلہ کار نظام کے خلاف ولی اللٰھی جماعت کی جدوجہد قومی تاریخ کا حصہ ہے، جبکہ درپردہ ا نگریز سامراج کی حمایت یافتہ مذہبی/ سیاسی جماعتوں نے تشدد کی پالیسی اختیار کی اور حقیقی جماعتوں کے خلاف پروپیگنڈا میں شراکت دار کا کردار ادا کیا۔
ذاتی اور گروہی مفادات کے تحت سامراجی آلہ کار جماعتیں قومی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر ظلم گری کے کھیل میں لاکھوں ا نسا نوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ا پالیسیوں کے نتیجے میں امریکی سامراج کی کشت و خون کی حکمت عملی کو طاقت بخشی گئی ۔ د نیا میں اسلام کے نام پر جہاد اور پھر اس آڑ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پوری ا نسا نیت کو شرما دیا ۔کروڑوں ا نسا نوں کے قاتل امریکی سامرج کو تشدد کا میدا ن فراہم کیا گیا۔ ان کروڑوں مقتولین کے خونکے چھینٹے ا ن جماعتوں کے دامن پر موجود ہیں۔ اب ایسی جماعتوں کے سابقہ کردار کو مد ظر رکھتے ہوئے ان کی سیاسی اور مذہبی پالیسیوں پر کئی سوالات ابھرتے ہیں ۔ کہ کہیں ایک بار پھر سے اجڑے گلش میں خزاں کی رُت لا نے کی تیاری کی جارہی ہے ۔۔۔ جن بُزرگوں کے نام پر صد سالہ تقریب کا جشن منایا جارہا ہے کیا مذکورہ جماعت ان اکابرین سے کسی قسم کا تعلق بھی رکھتی ہے ؟
 1۔ اصل جماعتی پالیسی سے ا نحراف کے بعد شیخ الہند ؒ کی جماعت سے تعلق کس اصول / تسلسل پر باقی ہے ؟
 2۔ بزرگوں کی طے کردہ پالیسی کو کس مقصد/ مفاد کے تحت تبدیل کیا گیا ؟
3۔ اپنی نئی پالیسی کے اعلان سے پہلے افغان جنگ میں لاکھوں ا نسا نوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کیوں نہیں کی گئی ؟
4۔ ملک میں نظام عدل کی جدوجہد کی بجائے ظالما نہ نظام کا حصہ بن کر مفادات کا حصول اسلام اور ا نسا نوں سے کیسی دوستی ہے ؟
5۔ ولی اللٰھی جماعت کی تین سو سال زائد کی جدوجہد آزادی پر سامراج سے کب تک سودے بازی کی جائے گی ؟
5۔ پالیسی شفٹ کی تقریب میں امریکی سفیر کو کس مقصد کے تحت دعوت دی گئی؟
6۔ ہزاروں مخلص طلباءکو سامراجی خو نی کھیل (افغان جہاد) میں دھکیلنے کے بعد اب کیسے اعتبار کیا جائے کہ نئی حکمت عملی  سےنئی نسل کو مزید کسی کنویں میں نہیں دھکیلا جا رہا ہے؟
اب مولا نا شیخ الہند ؒ کی جماعت سے وابستگی کے اظہار کی ایک ہی صورت ہے کہ ا نسا نیت کے خلاف پچھلے گناہوں کی توبہ کی جائے اور سامراج کے آلہ کار کا کردار ادا کر نے کی قوم سے معافی ما نگی جائے۔ اور امریکہ کے خلاف رسمی نعرہ بازی کی بجائے نوجوا نوں کو سامراج کا حقیقی تعارف کرا نے والی جماعت کے ساتھ مل کر قومی اور بین الاقوامی جدوجہد کا حصہ بنیں ۔ بصورت دیگر آپ کا ہر عمل شک کی راہ سے گزرتا ہے۔

You may also like this

19 April 2017

جے یوآئی کا صد سالہ اجتماع: تلخ حقائق، کڑوے سوالات --- عزیزی اچکزئی

<p dir="rtl" style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">جے یو آئی کے صدسالہ

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}