سانئسدان کا ذہن کیسے پیدا کیا جائے؟ — ڈاکٹر ممتاز خان

ایک ایسا معاشرہ جہاں بنیادی انسانی سوچ کا فقدان ہو،وہ معاشرہ اعلیٰ فکر کے ماہرین پیدا نہیں کر پاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہاں کا ماحول ہوتا ہے، کیونکہ ماحول ہمیں سکھاتا ہے۔ بچے کو زبان ہم نہیں سکھاتے، ماحول سکھاتا ہے۔ وہ ماحول پیدا کرنا سماج کی لیڈرشپ کا کام ہوتا ہے۔ آج کا مضمون ایک غیر پیداواری معاشرے میں سانئسدانوں کی کھیپ تیار کرنے کے بارے نہیں ہے، بلکہ اگر ایک معاشرہ پرامن اور خوشحال ہے تو اس میں کیسے سانئسی ذہن کے حامل ماہرین پیدا ہوتے ہیں، کے بارے میں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر پیداواری معاشرے سے اچھے افراد پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں، پیدا تو ہو سکتے ہیں لیکن بہت کم مقدار میں اور وہ بھی اپنی انفرادی کوشش سے۔ اگر آپ بھی ایسی جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو یہ مضمون آپ کی مدد کرسکتا ہے۔

کیا وجہ ہے کہ ایک ہی ماحول میں کحچھ  افراد اچھے سانئسدان بن جاتے ہیں اور کچھ نہیں بن پاتے۔ اس کے لیے آپ کو سانئسدان کا ذہن سمجھنا ہوگا۔ آپ کو سمجھنا ہوگا کہ سانئسدان کا ذہن شعرا، کسانوں،اور کاروباری حضرات سے مختلف ہوتا ہے۔ اگرچہ سب لوگ سوچتے تودلیل سے ہی ہیں، لیکن سب کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ سانئسدان بننے کے لیے بنیادی طور پہ جس شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے: وہ مشاہدہ ، تجزیہ اور نتائج پہ ہر وقت غورو فکر کرنے والی ہونی چاہئیے۔ یادداشت بھی ایک ضروری ہتھیار ہے، لیکن یہ تجسس سے کم درجے کا ہے۔ سانئسدان بننے کے لیے کن خصلتوں کا ہونا ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں۔

۱۔ مسلسل مشاہدہ اور تجسس۔

۲۔ اپنے پراجیکٹ اور پرابلم پہ ہی سوچنا۔

۳۔ روزانہ کی بنیادوں پہ اپنے سبجیکٹ کے متعلق ہی سوچنا۔

۴۔ اپنے پرابلم کو مخصوص حالات کی روشنی میں سمجھنا اور اپنا تجربہ کرنا۔

۵۔ اپنے تجربے کو جنرل تھیوری اور مخصوص ڈیٹا سے سمجھنا۔

۶۔ اپنے شعبے کی عینک اتار کے دوسرے شعبے کے ماہرین کی مدد لینا اور ان کے نقطہ نظر سے پرابلم اور نتائج کو سمجھنا۔

۷۔ اپنے پرابلم کی اہمیت کو سمجھنا۔

۸۔ خطرات مول لینا اور کبھی کبھار تُکے سے بھی کام چلانا۔

۹۔ تجربہ کی ناکامی سے سیکھنا اور کبھی بھی جلد بازی نہ کرنا۔

۱۰۔ اپنے نتائج پلان کے حساب سے سمجھ نہ آ رہے ہوں تو بھی ایمانداری اور اپنی سمجھ سے لکھ دینا۔

۱۱۔ اپنے ڈیٹا کو مختلف زاویوں سے دیکھنا۔

سانئسدان بننا ایک پراسس ہے اور سانئسدان جتنا پرانا ہوتا جاتا ہے قیمتی ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے اکثر ملکوں میں ریٹارمنٹ کے بعد بھی سانئسدانوں سے کام لیا جاتا ہے۔ جاپان میں پالیسی میکنگ میں ریٹارڈ سانئسدانوں کی خدمات لی جاتی ہیں۔ کم بولنے والے افراد اس شعبے کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ بولنے والے افراد برے ہیں، وہ بھی مناسب ہو سکتے ہیں اگر مشاہدہ کی عادت رکھتے ہوں۔ اپنے کام سے جذباتی لگاؤ رکھنا اور دل کے قریب رکھنا بہت ضروری ہے۔ دل اور دماغ کا ایک پیج پہ ہونا بہت ضروری ہے۔ خیالوں میں رہنے والے افراد بھی اگراپنی توانائی کو صحیح سمت دیں تو سب سے موزوں امیدوار ہو سکتے ہیں۔ طاقت اور پیسے کے پیچھے بھاگنے والے افراد اس شعبے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ سانئسدان بن کر آپ کو سوچنا ہوگا، اپنے نتائج کا دفاع کرنا ہوگا، نئے نظریات کو جنم دینا ہوگا، پرانے نظریات سے مشاہبت قائم کرنی ہوگی اور کبھی کبھار ان کو خیرآباد بھی کہنا ہوگا۔

ان سب خطرات کے بعد آپ سانئسدان بن جائیں گے، لیکن امیر تو شائد نہ ہی ہوں، البتہ بھوکے بھی نہیں مریں گے، تو سوچ سمجھ کے آئیں گے تو سفر اچھا کٹے گا۔

 

 

People Comments (1)

  • qazi inam April 20, 2017 at 1:14 pm

    زراعت اور صنعت کا بنیادی انفرا سٹکچر ارتقائی عمل سے نہیں گزرے گا تب تک سائنسی فکر اور سوچ پیدا نہیں ہوسکتی ،زراعت کے لیے لینڈ ریفارم کا ہونا بہت ضروری ہے ،بنیادی طور پر زرعی آلات کی پیداوار ہی صنعتی ترقی اور انقلاب کے دور میں داخل کرتی ہے ،ہم جیسی پسماندہ ریاستوں کے اندر بہت کم ایسے کردار پیدا ہوتے ہیں جو روحانی طور پر زمینی سائنسی حقائق سے جڑ کر آفاقی حقائق تک پہنچتے ہیں ،لیکن وہ آفاقی حقائق جن کو وہ روحانی طور پر سمجھ جاتے ہیں ان کو آلات کی سائنس اور ترقی تجربات سے گزار کر حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے ،سرمایہ دارانہ طبقاتی نظام نے حقائق تک پہنچنے کی رسائی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہوا ہے ،جس کی وجہ سے یہ زمین کا چھوٹا سا گولا انتہائی بدنماء داغ بن گیا ہوا ہے ،اگر اس داغ کو انسانوں نے دھونے کی کوشش نا کی تو نیچر کی جدلیاتی زمینی حقیقت خود ایک انتقام بن کر ان پر جھپٹ پڑے گی ،اس وقت زمین انتہائی پراگندہ ہوچکی ہے ،پچھلے تین ہزار سال سے خدا اور انبیاء کی تعلیم کو اور خصوصاً انبیاء کے مسائل کو سمجھنے کی بجائے مذہب کے ٹھیکے داروں نے ہر دور میں خدا اور انبیاء کو ہرغمال بناکر انسانوں کا استحصال کیا ہے ۔اور خدا اور انبیاء کو اپنی ٹھیکے داری عینک سے دیکھا ہے ،ایسے صوفیاء بھی پیدا ہوئے ہیں جن کی حقائق تک رسائی تھی ،لیکن ان ٹھیکے داروں کے خوف کی وجہ سے وہ جنگلوں غاروں اور ویرانوں میں ہی زندگی بسر کرگئے ،اویس کرنی اس کی مثال ہیں ،بدقسمتی دیکھیں جس اویس کرنی کو اللہ کے رسول نے اپنا جبہ بھیجا اور دعا کے لی کہا، حضرت عمر اور حضرت علی جیسے رسول شناس اویس کرنی کی خدا شناسی کو نا سمجھ سکے اور دعا کروا کر واپس چلے گئے ،اویس کرنی شریعت کی اجتہادی فکر کو سمجھتے تھے ،تحقیق ،تعمیراور تسخیرِ کائنات کی حقیقت کو سمجھتے تھے ،ان کی عبادت کے معیار غور وفکر کی بنیاد پر تھے ،اس دور کی شریعت کے معیار پروہ فٹ نہیں ہوتے تھے ،اس لیے ہمیشہ انہوں نے اللہ کے رسول سے ملنے سے اجتناب کیا ،وہ سمجھتے تھے وہ اللہ کےبھیجے ہوئے رسول ہیں لیکن زمینی حقائق انتہائی سفاک تھے ،بنجر زمین کی اشرافیہ کا کلاس کریکٹر انتہائی پاور فل تھا وہ پسماندہ اور محکوم طبقات کی صحیح نمائندگی نہیں کر رہا تھا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}