جے یوآئی کا صد سالہ اجتماع: تلخ حقائق، کڑوے سوالات — عزیزی اچکزئی

جے یو آئی کے صدسالہ اجتماع کی مناسبت سے اس موضوع سے متعلق اجتماع کے انعقاد سے پہلے بھی خاکسار نے اپنے فیس بک وال پر کچھ عرض کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا مگر ایک عزیز دوست نے جوابی پوسٹ لکھ دیا کہ اس موقع پر ’اس قسم‘ کی بحثوں کو چھیڑنا بالارادہ سازش نہ سہی ، مگر غیرارادی سازش کا حصہ ضرور بننا ہے جس کے بعد میں نے اس موضوع کو ادھار رکھنے کا فیصلہ کیا چونکہ اعتماد اور احترام کا تعلق استوار ہوتے ہوتے مدت گزرجاتی ہے اس لیے ان نازک آبگینوں کو ٹھیس پہنچنے میں یہ نابکار کچھ حساس واقع ہوا ہے۔ مگر اب جب اجتماع کا انعقاد ہوچکا تو اجتماع کی رپورٹوں اور مشاہدات کے بعد وہ موضوع ہی بدل گیا جس پر خامہ فرسائی کرنے کی ضرورت پہلے محسوس ہوئی تھی۔

ایک اعتراض جو عمومی طور پر اجتماع کے انعقاد کی تاریخ پر کیا جارہا تھا وہ اجتماع کا وقت تھا کہ 1919ء میں تشکیل پانے والی جمعیت علمائے ہند کی تاسیس کے سوسال تو 2017ء کی بجائے 2019ء میں پورے ہونے ہیں پھر 2017ء میں اس کی صدسالہ تقریبات کا انعقاد کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے لیکن اس کا جواب یہ دیا گیا کہ سوسال ہجری قمری کیلنڈر کے حساب سے پورے ہو رہے ہیں۔ یہ وضاحت واقعی قابل قبول ہے مگر اس صورت میں پھر صرف یہ کرنا چاہیے تھا کہ اجتماع کی تاریخ بھی ہجری قمری تقویم کی حساب سے 9 /10/11 رجب المرجب 1438 بتائی جاتی نہ کہ 2017ء کے اپریل کی 7/8/9 تاریخیں۔


دوسرا سوال یہ تھا کہ جے یوآئی کس فکر اور سوچ کا تسلسل ہے؟ اس جمعیت علمائے اسلام کی جس کے بارے میں 5 دسمبر 1945 کو مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ نے اپنے فتاویٰ کفایت المفتی کی جلد نہم میں لکھا ہے کہ یہ غیر علما کی کوشش سے جمعیت علمائے ہند کے خلاف اور مقابلے کے لیے بنائی گئی ہے اور اس کا مقصد لیگ کی تقویت، جمعیت کی کمزوری اور مسلمانوں کو دھوکہ دے کر انگریزوں کی مدد کرنا ہے یا پھر جے یوآئی اس جمعیت علما ئے ہند کا تسلسل ہے جس کے بارے میں 21 مئی 1968ء کو مفتی تقی عثمانی صاحب کی جانب سے محمدشفیع رحمتہ اللہ کی تائید کے بعد جاری ہونے والے فتاویٰ عثمانی جلد سوم میں یہ فتویٰ لکھا گیا ہے کہ موجودہ جمعیت وہ جمعیت نہیں ہے جس نے قیام پاکستان کی جدوجہد کی تھی، اگر جے یوآئی جمعیت علمائے ہند کا تسلسل ہے تو پھر ان کی فکر، سوچ اور پالیسی میں جمعیت علمائے ہند کے اثرات کہاں ہیں؟ اور اگر جمعیت علمائے اسلام کا تسلسل ہے تو پھر جمعیت علمائے ہند کی صدسالہ تقریبات سے جے یوآئی کا کیا تعلق ہے؟ تو جے یوآئی جو کہ نہ تو جمعیت علمائے ہند کی فکر کا تسلسل ہے اور نہ ہی 1945 میں علامہ شبیر احمد عثمانی کی قیادت میں بننے والی جمعیت علمائے اسلام کا، تو کیا پھر جے یوآئی اپنی فکر وپالیسیوں کی بنیاد پر ان دونوں جماعتوں سے ایک بالکل مختلف تیسری جماعت ہے جس کے نام کے ساتھ 2002ء میں الیکشن کمیشن کی رجسٹریشن میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر فضل الرحمن گروپ کا بھی اضافہ کیا گیا ہے؟


صد سالہ اجتماع کے حوالے سے جو سب سے بڑی توقع کی جا رہی تھی وہ یہ تھی کہ شاید اس فورم سے مذہبی طبقے کو کوئی نیا اور واضح اجتماعی لائحہ عمل دیا جائے گا جس سے دنیا بھر میں مذہب، مذہبی تعلیمات اور مذہبی طبقے کے بارے میں قائم کردہ شدت پسندی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اگرچہ اس اقدام سے اس وقت کسی خاص نتیجہ خیزی کی امید نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ بات اب بہت آگے بڑھ گئی ہے۔ جو خونریزی، تباہی اور بربادی مسلم معاشروں کا مقدر ہے اسے اب کسی صورت ٹالا نہیں جا سکتا۔ کسی بیانیے، فتویٰ، اعلامیے اور قرار داد سے اب کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ دور ہر فکر اور آئیڈیالوجی کی تاریخ میں آتاہے جب اس فکر کا اختیار اس کے اصل شارحین سے اس کو ہائی جیک کرنے والی سرکش قوتوں اور زورآور عناصر کو منتقل ہو جاتا ہے۔ سٹالن کے کارناموں سے لینن کبھی متفق نہ ہوتے، ایران میں خمینی کے انقلاب کی کامیابی کے بعد 23 اپریل 1979 سے لے کر 8 جنوری 1980 تک کے تقریباً 8 مہینوں کے دوران صف اول کے رہنماوں کو قتل کر دیے جانے کا ایک پراسرار سلسلہ جاری رہا ۔اس دوران مرتضیٰ مطہری جیسی شخصیات کو قتل کیا گیا جسے خمینی نے ان کی جدوجہد و خدمات کی وجہ سے اپنے ’عزیز فرزند‘ کا لقب دیا تھا اور بعد میں ایران کے صدر، وزیر خارجہ اور مصالحتی کونسل کے سربراہ بننے والے ہاشمی رفسنجانی کو اسی دوران ان کے گھر میں گھس کر خنجروں کے وار کرکے قتل کر دیا گیا، یہ معمہ مذہبی حکومت کے لیے درد سر بن گیا ۔اپنے تمام تر ذرائع استعمال کرنے کے باوجود انہیں قتل کی ان وارداتوں کے پیچھے کسی منظم گروہ یا ملک کا سراغ نہیں مل رہا تھا لیکن پھر اتفاقاً کسی دوسرے مقصد کے لیے سروے کرنے والی ایک سرکاری ٹیم کو ایک مکان میں غیر معمولی نقل وحرکت اور افراد کی موجودگی کا شبہ ہوا۔ جب اس مکان کی ریکی کی گئی تو یہ شبہ یقین میں بدل گیا اور مکان پر چھاپہ مار کر تقریبا ً75 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ اس گروہ کا سرغنہ اکبر گودرزی نامی شخص ہے جوکہ خود بھی مذہبی عالم تھا اور گرفتار ہونے والے افراد میں شامل تھا۔ یہ لوگ ڈاکٹرعلی شریعتی کی فکر سے متاثر تھے۔

شریعتی کی فکر میں تشدد اور ہتھیار اٹھانے کا تصور دور دور تک نہیں ملتا لیکن ایک تو ان کی تقریروں میں ملائیت ( ایرانی اصطلاح میں آخوندازم ) کے خلاف اتنا نفرت ابھارا گیا ہے کہ ان کے پیروکاروں کے لیے مذہبی علما کا وجودہی ناقابل برداشت ہو گیا تھا اور دوسرا یہ کہ شریعتی نے اپنے لیکچرز میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کی زاہدانہ اور سادہ طرز زندگی کو اتنا آئیڈیلائز کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی فکر سے متاثر اس گروہ کے لیے کسی ایسے شخص کو مسلمان تصور کرنا بھی مشکل تھا جو کسی لگژری گاڑی میں گھومتا ہو یا کسی بڑے مکان میں رہتا ہو۔ اگر علی شریعتی زندہ ہوتے تو اپنی فکر کی اس تعبیر واطلاق سے خود بھی دم بخود رہ جاتے۔ اگر شریعتی خود بھی اپنی فکر کی اس تشریح سے اختلاف کرتے تو شریعتی کو پڑھنے کے نتیجے میں ان لوگوں کی جو ذہنیت بن گئی تھی اس میں خودشریعتی کو بھی شاید واجب القتل سمجھا جاتا۔ لہٰذا ان معاملات میں کسی بیانیے اور اعلامیے کی افادیت صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک معاملات واقعی معروف مذہبی و سیاسی قیادت کے کنٹرول میں ہوں۔ مذہب یا کوئی بھی دوسری آئیڈیالوجی ایک آلے کی حیثیت سے نہ بین الاقوامی استعماری کے ہاتھوں میں علما کی تائید کے بغیر آ سکتا تھا اور نہ ہی کوئی ایسا گروہ وجود میں آتا جو علمائے دین کی ہدایت وفتویٰ کے بغیر کسی خود سرانہ راستے پر چل پڑتا مگر بدقسمتی سے مجموعی طور پر مذہبی قیادت بروقت ایسی دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔


افغانستان میں سب سے پہلے جہاد کا فتویٰ مولانا مفتی محمود رحمتہ اللہ نے دیا تھا۔ یہ فتویٰ انہوں نے اکتوبر 1979 میں دیا تھا اور اپنی علالت کے باعث بڑے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن کو جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں منعقدہ علما کے جرگے میں بھجوا کر وہاں افغانستان میں جہاد ومزاحمت اور ہجرت کے باقاعدہ شرعی جواز کا اعلان کیا گیا تھا ( ماہنامہ الجمیعت راولپنڈی اکتوبر 1999 )۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکتوبر 1979 تک تو افغانستان پرسوویت یو نین نے حملہ اور جارحیت بھی نہیں کی تھی پھر مفتی صاحب کا فتویٰ کس کے خلاف تھا؟ کیا مفتی صاحب کچھ خاص حالات میں ریاست کے خلاف خروج کو جائز سمجھتے تھے؟ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ فتویٰ مفتی صاحب کا ذاتی فتویٰ تھا اور اس کا جے یوآئی سے بحیثیت جماعت کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ جے یوآئی کے امیر اس وقت مفتی صاحب نہیں بلکہ مولانا درخواستی تھے اور پھر مفتی صاحب کا اس فتویٰ کے اعلان کے لیے کسی جماعتی عہدیدار کے بجائے اپنے صاحبزادے کو بھجوانے سے بھی اس امر کو تقویت ملتی ہے۔ لیکن اس حوالے سے ایک عجیب صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک طرف مفتی محمود رحمتہ اللہ افغانستان میں جہاد کا فتویٰ دے رہے ہیں اور دوسری طرف اسی دوران کابل میں خود ساختہ جلاوطنی گزارنے والے اجمل خٹک اپنی ذاتی ڈا ئری میں لکھتے ہیں کہ آج مجھے پاکستان سے مولانا مفتی محمود کا ایک خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے مجھے اپنی طرف سے انقلاب کے رہنماوں کو ( انقلاب کی کامیابی پر ) مبارکباد پیش کرنے کا کہا ہے۔


مولانا زاہد الراشدی کے بقول حضرت مفتی محمود اور مولاناغلام غوث ہزاروی کے درمیان اختلافی امور میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہزاروی صاحب افغان جہاد کو امریکی مفادات کی جنگ سمجھ رہے تھے جبکہ مفتی صاحب اور ان کے موقف کے حامیوں کی دلیل یہ تھی کہ کفار نے ایک اسلامی ملک پر جار حیت کی ہے حالانکہ جس جمعیت علمائے ہند کے قیام کی سوسال پورے ہونے کی تقریبات جے یوآئی منارہی تھی اس جماعت کا قیام ایسے حالات میں عمل میں لایا گیا تھا جب انگریز خود ہمارے اس خطے پر قابض تھا مگر اس کے باوجود جمعیت علمائے ہند نے اپنی تاسیس کے بعد جدوجہد کا جو لائحہ عمل اختیار کیا تھا اس کے بنیادی اجزا تشدد، خفیہ سرگرمیوں اور آزادی کے لیے غیر ملکی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر ترک کر دینا تھا۔


اس کے بعد جہاد کا دوسرا مرحلہ افغانستان میں تحریک طالبان کا ظہورتھا ۔اس تحریک کی بھی جے یوآئی ہر لحاظ سے حامی رہی۔ گزشتہ ہفتے جس اضاخیل میں جمعیت کے قیام کا صدسالہ منایا جارہاتھا اپریل 2001 میں یہاں سے چند ہی کلو میٹر کے فاصلے پر واپڈاکالونی تارو جبہ میں ’ ڈیڑھ سو سالہ خدمات دارالعلوم دیوبند‘ کے عنوان سے تین روزہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پوری عقیدت کے ماحول میں ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے امیرالمومنین ملا محمد عمر کا صوتی پیغام مجمع کو سنایا گیا تھا۔ پھر 2000ء میں قندھار میں عیدالاضحی کی اس نماز میں شرکت اور اپنے قائد کا خطاب سننے کے لیے توہم خود بھی دوستوں کے ایک گروپ کی صورت میں قندھار گئے تھے جس کی امامت امیر المومنین صاحب نے کرانی تھی۔ نماز عید کے اس بڑے اجتماع میں جب مولانا فضل الرحمن صاحب کی تقریر جاری تھی اور اسی دوران ملا محمدعمر مجاہد مرحوم بھی عیدگاہ پہنچ گئے جس پر مولاناصاحب فرمانے لگے کہ یہ عجیب نیک بختی کا اتفاق ہے کہ ایک طرف میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓکا ذکر کر رہا ہوں اور عین اسی موقع پر امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد بھی عیدگاہ میں تشریف لائے۔


جے یوآئی کی صفوں میں صرف مولانا شیرانی کا اس زمانے میں یہ موقف تھا کہ افغانستان میں افغانوں کے ایک دوسرے کے خلاف اس جہاد سے بیرونی قوتوں کو افغانستان میں فوجی مداخلت کا ماحول اور جواز مل جائے گا اور یہ کہ مدرسوں کے طلبا کو ان کے والدین کی اجازت کے بغیر پک اپ گاڑیوں میں بھر بھر کر جنگ میں جھونکنا ان معصوم طلبا کے ساتھ ظلم اور ان کے والدین کے ساتھ خیانت ہے مگر مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں 7 اگست 1999ء کو اختتام پذیر ہونے والے جے یوآئی کے تین روزہ مرکزی اجلاس کے فیصلوں کا جو سرکلر 4 ستمبر 1999ء کو جاری کیا گیا اس میں مولانا شیرانی کو براہ راست مخاطب کیا گیا تھا کہ ’ جماعت کی صفوں میں طالبان کی حمایت کے لیے موجود’ گرم جوشی‘ کے برعکس اس حوالے سے آپ کی ’ سرد مہری‘ بدستور موجود ہے اور ہماری معلومات کے مطابق مولانا شیرانی مرکزی فیصلے کے باوجود جا بجا اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں جو جماعتی نظم کے خلاف ہے چنانچہ مرکزی مجلس عاملہ مولانا شیرانی کو اپنی روش تبدیل کرنے کی ہدایت کرتی ہے‘۔


ان تمام حالات کو مد نظر رکھنے کے بعد اب جب مولانا فضل الرحمن صاحب کے بیانات سامنے آتے ہیں کہ میرے مدارس کے طلبا کو کس نے استعمال کیا، کس نے انہیں جنگ کی ٹریننگ دی، کس نے انہیں راکٹ لانچر کا استعمال سکھایا، توان سوالات کا جواب تو ہم نہیں دے سکتے، نہ ہی ہمیں یہ علم ہے کہ حضرت قائد جمعیت یہ سوالات کس سے پوچھ رہے ہیں۔ البتہ ان بیانات سے اتنی بات ضرور واضح ہورہی ہے کہ مولانا صاحب اس الزام کی تصدیق کر رہے ہیں کہ واقعی مدارس اور ان کے طلبا استعمال ضرور ہوئے ہیں۔ مولانا صاحب کے استفسار کا رخ جس جانب ہے یہ تو ان کے مخاطب لوگ خود سمجھ رہے ہوں گے اس لیے ان سوالات کا جواب بھی وہی دے سکتے ہیں مگر مدرسے کا ایک طالب علم تو خود مولاناصاحب سے پوچھنا چاہتاہے کہ حضرت! آپ کے علم میں یہ بات کب آئی ہے کہ طلبا کو کوئی اور استعمال کر رہا ہے۔


استعمال کرنے والے آپ کے مجرم ضرور ہوں گے لیکن ہمارے مجرم تو وہ نہیں ہیں ہمارے پاس نہ تو کوئی میجر آیا تھا نہ کوئی بریگیڈیئر، نہ پولیس کا کوئی ایس ایچ او اور نہ ہی لیویزفورس کا کوئی خاصہ دار اور رسالدار۔ ہمارے پاس تو آپ آئے تھے،آپ کی جماعت کے مرکزی ذمہ داران آئے تھے، آپ کے ’ شانہ بشانہ‘ اور ’ مورچہ بہ مورچہ‘ لڑنے کی خون گرما دینے والی تقریریں آئی تھیں تو کیا بطور ’ تبرک‘ رکھی ہوئی ان تقریروں کو اب ہم بطور ’ ثبوت‘ سنبھال کر رکھیں؟ جب آپ کہتے ہیں کہ سیاست انبیا کرام علیہم السلام کا مشن ہے تو کتنے ہی انبیا اپنے مشن کے راستے میں قتل کردیئے گئے، انبیا کے مشن کی وراثت ظاہر ہے پروٹوکول نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔

صدسالہ اجتماع میں مولانا صاحب نے دہشت گردی کے اسباب بیان کرتے ہوئے اس کا حل مسلم ممالک سے قابض افواج کا انخلا تجویز کیا ۔ان کا فرمانا تھا کہ ریاستی دہشت گردی ( غیرملکی افواج کا مسلم ممالک پر حملہ اور وہاں ان کی موجودگی ) ہی بدامنی کا بنیادی سبب ہے۔ یہ بات واقعی درست اور حقیقت پر مبنی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان غیر ملکی حملہ آوروں کو حملے کا جواز کس نے مہیا کیا تھا اور اب ان کی مستقل موجودگی کے جواز کے لیے وہ بہانہ کیا بنا رہے ہیں؟ غیر ملکی طاقتوں کا کہنا یہ ہے کہ جب تک ایک دہشت گرد موجود ہے ہم انخلا نہیں کر سکتے اور ان کی مزاحمت کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ جب تک ایک بیرونی فوجی موجود ہے ہم جہاد نہیں چھوڑ سکتے تواس گول چکر سے باہر نکلنے کا راستہ آخر ہے کونسا؟

عام توقع کے برخلاف صدسالہ اجتماع کا مرکزی موضوع شدت پسندی اور انتہا پسندی کے بجائے حرمین الشریفین کو درپیش خطرات تھے۔ قائد جمعیت نے اپنے افتتاحی صدارتی خطاب میں تین مرتبہ مسلسل ’ لبیک یا حرمین، لبیک یا حرمین، لبیک یا حرمین‘ کا شعار بلند کیا۔ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور نے ہمیں یہ بات سمجھانے کی کوشش فرمائی کہ چاروں متعارف فقہ بھی اصل میں قرآن وسنت پر مبنی ہیں اور اختلافات فروعی اور اجتہادی قسم کے ہیں حالانکہ یہ بات تو ہم پہلے سے اسی طرح سمجھتے آئے تھے اس کو اس طرح سمجھنے کے لیے تو سعودی شیوخ تیارنہیں تھے اور انہوں نے حرم میں موجود فقہ کے چاروں بڑے آئمہ کے ناموں سے منسوب مصلے ختم کردیئے تھے۔ وزیر مذہبی امور تو بہر حال وزیر ہے، سیاست کے تقاضوں اور ضروریات کو سمجھتے ہوں گے مگر امام کعبہ کو شاید اس نئے عقیدے کو اپنانے کے بارے میں بریفنگ نہیں دی گئی تھی لہٰذا وہ اپنی تقریر میں بار بار ’ صرف اور صرف‘ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی بات دہرا رہے تھے ۔اس بات میں بظاہر کوئی قباحت نظر نہیں آتی مگر مذہبی مباحث سے تعلق رکھنے والے حلقے اس ’ صرف اور صرف‘ کا مطلب اچھی طرح جانتے ہیں۔ امام کعبہ نے ’ بعض‘ایسے لوگوں کے بارے میں بھی اجتماع کو بریف کیا جو ہمیں اللہ کے نبی اور قرآن سے کاٹنا چاہتے ہیں اس موضوع سے تمام تر واقفیت کے باوجود یہ بحث جے یوآئی کے سٹیج سے اس سے پہلے کبھی سننے کو نہیں ملی تھی انہوں نے اپنے خطاب میں اسلام کے لیے پاکستان کی اور پاکستان کے لیے اسلام کی اہمیت کو بھی بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا۔

حرمین الشریفین کی حفاظت کا مسئلہ واقعی ہر مسلمان کے لیے انتہائی حدتک حساس اور تمام تر اولیت اور اہمیت کا حامل ہے اس میں کسی دورائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن یہاں کچھ سوالات ایسے ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ حرمین الشریفین چونکہ سعودی عرب کی جغرافیائی حدود میں واقع ہیں اس لیے سب سے پہلے یہ تجزیہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ سعودی ریاست، سعودی حکومت اور حرمین الشریفین تین مختلف چیزیں ہیں۔ سعودی ریاست جیسا کہ اس کے نام ’ المملکتہ العربیہ السعودیہ ‘ سے ظاہر ہے ’ خلافت عثمانیہ‘ کے نام سے قائم مسلمانوں کی وحدت سے عرب نیشنلزم کی بنیاد پر الگ ہوئی تھی ۔یہ ریاست آل سعود خاندان کے مستقل حق اقتدار کو تسلیم کرنے کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔ حرمین الشریفین ان کی حفاظت میں قبضے ہی کی صورت میں آیا تھا ۔سعودی ریاست کے وجود میں آنے کے کچھ سیاسی پس منظر اور پھر آل سعود کی طرز حکمرانی کی بھی کچھ تاریخ ہے۔ سیاسی اعتبار سے اس ریاست کی کیا حیثیت ہے اس حوالے سے بر طانیہ کے ساتھ اس ریاست ک۔ معاہدے سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔

سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

1915ء میں کویت میں شاہ عبد العزیز بن سعود اور برطانوی نمائندہ لیفٹیننٹ کرنل سر پرسی کاکس کے درمیان تحریری طور پر ایک معاہدہ طے پایا۔

اس معاہدے کا متن ملاحظہ فرمائیے:

’چونکہ حکومت عالیہ برطانیہ اور نجد و احسا و قطیف و جبیل اور اس کے ملحق مقامات کے حاکم عبد العزیز بن عبد الرحمان بن فیصل السعود کی خود اور اپنے ورثا اور قبائل کی طرف سے ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ طرفین (برطانیہ اور ابن سعود) میں دوستانہ راہ و رسم کی تجدید ہو جائے اور فریقین کے اغراض و مقاصد کے مضبوط کرنے کے لیے عمدہ تصفیہ ہو جائے، اس لیے حکومت برطانیہ نے سرپرسی کاکس بالقابہ نمائندہ برطانیہ متعینہ خلیج فارس کو سلطان ابن سعود سے مذکورہ بالا مقصد کا ایک معاہدہ طے کرنے کے لیے اپنا وکیل مقرر کیا۔ چنانچہ سر مذکور اور ابن سعود میں حسب ذیل امور پر معاہدہ طے ہوا کہ:

دفعہ نمبر 1
حکومت برطانیہ اعتراف کرتی ہے اور اس امر کے تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں ہے کہ علاقہ جات نجد، احسائ، قطیف، جبیل اور خلیج فارس کے ملحقہ مقامات جن کی حد بندی بعد میں ہوگی، یہ سلطان ابن سعود کے علاقہ جات ہیں۔ اور حکومت برطانیہ اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ ان مقامات کے مستقل حاکم سلطان مذکور اور ان کے بیٹے اور ان کے جانشین ہیں۔ ان کو ان ممالک اور قبائل پر خود مختار حکومت حاصل ہے اور اس کے بعد اس کے لڑکے بالے ان کے صحیح وارث ہوں گے۔ لیکن ان ورثا میں سے ایک کو سلطنت کے لیے انتخاب و تقرری کی شرط یہ ہو گی کہ وہ شخص سلطنت برطانیہ کا مخالف نہ ہو اور مشروط مندرجہ معاہدہ ہذا کی رو سے شخص مذکور برطانیہ کے خلاف نہ ہو۔

دفعہ نمبر 2
اگر کوئی اجنبی طاقت سلطان ابن سعود اور اس کے ورثا کے ممالک پر حکومت برطانیہ کے مشورہ کے بغیر یا اس کو ابن سعود کے ساتھ مشورہ کرنے کی فرصت دیے بغیر حملہ آور ہوگی تو حکومت برطانیہ ابن سعود سے مشورہ کر کے حملہ آور حکومت کے خلاف ابن سعود کو امداد دے گی اور اپنے حالات ملحوظ رکھ کر ایسی تدابیر اختیار کرے گی جن سے ابن سعود کے اغراض و مقاصد اور اس کے ممالک کی بہبود محفوظ رہ سکے۔

دفعہ نمبر 3
ابن سعود اس معاہدہ پر راضی ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ کسی غیر قوم یا کسی سلطنت کے ساتھ کسی قسم کی گفتگو یا سمجھوتہ اور معاہدہ کرنے سے پرہیز کرے گا۔ مالک مذکور بالا کے متعلق اگر کوئی سلطنت دخل دے گی تو ابن سعود فورًا حکومت برطانیہ کو اس امر کی اطلاع دے گا۔

دفعہ نمبر 4
ابن سعود عہد کرتا ہے کہ وہ اس سے پھرے گا نہیں اور وہ ممالک مذکورہ یا اس کے کسی حصے کو حکومت برطانیہ سے مشورہ کے بغیر بیچنے، رہن رکھنے، مستاجری یا اور کسی قسم کے تصرف کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ اور اس کو اس امر کا اختیار نہ ہوگا کہ وہ کسی حکومت کی رعایا کو برطانیہ کی مرضی کے خلاف ممالک مذکورہ بالا میں کوئی رعایت یا لائسنس دے۔ ابن سعود وعدہ کرتا ہے کہ وہ حکومت برطانیہ کے ارشاد کی تعمیل کرے گا اور اس امر کی قید نہیں ہے کہ وہ ارشاد اس کے مفاد کے خلاف ہو یا موافق۔

دفعہ نمبر 5
ابن سعود عہد کرتا ہے کہ مقامات مقدسہ کے لیے جو راستے سلطنت سے گزرتے ہیں وہ باقی رہیں گے اور ابن سعود حجاج کی آمدورفت کے زمانے میں ان کی حفاظت کرے گا۔

دفعہ نمبر 6
ابن سعود اپنے پیشرو سلاطین نجد کی طرح عہد کرتا ہے کہ وہ علاقہ جات کویت، بحرین، علاقہ جات روسائے عرب، عمان کے ان ساحلی علاقات جات اور دیگر ملحقہ مقامات کے متعلق جو برطانوی حمایت میں ہیں، اور جن کے حکومت برطانیہ کے ساتھ معاہدانہ تعلقات ہیں، کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔ ان ریاستوں کی حد بندی بعد میں ہوگی جو برطانیہ سے معاہدہ کر چکی ہیں۔

دفعہ نمبر 7
اس کے علاوہ حکومت برطانیہ اور ابن سعود اس امر پر راضی ہیں کہ طرفین کے بقیہ باہمی معاملات کے لیے ایک اور مفصل عہد نامہ مرتب و منظور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ کویت میں 26 نومبر 1915ء کو طے پایا۔ اس پر سلطان عبد العزیز بن سعود اور برطانوی نمائندہ بی زیڈ کاکس کے دستخط ہیں۔ اور اس کی توثیق ہندوستان میں برطانوی وائسرائے چیمس فورڈ نے 18 مئی 1916ء کو شملہ میں اس پر دستخط ثبت کر کے کی۔ اور اس پر سیکرٹری پولیٹیکل اینڈ فارن ڈیپارٹمنٹ حکومت ہند رے ایچ گرانٹ کے بھی دستخط ہیں۔

اسلام کے نام پر عربوں کو محکوم بنانے والے ’ اجنبی ترکوں‘ سے عرب نیشنل ازم کی بنیاد پر حاصل کی گئی ’ آزادی‘ کا یہ اصل چہرہ تھا مگر اس کے بعد عرب قومیت اور سعود خاندانیت پر مبنی اس نوخیز ریاست کو اچانک ایک ایسے اسلامی کٹر پن نے گھیر لیا کہ’ شرک کے اڈے بننے‘ کی وجہ سے مقدس شخصیات کی قبروں اور مزاروں کے انہدام کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ اس سلسلے پر اہل تشیع حضرات تو برہم تھے ہی، مسلمانوں کے دوسرے حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ لکھنو میں جمعیت خدام الحرمین کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ایک وفد نے حجاز جاکر شاہ عبدالعزیز ابن سعود کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے مئی 1925 میں سلطان ابن سعود کی جانب سے بلائے گئے موتمر ( اجتماع ) میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مفتی کفایت اللہ نے بھی اپنے ایک وفد کی صورت میں شرکت کی تھی اور اس دوران سلطان ابن سعود سے اس وقت ان کی تلخ کلامی بھی ہوئی تھی جب مفتی صاحب نے سلطان سے کہا کہ اگر آپ نے مدینہ میں بھی اسی طرح مقابر و مزارات کو منہدم کرنا تھا جیسا کہ آپ نے مکہ میں کیا تھا تو آپ نے دنیائے اسلام سے یہ وعدہ کیوں کیا تھا کہ ہم اس اجتماع کے فیصلے تک مدینہ میں کوئی قابل شکایت کام نہیں کریں گے؟ سلطان نے کچھ تامل کے بعد جواب دیا کہ میری قوم کے 5 ہزار افراد نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں مقابر و آثار کو منہدم نہ کروں گا تو وہ خود چڑھائی کرکے یہ کام کریں گے۔ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ مبادا وہ مجھ سے زیادہ تخریب کریں گے اس لیے میں نے ان کا مطالبہ پورا کیا۔ اس پر مفتی صاحب نے جواب دیا کہ کیا آپ کو اپنی قوم کا حال معلوم نہ تھا، جب آپ ان کی وحشت و بربریت کو جانتے تھے اوراعلان ملوکیت کے وقت تجربہ کر چکے تھے تو آپ نے اس قسم کا وعدہ کیوں فرمایا؟ ( الجمیعت دہلی، مفتی اعظم نمبر )

مقابر و مآثر کے انہدام کی اس سے پہلے کوئی مثال مسلم تاریخ میں نہیں ملتی حضرت عمر فاروق کے دور میں فتح ہونے والے مصر میں دنیا کا سب سے بڑا ابوالہول کا مجسمہ آج تک کھڑا ہے، غزنی سے سومنات کے بتوں کو توڑنے کے لیے جانے والے محمودغزنوی کے دارالسلطنت غزنی کی سرحد سے لگنے والے بامیان میں قائم بدھ مت کے مجسموں کی جانب بت شکن محمودغزنوی کی توجہ بھی مبذول نہیں ہوئی ۔اس کے بعد طالبان کے ہاتھوں بدھ مت کے مجسموں کے انہدام، داعش کے ہاتھوں انبیا واولیا کے مقابر کو بارود سے اڑانے اور امریکہ کی جانب سے عراق میں مزاروں پر بمباری سے اس سلسلے کا دوبارہ احیا ہوا۔

ایران میں خمینی انقلاب کے بعد ایران اور سعودی عرب نے شیعہ سنی محاذآرائی کو خوب ہوا دی، دونوں کے پاس تیل کے پیسے تھے اور یہ پیسہ جہاں پہنچا وہیں آگ لگا دی، اللہ کے گھروں میں لوگوں کوقتل کیاجانے لگا مگر خود ایران وسعودی عرب کی اپنی سرزمین حرم کی طرح مامون و محفوظ رہی۔

قصہ مختصر اب سعودی عرب کی قیادت میں تین درجن ممالک کا فوجی اتحاد قائم ہواہے جس کی سپہ سالاری جنرل راحیل شریف کریں گے پاکستان میں یہ کہا جارہاہے کہ جنرل صاحب نے یا پاکستان نے اس منصب کو اس شرط کے ساتھ قبول کیاہے کہ انہیں فریقین کے درمیان ثالثی کابھی اختیار ہوگا مگر جب مذکورہ اتحاد کسی خاص ملک کے خلاف تشکیل نہیں دیا گیا ہے تو راحیل شریف صاحب یہ ثالثی کس کس کے درمیان کریں گے اور دوسری بات یہ ہے کہ ثالث کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی غیر جانبداری پر فریقین کو اعتماد ہو مگر آپ فریق بن کر ثالث کس منطق کے تحت بن رہے ہیں۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ اس جنگی اتحاد کا مقصد کیا ہے؟ اگر ہدف دہشت گردی ہے تو کیا دہشت گردی وہ ہے جس کو امریکہ دہشت گردی سمجھتا ہے یا پھر دہشت گردی وہ ہے جس کو مولانا فضل الرحمن صاحب نے اپنی آخری تقریر میں ریاستی دہشت گردی کا عنوان دیا ہے؟ اگر دہشت گردی ہی ہدف ہے تو کیا اتحاد میں شامل تمام ممالک کو درپیش خطرات کا مشترکہ مقابلہ کیا جائے گا یا صرف سعودی عرب کی حفاظت کی جائے گی؟ اگر بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ اتحاد کا ہدف ہے تو افغانستان اور عراق کے بارے میں اتحاد کی پالیسی کیا ہوگی؟ اور اگر داخلی بغاوت کو دہشت گردی سمجھ کر اسے کچلنا اس اتحاد کا مقصد ہے تو پھر شام کی صورتحال پر اتحاد کی پالیسی کیا ہوگی؟ اور اگر اس اتحاد کا مقصد حرمین کی حفاظت ہے تو سب سے پہلے اس چیز کا تعین ہونا چاہیے کہ حرمین کو درپیش خطرے کی نوعیت کیاہے، یہ خطرہ کس سے درپیش ہے اور اس خطرے کے پیش آنے کے اسباب کیا ہیں؟ اگر واقعی حرمین شریفین کی حفاظت مطلوب ہے تو اس مقصد کے لیے او آئی سی میں شامل تمام ممالک کی فوجوں پر مشتمل مشترکہ فوج تشکیل دینی چاہیے اوراس کی ضروریات کو حج سے حاصل ہونے والے سولہ ارب ڈالر کی سالانہ آمدن سے پورا کرنا چاہیے ۔جب حرمین تمام مسلمانوں کے روحانی مراکز ہیں تواس کی حفاظت کا مالی بوجھ صرف سعودی عرب پر ڈالنا تو زیادتی ہے اور حرمین کے بارے میں اس منصوبہ بندی کے دوران قبلہ اول کی بازیابی کے حوالے سے بھی کچھ سوچنا چاہیے۔

جے یو آئی کے صدسالہ اجتماع میں ان تمام ابہامات کے باوجود ’ لبیک لبیک یا حرمین‘ کا روح پرور شعار بلند کیا گیا اور نعرہ تکبیر کے بعد دوسرا نعرہ جو سب سے زیادہ لگا یا گیا وہ ’ مستقبل کا حکمران، مولانافضل الرحمن‘ کا نعرہ تھا۔ مولاناصاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مجھے کسی مسلک اور فرقے نہیں بلکہ پوری امت کا نمائندہ سمجھا جائے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو سلیم صافی نے اپنے کالم میں لکھا کہ مولانا نے ان سے بات چیت کرتے ہوے کہا کہ شیعہ بھی جمعیت کارکن ہی نہیں بلکہ رہنما بھی بن سکتا ہے، فرقے اور مسلک ک۔ خول سے باہر آنا واقعی ایک خوش آئند اقدام ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ مولانا کو اپنی پارٹی کے منشور پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے جس کی دفعہ نمبر 7 میں کہا گیا ہے کہ ’ صدرمملکت کا مرد اور مسلمان ہونے کے علاوہ پاکستان کی غالب اکثریت اہل سنت کا ہم مسلک ہونا ضروری ہے‘۔ مولاناصاحب نے اپنے خطاب میں کرپشن کے سدباب کا بھی مختصر فارمولہ یہ تجویز کیا کہ اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے جبکہ پہلے ہم یہ سمجھتے تھے کہ اقتدار کی ضرورت صرف اور صرف ’ اسلام کے عادلانہ نظام‘ کے نفاذ کے لیے ہی ہے۔

اجتماع کی برکت سے جناب سراج الحق کے دل میں بھی اللہ نے یہ بات ڈال دی کہ انہوں نے اجتماع میں آکر ایم ایم اے کی بحالی کے بارے میں تمام اختیار مولانافضل الرحمن کے حوالے کردیا اور یہ بات لکھ رکھیں کہ اس اتحاد کی عملی ’ برکت‘ بھی اگلے الیکشن میں قوم کو دیکھنے کو ملے گی۔ جب ایم ایم اے کو غیر فعال کردیا گیا تو اس وقت مولاناصاحب نے ایک سوال اٹھایاتھا کہ کیاوجہ ہے جب مجھ سے ایم ایم اے توڑنے کا تقاضا کیا گیا اور میں نے انکار کردیا تو قاضی صاحب ایم ایم اے سے الگ ہوگئے اور کیا وجہ ہے جب مولانا شیرانی سے جماعت میں الگ دھڑا بنانے کا تقاضا کیا گیا اور انہوں نے انکار کردیا تو بلوچستان میں جے یوآئی نظریاتی گروپ بن گیا۔ اب مولاناصاحب سے سوال پوچھنا چاہیے کہ مولانا شیرانی کو تو جماعت میں الگ گروپ تشکیل دینے کا تقاضا جنرل پرویز مشرف نے براہ راست اور بنفس نفیس کیا تھا تو غالبا ً قاضی صاحب کو بھی پرویز مشرف یا کسی خفیہ ادارے نے ہی ایم ایم اے سے الگ کیا ہو گا تو اب کیاوجہ ہے کہ آپ کے بقول ایجنسیوں کے کہنے پر ایم ایم اے توڑنے والے اب اچانک دوبارہ آپ کے قریب آگئے اور کیاوجہ ہے کہ آپ کے بقول ایجنسیوں ہی کے کہنے پر جماعت توڑنے والا نظریاتی گروپ تو آپ کے قریب آگیا مگر پرویز مشرف کے کہنے پر جماعت توڑنے سے انکار کرنے والے مولانا شیرانی آپ سے دور ہوتے چلے گئے؟

ایسی بڑی بڑی باتیں تو ظاہر ہے ہم جیسے چھوٹوں کے سمجھنے کی نہیں ہوتیں ۔ ہم نے تو اس بابرکت ماحول میں امام کعبہ کی امامت میں نماز ادا کرنی تھی جو ہم نے کرلی، اجتماع کے آخری دن جب نماز کی تیاری کے دوران سٹیج سے یہ اعلان کیاگیا کہ امام صاحب چونکہ مسافر ہیں لہٰذا مقیم حضرات اپنی چاررکعت پوری کرلیں تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے مجھے شاید مفتی سمجھ کر یہ پوچھا کہ کیا میں مسافر ہوں؟ میں نے کہا آپ کہاں سے آئے ہیں تو کہنے لگے تربت سے، تربت کا وہاں سے فاصلہ 1670 کلومیٹرہے۔ اتنے لمبے فاصلے کو سوچ کر میں نے بھی جھٹ سے فتویٰ دے ڈالا کہ جی آپ مسافر ہے ۔مگر ذرایہ بتائیے کہ امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنے کی میری طرح آپ کو بھی بہت خوشی ہوئی ہوگی؟ تو کہنے لگا کہ آپ کیسی بات کرتے ہیں ان لوگوں کے کہنے پر تو میری جان بھی حاضر ہے، تربت سے آنے والا یہ آدمی کوئی سولہ اٹھارہ سال کابچہ تھا، اس کے یہ الفاظ سن کر میرے دماغ کی دیواروں سے کچھ ہی دیر پہلے قائد جمعیت کے تقریر کے یہ الفاظ دوبارہ ٹکرانے لگے کہ ’ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پاکستان کا بچہ بچہ حاضر ہے‘۔

You may also like this

19 April 2017

صد سالہ یوم تاسیس؟ اور جمعیت علماءاسلام  ( ف ) عاصم ڈوگر

<div dir="rtl"> <span style="font-size: 20px;">جمعیت علماء کے سرخیل اورمدرسہ دیو بند

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}