کیامعجزات مافوق العقل ہوتےہیں؟ ۔۔۔ محمدانس حسان

جمہورامت کےمطابق معجزہ کومعجزہ کہاہی اس لیےجاتاہےکہ وہ انسانوں کی عقل سےماوراءاورقانون فطرت کےخلاف ہوتاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیاانسان عقل سےماوراءعلوم اورقوانین فطرت کامکمل علم رکھتاہے؟ میرےخیال میں اس کاجواب شایدنفی میں ہوگا۔ تواس بناپرکیایہ کہاجاسکتاہےکہ کسی ایک نبی کےدورمیں جوچیزعام انسانوں کو مافوق العقل اورقانون فطرت کےخلاف معلوم ہوتی تھی وہ دوسرےدورمیں عین فطرت اورعین عقل کےمطابق معلوم ہو؟ امام شاہ ولی اللہ دہلوی معجزات میں اسباب وعلل کےوجودکےقائل ہیں۔ گویاان کامانناہےکہ معجزے میں بھی کسی نہ کسی درجہ میں سبب وعلت کاپایاجانالازم ہے،البتہ یہ الگ بات ہےکہ ہماری محدودعقل اس سبب اورعلت کوتلاش نہ کرسکے۔ آئیے انبیائےکرام علیہم السلام کےمعجزات اورجدیددور کے سائنسی انکشافات کاتجزیہ کرتےہیں:

1_ حضرت ابراہیم علیہ السلام کامعجزہ ہےکہ آگ نےان پراثرنہیں کیا۔ آج انسانی عقل نےایسےکیمیکل کھوج نکالےہیں جن کےذریعہ آگ انسانی جسم پراثراندازنہیں ہوسکتی۔

2_ حضرت یونس علیہ السلام کامعجزہ ہےکہ وہ پانی اور مچھلی کےپیٹ میں کئی روزتک زندہ رہے۔ آج سمندری آبدوز کےذریعہ انسان کئی مہینیں پانی میں زندہ رہ سکتاہے۔

3_ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت بغیرباپ کےہوئی جویقینااللہ کی طرف سےعطاکردہ ایک معجزہ ہے۔ لیکن آج جدیدسائنسی ترقی اورعقل کواستعمال میں لاکریہ ممکن ہےکہ ٹیسٹ ٹیوب کےذریعہ بناباپ کےبچے کی ولادت ہو۔

4_ حضرت عیسی ہی کاایک معجزہ ہےکہ وہ اللہ کےحکم سےمردوں کوزندہ کردیتےتھے۔ احادیث سےمعلوم ہوتاہےکہ دجال بھی مردوں کوزندہ کرےگا۔ ممکن ہےاس وقت تک سائنس اس قدرترقی کرجائےکہ یہ عمل بھی ممکن ہو۔

5_ حضرت سلیمان کےبارےمیں آتاہےکہ وہ تمام پرندوں اورجانوروں کی زبانیں جانتےتھے جویقینااللہ کاعطاکردہ ایک معجزہ ہے۔ آج محققین پرندوں اورجانوروں کی لغات مرتب کررہے ہیں اورکئی کتب مرتب ہوچکی ہیں۔

6_ حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کاایک معجزہ ہےکہ ان کاتخت ہوامیں اڑتاتھااورچشم زدن میں انہیں ایک جگہ سےدوسری جگہ لےجاتاتھا۔ آج فطرت کےنئےقوانین جاننےکےسبب ہوائی جہازکےذریعہ انسان ایک جگہ سےدوسری جگہ جاسکتاہے۔

7_ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامعجزہ ہےکہ اشجارآپ پرسلام پڑھتےتھےاورآپ ان کوسنتےتھے۔ آج سائنس نےثابت کردیاہےکہ اشجاربھی شعوررکھتےہیں اوران میں بھی زندگی ہوتی ہے۔

8_ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامعجزہ ہےکہ ایک اعرابی کی خشک سالی کی شکایت پرآپ نےجمعہ کےروزاللہ سےدعامانگی توبارش شروع ہوگئی اورپھراگلےجمعہ اسی اعرابی کی گزارش پراللہ سےدعامانگی توبارش تھم گئی۔ آج سائنسی ترقی کےذریعہ انسان جب اورجہاں چاہےمصنوعی بارش برساسکتاہے۔

9_ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کومعراج کامعجزہ عطاہوا جس میں آپ نے چندساعتوں میں طویل فاصلہ طےکیا۔ آج وقت اورفاصلے پرتحقیق جاری ہےاورکئی نئی ڈویلپ منٹس سامنےآئی ہیں۔ چنانچہ یہ بات اب مافوق العقل نہیں لگتی۔

انبیائےکرام کےمعجزات کی ایک طویل فہرست ہےجس کامطالعہ اس اسلوب پرکیاجاسکتاہے۔ تاہم اس کایہ مطلب ہرگزنہیں کہ تمام معجزات آنےوالی سائنسی ترقی میں حقیقت بن سکتےہیں۔ لیکن اس پرغورتوبہرحال کیاجاسکتاہے۔

People Comments (1)

  • qazi inam April 15, 2017 at 10:28 am

    آگ مادی جز ہے اس کے ایٹم کو تقسیم کردیا جائے تو یہ لطیف مادی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے ،پوری کائنات ٹھوس مادی حقیقت سے شروع ہوکر انتہائی لطیف مادی حقیقت کا حصہ ہے اور کائنات کی لطیف مادی حقیقت اس کے جدلیاتی تصادم کے اندر پوشیدہ ہے۔ فرشتے جن اسی مادی کائنات کے وجود کی درجہ بدرجہ لطیف مادی حقیقت ہیں ،ان کے اوپر انتہائی لطیف مادی حقیقت کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام ہے جس نے کائنات کو کھربوں سال کی دوری پر پھیلایا بھی ہے اور اس کو ایک جگہ لانے کی اہلیت بھی رکھتا ہے ،اللہ کی ذات ہر طرح کی لطیف مادی حقیقت سے بالا تر ذات ہے ،اللہ سے تعلق جوڑنے کے لیے انسان اپنے بہترین معاملات اور ذہنی توانائی اور علم کے ساتھ اس انتہائی لطیف کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام سے جڑ کر خدا کے آفاقی احساس اور فکر سے بھی جڑتا ہے اور معرفت کا جدلیاتی سائنسی علم بھی حاصل کرتا ہے ،یا پھر اپنی کم علمی اور بدکرداری کی وجہ سے داہریت کی طرف چلا جاتا ہے ،آخر کار داہریت کا راستہ بھی جدلیاتی سائنسی علوم سے جڑ کر خدا کے حقائق تک پہنچتا ہے ،معجزات اور کرامتوں کے ذریعے خدا پر ایمان لانا ایمان کی انتہائی ادنیٰ حقیقت ہے ۔اولیاء اللہ جدلیاتی سائنسی علم سے معرفت کا علم حاصل کرتے تھےاور معجزات کا سائنسی تجزیہ بھی اپنے وجود کے اندر کرتے تھے ،آپ نے جتنی بھی کرامتوں اور معجزات کا ذکر کیا ہے ،ان میں کچھ کی سائنسی حقیقت ہےاور کچھ انسان کی انتہائی زیادہ عقیدت نے مبالغہ ارائی کو بھی جنم دیا ہے لیکن یہاں بیان کرنا اس لیے ضروری نہیں ہے کہ پسماندگی سے جڑا مسلم معاشرہ جدلیاتی سائنسی حقائق کو تسلیم کرنے سے عاری ہے ۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}