جمعہ کی چھٹی — رضوان غنی

بات کچھ ایسے ہے کہ میرا بالکل بھی دل نہیں تھا کہ میں ابھی سے کچھ لکھنا شرو ع کر دوں اسکے لیے وقت اور حوصلہ چاہیے لیکن جب صورت حال دیکھی تو ہر کوئی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اپنی رائے دے رہا ہے جس کا ڈھونڈنے سے بھی کوئی جواز نہیں ملتا تو ایسے موقع پر میں بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ تحریر کروں۔آج صبح ہی میں اخبار پڑھ رہا تھا تو ایک بیان میری نظر سے گزراجس نے میرے حواس کچھ دیر کے لیے باختہ کر دیے۔ یہ بیان اگر کسی عام شخص نے دیا ہوتا تو اسکی بات اور علم کی وجہ سے اسکو نظر انداز کیا جا سکتا تھا لیکن یہ بیان ایک مذہبی سیاسی جماعت کے امیر نے دیا جو مختلف علاقوں میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے حامی ہیں۔بیان کچھ یوں تھا کہ ہمارے ملک میں ترقی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم جمعہ کے مبارک دن میں عام چھٹی نہیں کرتے ہفتہ اور اتوار کو کرتے ہیں اور اتنا نہیں یہ بھی کہا کہ یہ بات نحوست کا موجب ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
اس شحصیت کا نام میں آخر میں بتاؤں گا بلکہ کچھ صاحب عقل پہچان گئے ہوں گے جنہوں نے یہ بیان پڑھا ہو گا یہ صاحب بہت نیک اور سادہ طبعیت کے آدمی ہیں اور میرے بہت سے پیارے دوست انکے مرید ہیں۔ اب مجھے اپنی اصلاح کے لیے دیکھنا تھا کہ اس بیان میں کیا راز پوشیدہ ہے اس لیے میں نے مختلف ترقی یافتہ ممالک کے بارے میں پڑھا تو پتہ چلا کہ ان ترقی یافتہ مما لک میں جمعہ کی چھٹی نہیں ہوتی اِکا دکا ممالک ہیں لیکن وہ کہیں ظاہر کرتے نظر نہیں آتے کہ ہمارے ہاں نحوست نہ ہونے کی وجہ جمعہ کی چھٹی ہےیا ہماری ترقی کا راز جمعہ کی چھٹی میں ہے۔اس میں کچھ ترقی یافتہ ممالک چائنہ سپر پاور، روس اور امریکہ میں بھی جمعہ کی چھٹی نہیں ہوتی پھر بھی نحوست نہیں ہوتی ان کی طرف اور اگر سعودی عرب میں جمعہ کی چھٹی ہوتی ہے تو ممانعت نہیں ہے کہ جمعہ کے بعد دوبارہ اپنے کاروبار جاری رکھیں پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس نحوست کو صرف ملک پاکستان ہی ملا ہے؟اور کیا جمعہ کی چھٹی کرنے سے ملک میں امن قائم ہو جائے گا؟
مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں جمعہ کے دن کی قدرو قیمت کا احساس ہے لیکن اگر یہ بات انٹر نیشنل میڈیا پر کی جائے اور انھیں بتایا جائے کہ پاکستان میں امن نہ ہونے کی وجہ جمعہ کی چھٹی نہ کرنا ہے تو ایک نا بالغ بچہ بھی ہمارا مذاق اڑائے گا  اور دنیا ہنسے گی کہ ایک ملک کا مذہبی و سیاسی لیڈر بد امنی کا حل یہ بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں جمعہ کو چھٹی نہیں ہوتی اس لیے حالات ابتر ہیں خدارا ہوش کے ناخن لو۔ قرآن میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ” جمعہ کے وقت سب کاروبار بند کر دو اور جمعہ کے بعد میرا فضل تلاش کرو(مفہوم) ”  مطلب قرآن میں بھی صرف جمعہ کی نماز کے اوقات میں کام و کاروبار بند کرنے کا کہا گیا اور پھر تائید کی گئی ہے کہ رزق تلاش کرو چھٹی کے ذکر سے قرآن بھی انکار کر رہا ہےتو ایک مذہبی شخصیت کے مذہبی ہونے پہ شبہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اب ذ را دوسرے ممالک جمعہ کے دن  کا استعمال کیسے کرتے ہیں اسمیں Black Friday کے نام سے مختلف ممالک میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے اور اس سے عربوں ڈالر کا منافع کمایا جاتا ہے اب یہ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے اسکے علاوہ پاکستان میں Green & White Friday بھی منایا جاتا ہے۔ عیسائی طبقہ Good Friday کے نام سے دن مناتے ہیں جس میں وہ اپنی عبادات کر کے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں ہندو دھرم کے لوگ جمعہ کے دن درگاہاور لکشمی کی پوجا کرتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان جمعہ کے دن جمعہ کی نماز کا اہتمام کرتے ہیں جمعہ مبارک کا میسج کر کے ثوابِ دارین حاصل کرتے ہیں اور جمعہ کی نماز میں ملکی مسائل کی بجائے مخصوص فرقہ کے مسائل سنتے ہیں۔ خیر یہ میرا موضوع نہیں ہے مجھے تعجب ہے کہ اصل میں نحوست کی وجہ کیا ہے؟

نہیں معلوم ہمارے یہ مذہبی سیاسی لیڈر کیوں بھول رہے ہیں کہ ملکی مسائل کا حل اسوہِ رسول ﷺ ہے جنہوں نے حطبہ جمعہ میں فرما دیا تھا کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں قرآن اور سنت۔آپﷺ نے تو پانی پینے تک کے آداب بتا دیے ہیں، ہمسایہ کے ساتھ کیسا سلوک کرنا، فاقہ کیسے کرنا، ہجرت کیسے کرنی،جنگ کیسے کرنی اور صلح کیسے کرنی، امانت داری اور دیا نت داری کا نمونہ کیسے بننا ہے، کوئی کوڑا پھینکے تو کیسے رد عمل ظاہرکرنا، طائف میں پتھر کھا کہ کیسا رد عمل  ظاہرکرنا،صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گویا کہ یہ تک کہا کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے اس وقت چاہنہ میں جمعہ کی چھٹی تھی نہ وہاں شرعی و فقہی اصول پڑھائے جاتے تھے بلکہ ترقی کرنے کے لیے دنیاوی علوم کی اہمیت واضح کی۔
تو پھر کیوں یہ اس بات پر توجہ نہیں دیتے کیونکہ  اسوہ رسولﷺ کے مطابق تو یہ خود پورا نہیں اترتے نبی ﷺ نے پوری زندگی کسی ظالم کا ساتھ نہیں دیا اور یہ نحوست کی طرف توجہ دلانے والے تو Seat Adjustment کیے ہوئے ہیں گویا یہ اس اخلاقی درجہ میں نہیں آتے جسکے مطابق اسوہ پر عمل یقینی بنایا جائے۔
 پاکستان بننے کے بعد چھٹی جمعہ کے دن ہی ہوتی تھی لیکن چونکہ وقت کے ساتھ دنیا نے ترقی کی اور  اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ٹریڈ کرنے کے لیے ان کے کلینڈر کے مطابق چلنا ہو گا اس لیے 80 کی دہائی میں جمعہ کی چھٹی ختم کر کے اتوار کی چھٹی کی گئی اس میں کوئی نحوست والی بات نہیں ہے ترقی کا معیار یہ ہے کہ دوسرے ممالک ہمارے مطابق کلینڈر تبدیل کریں لیکن ہمارے حکمرانوں میں اتنی سکت نہیں کہ وہ ایسا ممکن بنا سکیں۔تو جناب عزت ماب مولوی سراج الحق صاحب آپ کی شخصیت کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ آپ غیر ضروری بیانات میں اپنا اور ملک کا وقت ضائع کریں۔ملکوں کی ترقی کا راز نہ تو جمعہ کی چھٹی میں ہے اور نہ ہی ہمارے ملک میں نحوست اس وجہ سے ہے اصل نحوست تو سرمایا دارانہ نظام ہے اسکے خاتمے اور عدل کے نظام کے قیام کی ضرورت ہے۔

People Comments (2)

  • Rizwan Ghani April 5, 2017 at 9:57 pm

    Thanks sir

  • akhlaq April 5, 2017 at 10:50 pm

    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
    سراج الحق صاحب جماعت اسلامی کو آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا کر اس سے کبوتروں والی غٹر غوں کروا رہے ہیں اور توقع کر رہے ہیں کہ یہ اقبال کا شاہین بنے گا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}