غیرنصابی تاریخ کا ایک ورق — محمد عباس شاد

جمعیت علماء ہند نام کی جماعت کو پاکستان کے نصاب تعلیم پر یقین رکھنے والا شاید ہی کوئی نوجوان جانتا ہو۔ جو جانتے ہیں وہ بھی دو قسم کے لوگ ہیں ۔ایک وہ جو ان کے بارے میں کلی منفی معلومات رکھتے ہیں جو پروپیگنڈہ کی وجہ سے ہیں یا پھر ایک وہ نسل ہے جو ایسے بزرگوں کی صحبت کا بار رکھتی ہے جنہوں نے ہر طرح کے سامراجی اور لیگی پراپیگنڈے کے باوجود ان قدسی ہستیوں کا ذکر خیر جاری رکھا اور گاہ بگاہ اپنی نئی نسل کے سامنے بھی وہ آزادی کی کہانی سناتے رہے. جس میں ہراول دستہ یہی جمعیت علماء ہند کے بزرگ رہے تھے.
تاریخ کی غیر نصابی کتابیں تو ان محشر بپا واقعات سے بھری پڑی ہیں جس میں آزادی کے حقیقی متوالوں کے تذکرے ہیں لیکن ہماری نصابی تاریخ کلی طور پر ایسے کسی ذکر خیر سے خالی ہے جس میں آزادی پسند علماء کا تذکرہ ہو. لیکن بھلا ہو ہمارے جمعیت علماء اسلام والوں کا وہ یکا یک جمعیت علماء ہند کا نام لینے لگے یہ تو وقت ہی ثابت کرے گا کہ جمعیت علماء ہند اور جمعیت علماء اسلام میں جوہری فرق کیا ہے لیکن جمعیت علماء ھند زیر بحث ضرور آگئی ہے۔
جہاں جمعیت علماء ھند زیر بحث آ ئے گی وہاں اس کا فکر اور نظریہ بھی زیر بحث آ ئے گا. نئی نسل کے سامنے جمعیت علماء ھند کے نظریات زیر بحث آنے کے نتیجے میں ہمارے وہ بقراطی سیاست دان جو تاریخ سے ایسی گمنام شخصیات جن کا تذکرہ کہیں تاریخ پاکستان کے لٹریچر میں نہیں ملتا ان کے نظریات چراکر اپنا قد کاٹھ بڑھاتے رہتے ہیں کیونکہ جہادی دور سے نکلنے کے بعد اب وہ نظریات پاکستان کی ضرورت ہیں اور پاکستان کی بقا بھی اسی میں ہے. لیکن ہمارے بقراطی مفکر اسے ماضی کی سیاسی ونظریاتی قوت کے طفیل قبول کرنے اور تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں. 
ان نظریات کو تو ہم کسی اور ایک مستقل مضمون کے لیے اٹھا رکھتے ہیں لیکن سرے دست اس قدرتی بندوبست پر خدائے ذوالجلال کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے کس طرح بندوبست فرمایا کہ ہمارے سرکاری مورخ جن کرداروں کو دیس نکالا دے چکے تھے وہ کردار کس طرح تاریخ کی زینت بنتے جارہے ہیں اور اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سچی تاریخ کبھی بھی نہیں مرتی اور وہ اپنے وجود کے لیے کسی سازشی مورخ کی زر خرید سیاہی کی محتاج نہیں ہوتی ۔ وہ دریا کے پانی کی طرح اپنا راستہ خود بناتی ہے. سچی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے دوستوں کو غیر نصابی تاریخ کا یہ ورق مبارک ہو اور اسے ان لوگوں کو ضرور پڑھائیں جو اب تک جھوٹی تاریخ کی کتابیں پڑھتے رہے ہیں انشاءاللہ یہ ایک صفحہ کئی کتابوں پر بھاری ثابت ہوگا. رہے نام اللہ کا.!!!!!!
 
 
 
 

You may also like this

19 March 2017

تحریک ابراہیمی کا مختصر تعارف اور خداِ واحد کا مستقبل ۔۔۔ ڈاکٹر ممتازخان

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">اسلام کو سمجھنے کے لیے آپ کو ع

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}