صد سالہ کے وارث — سلیم خان

2013 کے الیکشن کی تیاری کے لئے پاکستان کی جمیعت العلماء اسلام نے اسلام زندہ باد کانفرنسوں کا ایک ملک گیر سلسلہ شروع کیاتھا اور الیکشن کے بعد یہ سلسلہ بند کردیا گیا تھا ۔اب 2018 میں پھر انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس میں ہر پارٹی تیاری میں لگی ہوئی ہے۔ اس موقع پر جمیعت العلماء اسلام نے بھی 1919 میں قائم ہونے والی جمیعت العلماء ہند سے اپنے تعلق کو جوڑ کر اس کی صد سالہ تقریبات منانے کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے لئے خوش قسمتی سے قمری کیلینڈر سے سو سال والی بات بھی ثابت کر لی گئی ہے۔

لیکن 1919 میں قائم ہونے والی جمیعت العلماء ہند کا تعلق کئی معنوں میں جمیعت العلماء اسلام سے با لکل بھی نہیں بنتا۔
سب سے پہلےاگر نام کی تاریخ دیکھیں تو جمیعت العلماء اسلام 1945 میں پہلی دفعہ اس پارٹی کا نام رکھا گیا جو جمیعت العلماء ہند کے مقابلے پر قائم کی گئی تھی۔ اس جمیعت العلماء اسلام کے اکابر اور بانی علماء کے سیاسی کردار کے حوالے سے جمیعت العلماء ہند کے مایہ ناز آزادی پسند لیڈر مولانا محمد میاں صاحب کی نگارشات آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔

اگرجمعیت علماء ہند کے سیاسی تصورات کی بات کی جائے تو جمیعت العلماء ہند شروع سے آخر تک سیکولرازم کی حامی رہی ہے جبکہ جمیعت العلماء اسلام سیکولرازم کی مخالف رہی ہے اور اب بھی ہے۔
جمیعت العلماء ہند کے سرخیل و رہنماء اعظم حضرت شیخ الہند رح اور اس کی جماعت کو اس وقت کے انگریز پرست سعودی حکمرانوں اور مذہبی رہنماوں کے دھوکوں اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جمیعت العلماء اسلام کو موجودہ صد سالہ اجتماع میں جو سب سے بڑا تشہیری ہتھیار ملا ہے وہ امریکہ پرست سعودی حکمرانوں اور مذہبی پیشواؤں کی دوستی اور اعتماد ہی ہے۔
بین الاقوامی امور کے حوالے سے جمیعت العلماء ہند نے آفغانستان کے مسئلے کو کبھی جہاد نہیں کہا اور نہ ہی طالبان کو سپورٹ کیا بلکہ وہ ہمیشہ انڈین نیشنلزم کی طرف مائل رہے۔ اس کے مقابلے میں جمیعت العلماء اسلام کا رحجان پان اسلامسٹ اور جماعت اسلامی کے زیادہ قریب رہا ہے۔
اندرونی طور پر جمیعت العلماء ہند نے آزادی کے بعد کبھی بھی مذہب یا فرقے کے نام پر الیکشن میں حصہ نہیں لیا بلکہ اس وقت سے لے کر آج تک جمیعت العلماء ہند کے ارکان پار لیمینٹ کانگریس یا کسی دوسری نیشنلسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر ہی منتخب ہوتے ہیں جبکہ جمیعت العلماء اسلام کی مذہبی سیاست اور سیاسی مخالفین کو فتوں کے زد پر رکھنے سے ہر کوئی واقف ہے ۔
میرے خیال میں آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جمیعت العلماء ہند کل بھی اور آج بھی کانگریس کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ جمیعت العلماء اسلام کا کل اور آج مسلم لیگ کے ساتھ ہی ہے۔

People Comments (1)

  • Qibla Ayaz April 4, 2017 at 7:24 pm

    Saleem khan sahab
    The differece pointed out is only geographical ; otherwise present JUI is a continuation of JUH of 1919 in the area of peaceful struggle instead of armed struggle

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}