نوآبادیاتی دورمیں ہماری اقدار اور ثقافت کیوں محفوظ رہے؟ ۔۔۔ ڈاکٹرممتازخان

اگر ہم دنیا کے نقشے پہ نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ جہاں جہاں نوآبادیاتی حکومتیں تھیں، وہاں مقامی مذاہب اور ثقافتوں کو کچل کر یورپی زبانوں نے لے لی اور وہ مذاہب، کلچر، اور زبانیں بالکل ختم ہو گئے اور اکثر جگہوں پہ تو ان لوگوں کا ہی خاتمہ ہو گیا جو ان کے وارث تھے۔ کیا وجہ ہے کہ امریکہ، کینڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، افریقہ،آرجینٹینا، برازیل، اور کئی ممالک کی زبانیں، کلچر اور مذاہب ختم کرکے مغربی یورپ کی غاصب قوموں نے اپنی زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کو رائج کر دیا اور مقامی لوگ کھچھ بھی نہ کر سکے، جبکہ برصغیر میں وہ مکمل طور پہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے؟
مغربی یورپ کی غاصب قوموں کے راستے میں یہاں کے علمأ حق اور سچے کردار کے حامل آزادی پسند بادشاہ تھے۔ جنہوں نے مسلسل مذاحمت کر کے دشمنوں کے مقاصد کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ قومیں اپنے اچھے اور برے وقت کے رہبروں کو کبھی نہیں بھولتی ہیں۔ ان کے کردار کو سراہتی ہیں اور ان کی خدمات کے عوض ان کے نام کو دنیا میں سر بلند کرتی ہیں۔ اپنے بچوں اور آنے والی نسلون کو ان کے کردار اور ان کی قومی خدمات کے بارے آگاہ رکھتی ہیں۔
اس حقیقت کے برعکس پاکستان کی تاریخ صرف ان شخصیات پہ مشتمل ہے جن کا ساتھ نوآبادیاتی آقاؤں کو خوش کرنا اور اس کے عوض اپنے ذاتی اغراض کو پورا کرنا تھا۔ اور آج تک ان خاندانوں نے اپنے مفادات لندن اور واشنگٹن سے جوڑ رکھے ہیں اور یہ طبقے ہی قومی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
اس مضمون میں موجود 10000 ہزار کے جنوبی کوریا کے نوٹ پہ جس شخص کی تصویر ہے، اس نے کورین زبان کے حروف تحجی لکھوائے تھے۔ یہ کورین بادشاہ، مغل بادشاہوں کا ہم اثر ہے۔ کورین قوم نے اس کو عزت دینے کے لیے اس کی تصویر کے نوٹ چھپوا دیئے، جبکہ پاکستان کو اردو زبان دینے والے مغل بادشاہوں کو مخصوص طبقے کی ایمأ پہ گالیاں نکالی جاتی ہیں۔ پھر ہم میں اور انتہا پسند ہندوؤں میں کیا فرق رہ گیا؟حضرت شاہ رفیع الدین نے قرآن کا اردو میں ترجمہ کرکے ہماری قومی فلسفے کی بنیادوں کو محفوظ کیا اور مذہب اسلام پہ عربی قوم کی بالادستی کو ختم کیا۔ قومی وجود کی جانب یہ ایک اور بڑا قدم تھا۔


اپنی اقدار اور ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے آخری بادشاہ نے اپنی جان دے دی اور گرفتار ہونے کے بعد بھی یہ شعر کہا:
غازیوں میں بو رھےگی جب تک ایمان کی
تخت لندن تک چلےگی تیغ ھندوستان کی
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے محسنوں کو ان کے تاریخی کردار کے حساب سے عزت دیں۔ اگر ہم اپنے قومی ہیروز کوعزت نہیں دیں گے تو ہم بھی باعزت نہیں ہو سکتے، کیونکہ دنیا میں قومیں ہمیشہ اپنے بڑوں کے نام سے ہی جانی جاتی ہیں۔

People Comments (1)

  • qazi inam April 28, 2017 at 2:40 pm

    sahib e ilm sufiya or tarz e tameer ko ehmeat deni chahiye badshahon nay to hamari shanakhton ko kari zarab lagai hai hindustan kaseer abadi wala mulq tha sadiyon say hamla awar yahan aty rahy hain spagiri or jangi hikma e amliyon mai yahan ki aqwam intehai bahadur or zaheen thi amreci or africi qabael ki trha late evolution nhe tha yahan yahan amreca australoia new zeland or africa ki trha qatal e am nahe kiya ja sakta tha agar british samraj tashadud krta to us ka yahan say janaza nikal jata us nay bari siasi hikmat e amli say yahan ki aqwam ko ghulaam banaya magar shumali alaqajaat mai intehai mazahmat rahi

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}