مولانا مفتی محمود ،حمودالرحمان کمیشن کے روبرو ۔۔۔ احمدسلیم

سوال۔
ڈھاکہ میں یحییٰ خان نے سیاسی لیڈروں سے جو مذاکرات کئے کیا آپ اُن سے مطمئن تھے؟
جواب۔
میں ذاتی طور پر ڈھاکہ میں یحیٰی کی ملاقات سے مطمئن نہیں تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ملاقات اس گول چکر سے ہو رہی تھی یعنی یحیٰی مجیب مذاکرات، یحیٰی بھٹو مذاکرات، بھٹو مجیب مذاکرات، یحیٰی بھٹو مجیب مذاکرات، درمیان میں کہیں کہیں مغربی پاکستان کے دوسرے لیڈروں سے یحیٰی کی بات چیت ہو جاتی یا ان لیڈروں سے کہا جاتا کہ وہ مجیب سے بات کریں اقلیتی گروپ کے لیڈر مجیب سے بات کر کے یحیٰی خان سے ملتے اور اس سے کہتے کہ مجیب بالکل ٹھیک ہے اور اس نے ملک کی سا لمیت کے تحفظ کا یقین دلایا ہے تو یحیٰی خان کہتا ایسا نہیں ہے۔ بلکہ مجیب چھ نکات سے کم پر بات نہیں کرتا۔ یحیٰی خان نے ان دس روزہ مذاکرات میں کبھی تمام جماعتوں کے لیڈروں کو ایک میز پر بٹھا کر باہمی تبادلہ خیال کا موقع نہیں دیا بلکہ ان ایام میں جب ہم مجیب اور یحیٰی خان سے ملتے تو ہمیں ماحول کچھ پُراسرار سا معلوم ہوتا جیسے دریائی سطح بظاہر پر سکون ہو مگر نچلی سطح پر طلاطم خیز موجیں باہم دست و گریباں ہوں۔ چونکہ ہمیں یحیٰی خان نے ڈھاکہ مذاکرات کے لئے از خود بلایا تھا لہٰذا قومی مفاد کے پیشِ نظر ہمارا جانا ضروری تھا لیکن یحیٰی خان بظاہر پر سکون ماحول پیدا کر کے زیادہ سے زیادہ فوج اکٹھی کرنا چاہتا تھا تاکہ کاروائی کے وقت فوج کو اپنا راستہ ہموار کرنے میں کوئی دقت وغیرہ پیش نہ آئے۔
سوال۔
کیا ان دس روزہ مذاکرات میں یحیٰی خان کی طرف سے کوئی فارمولا بھی پیش کیا گیا تھا جسے آپ لوگوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ایسے فارمولے کو تسلیم کرنے سے پاکستان دو ٹکڑے ہو کر رہ جائے گا؟
جواب۔
جی ہاں! یحیٰی خان کی طرف سے ایک منصوبہ ہم اقلیتی پارٹی کے پارلیمانی لیڈروں کے سامنے رکھا گیا جس کے متعلق یحیٰی خان نے خود کہا تھا کہ اس فارمولے پر مجیب اور وہ اتفاق کر چکے ہیںاب آپ کی منظوری لینی باقی ہے۔ فارمولا یہ تھا۔
(الف) ایک فرمان کے ذریعے صوبائی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جائے اورصوبائی اسمبلیوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
(ب) مارشل لاء اٹھا لیا جائے۔
(ج) مارشل لاء اٹھائے جانے کے بعد قومی اسمبلی کی دو کمیٹیاں قائم کر دی جائیں یعنی مغربی اور مشرقی پاکستان کے ممبران پر مشتمل دو علیحدہ کمیٹیاں جن میں مغربی پاکستان کے قومی اسمبلی کے ممبران کا اجلاس اسلام آبادمیں بلایا جائے اور مشرقی پاکستان سے منسلک ممبران قومی اسمبلی کا علیحدہ اجلاس ڈھاکہ میں طلب کر لیا جائے۔
(د) یہ دونوں کمیٹیاں دو الگ الگ دستور بنائیں۔ جب یہ دونوں دستور بنا لیں تو کل پاکستانی بنیادوں پر مشترکہ اجلاس بلایا جائے تاکہ کوئی متفقہ دستور تشکیل دیا جا سکے۔ اس فارمولے کو مسٹر بھٹو اور قیوم خان کے علاوہ مغربی پاکستان کے تمام لیڈروںنے متفقہ طور پر مسترد کر دیا کیونکہ اس فارمولے کو تسلیم کرنے کا مقصد ایک پاکستان بنانے کی بجائے دو پاکستان بنانے کی دستاویز پر دستخط کرنا تھا۔ اس فارمولے کے جواب میں مغربی پاکستان کی اقلیتی گروپ کے لیڈروں نے جومتبادل فارمولہ پیش کیا وہ یہ تھا۔
(الف) قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے۔
(ب) قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں حلف وفاداری اٹھا لیا جائے۔
(ج) عبوری دستور کی منظوری کے بعد مارشل لاء اٹھا لیا جائے۔
ہمارے اس فارمولے سے مارشل لاء ہٹانے کے بعد مستقل آئین سازی تک درمیانی عرصہ مین کوئی خلاء پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ مارشل لاء کے ہٹائے جانے کو بعد اس کی جگہ عبوری دستور لے لیتا اور یوں نظام حکومت میں کوئی خلل واقع نہ ہوتا۔ بصورتِ دیگر ہمارے اس فارمولے سے مارشل لاء ہٹانے کے بعد مستقل آئین سازی تک درمیانی عرصہ میں کوئی خلاء پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ مارشل لاء کے ہٹائے جانے کے بعداس کی جگہ عبوری دستور لے لیتا اور ہوں نظام حکومت میں کوئی خلل واقع نہ ہوتا۔ بصورتِ دیگر اگر مارشل لاء قومی اسمبلی کے وجود میں آنے سے پہلے اور عبوری دستور کی منظوری سے قبل اٹھا لیا جاتا تو صدر جو مارشل لاء کے ذریعے صدر تھا اس کے اختیارات خود بخود ختم ہو جاتے جس سے آئینی بحران پیدا ہو جاتا علاوہ ازیں یحیٰی خان کے فارمولے کو مطابق جب صوبائی اسمبلیاں جو صدر کے حکم سے ماشل لاء کی موجودگی میں معرضِ وجود میں آ چکی ہوئیں وہ اگر اپنی آزادی اور خودمختاری کا کوئی قانون منظورکر لیتیں تو وہ مکمل آزاد ہو سکتی تھیں گویا یحیٰی خان کے اس فارمولے کے تحت ایک پاکستان کی جگہ کئی خود مختار پاکستان بنانے کی سازش کارفرما تھی خاص طور پر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو آئینی تحفظ دینے کی سازش پروان چڑھ چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس فارمولے کو سننے اور تسلیم کر لینے کے بعدشیخ مجیب ٹیگورکے شعرگنگنانے لگے تھے۔ یحیٰی خان نے جب دیکھا کہ ہم نے اس کے پیش کردہ فارمولے کو مسترد کر دیا ہے تو کہنے لگا کہ اس نے مجیب سے کہہ رکھا تھا کہ اس فارمولے پر اس وقت عملدرامد کیا جائے گا جب مغربی پاکستان کے تمام لیڈر اسے تسلیم کر لیں گے۔
سوال۔
کیا آپ نے شیج مجیب سے یحیٰی خان اور اپنے پیش کردہ چارفارمولوں پر بات چیت کی اور اس کا رد عمل معلوم کیا؟
جواب۔ ہم اقلیتی پارلیمانی گروپوں کے لیڈر ۲۳ مارچ کو شیخ مجیب سے ملے اور اس سے یحیٰی خان کے فارمولے پر بات چیت کی اور اسے بتایا کہ اس فارمولے میں بہت سے خطرات موجود ہیں۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس فارمولے کی بنیاد پر ملک کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے گالہٰذاوہ ہمارے فارمولے پر غورکریں لیکن مجیب یحیٰی خان کے فارمولے پر مصر رہا۔ ہم نے رپورٹ یحیٰی خان کو دی یحیٰی خان نے کہاکہ میں نے دو اسمبلیوں کی اسکیم آپ کی رضامندی سے مشروط کر کے تسلیم کی تھی لیکن جب آپ اس فارمولے کو ملکی سا لمیت اور بقاء کے لئے مضر سمجھتے ہیں تو اب میں اسے تسلیم نہیں کروں گا اور مجیب پر زور دوں گا کہ وہ بھی اسے تسلیم کرے لیکن دوسرے روز ہم یحیٰی خان سے ملے تو اس نے کہا کہ مجھے فوجی اقدام کرنا پڑے گا کیونکہ مجیب نہیں مانتا۔ ہم نے کہا کہ ہم جمہوری آدمی ہیں۔ مارشل لاء لگانے یا فوجی اقدام کے لئے آپ اپنے جرنیلوں سے مشورہ کریں۔ ہم اس سلسلہ میں کسی قسم کا کوئی مشورہ نہیں دیتے۔ اس پر یحیٰی خان بولے کہ اچھا آپ چلے جائیں۔ ہم ۲۴ مارچ کو واپس آ گئے۔
یحیٰی خان نے ۲۵ مارچ کو فوجی اقدام کیا۔ مغربی پاکستان کے لیڈروں میں جناب دوالفقار علی بھٹو نے خیر مقدم کیا اور اعلان کیا کہ اس فوجی اقدام نے پاکستان کو ٹکڑے ہونے سے بچا لیا ہے۔ جبکہ ملک کی تاریخ نے ثابت کر دیا کہ مسٹر بھٹو کا فرمان غلط تھا کیونکہ فوجی اقدام ملک بچانے کی بجائے ملک کو دو ٹکڑے کر دینے کا باعث بنا اور قائدِاعظم کے پرانے پاکستان کی جگہ قائدِ عوام کا نیا پاکستان معرضِ وجود میں آ گیا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}