سیرت محمدﷺ کی جامعیت ۔۔۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ

دوستو! اب سیرت محمدیﷺ کی جامعیت کا ایک اور پہلو تم کو دکھائوں۔ دنیا میں دو قسم کی تعلیم گاہیں ہیں۔
ایک وہ جہاں صرف ایک فن سکھایا جاتا ہے اور ہر فن کے لئے الگ الگ اور مستقل تعلیم گاہیں ہیں ۔ جیسے کوئی میڈیکل کالج ہے، کوئی انجینئرنگ کالج ہے، ایک آرٹ اسکول ہے، ایک تجارت کا مدرسہ ہے، ایک زراعت کی تعلیم گاہ ہے ایک قانون کی درس گاہ، ایک فوجی تعلیم کے لئے مدرسہ حربیہ ہے۔ ان میں سے ہر مدرسہ اور تعلیم گاہ صرف ایک ہی قسم کے طالب علموں کی تعلیم کا انتظام کرسکتی ہے۔ میڈیکل کالج سے صرف ڈاکٹر نکلیں گے، زراعت کے کالج سے صرف زراعت کے ماہر پیدا ہوں گے، قانون کے مدرسہ سے صرف قانون دان تیار ہوں گے، تجارت کی تعلیم گاہ سے صرف تجارت کے واقف کار پیدا ہوں گے، علم وفن کے مدرسہ کی خاک سے صرف اہل علم اور اہل فن اٹھیں گے۔ لٹریچر کی تعلیم گاہ سے صرف انشا پرواز اور ادیب نکلیں گے، ملٹری کالج سے صرف سپاہی پیدا ہوں گے ۔ علیٰ ہذا القیاس۔
لیکن کہیں کہیں بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہوتی ہیں، یہ دوسری قسم کی تعلیم گاہیں ہیں، جو اپنی وسعت کے مطابق ہر قسم کی تعلیم وتربیت کا انتظام کرتی ہیں، ان کے احاطہ میں ڈاکٹری کا کالج بھی ہوتا ہے اور صنعت وحرفت کا مدرسہ بھی، زراعت اور انجینئرنگ کی تعلیم گاہ بھی ہوتی ہے اور فوجی تعلیم گاہ بھی ہوتی ہے، طلبہ مختلف اطراف ودیار سے آتے ہیں اور اپنے اپنے ذوق، مناسبت طبع اور استعداد کے مطاق ایک ایک کالج یا مدرسہ کا انتخاب کرلیتے ہیں، پھر وہاں فوجوں کے جنرل اور سپاہی وعدالتوں کے قاضی اور قانون دان ، کاروبار کے تاجر اور ماہر، شفا خانوں کے حکیم اور ڈاکٹر پیشوں اور صنعتوں کے واقف کار اورماہر سب ہی پیدا ہوتے ہیں۔
غورکرو تو معلوم ہوگا کہ صرف ایک ہی تعلیم، ایک ہی پیشہ اور ایک ہی علم کے جاننے والوں سے انسانی سوسائٹی کی تکمیل نہیں ہوسکتی، بلکہ ان سب کے مجموعہ سے وہ کمال کو پہنچتی ہے اور پہنچ سکتی ہے ، اگر صرف ایک ہی علم اور ایک ہی پیشہ کے ماہرین سے تمام دنیا معمور ہوجائے تو اس تمدن وتہذیب کی مشین فوراً بند ہوجائے اور انسانی کاروبار ایک دم مسددو(بند) ہوجائے۔ یہاں تک اگر تمام دنیا صرف زہد پیشہ خلوص نشینوں سے بھر جائے، تب بھی وہ اپنی تکمیل کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی ۔ اب آئو اس معیار سے مختلف انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرتوں پر غور کریں ، بقول حضرت مسیح’’ درخت اپنے پھل سے پہنچایا جاتا ہے ۔‘‘درس گاہ اپنے معنوی فرزندوں اور شاگردوں سے پہچانی جاتی ہیں ۔
تعلیم انسانی کی ان درس گاہوں کا جن کے اساتذہ انبیاء علیہ السلام ہیں، جائزہ لو تو پہلے تو کہیں دس بیس، کہیں ساٹھ، ستر کہیں سو ،دوسو ، کہیں ہزار دو ہزار، کہیں پندرہ بیس ہزار طالب علم آپ کو ملیں گے، لیکن جب مدرسۃ نبوت کی آخری تعلیم گاہ کو دیکھو گے تو تم کو ایک لاکھ سے زیادہ طالب علم بیک وقت نظر آئیں گے، پھر ان دوسری نبوت گاہوں کے طلبہ کو اگر جاننا چاہو کہ وہ کہاں کے تھے؟ کون تھے؟ کیسے تیار ہوئے؟ اور ان کے اخلاق وعادات ، روحانی حالات اور دیگر سوانح زندگی کیا تھے؟ اور ان کی تعلیم وتربیت کے عملی نتائج کیسے ثابت ہوئے تو تم کو ان سوالات کا کوئی جواب نہیں مل سکتا۔ مگر محمد رسول اللہﷺ کی درس گاہ میں ہر چیز تم کو معلوم ہوسکتی ہے اس کے ہر ایک طالب علم کو نام ونشان ، حالات و سوانح ، نتائج تعلیم وتربیت ، ہر چیز تاریخ اسلام کے اوراق میں ثبت ہے ، آگے بڑھو، نبوت اور دعوت مذہب کی ہر ایک درس گاہ کا آج یہ دعویٰ ہے کہ اس کے دروازے پر قوم کے لئے کھلے ہوئے ہیں، مگر اس درس گاہ کا بانی اور معلم اول کی سیرت پڑھو کہ کیا اس کے عہد میں کسی ایک ہی ملک ، ایک ہی نسل ، ایک ہی خاندان کے طالب علم اس میں داخل ہوئے، اور ان کو داخلہ کی اجازت دی گئی یا ان کی دعوت میں یہ عموم، جامعیت اور عالمگیری تھی کہ نسل آدم کا ہر ایک فرزند اور ارض خاکی کا ہر ایک باشندہ اس میں عموماً داخل ہوسکا یا اس کو داخل ہونے کے لیے آواز دی گئی۔ تورات کے تمام انبیاء علیہ السلام ملک عراق یا ملک شام یا ملک مصر سے آگے نہیں بڑھے یعنی اپنے وطن میں جہاں وہ رہتے تھے، محدود رہے اور اپنی نسل وقوم کے سوا غیروں کو انہوں نے آواز نہیں دی ، زیادہ تران کوششوں کا مرکز صرف اسرائیل کا خاندان رہا، عرب کے قدم انبیاء بھی اپنی قوموں کے ذمہ دار تھے، وہ باہر نہیں گئے۔ حضرت عیسیٰ کے مکتب میں بھی غیر اسرائیل طالب علم کا وجود نہ تھا۔ وہ صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں تھے۔(متی: باب7آیت24)
اور غیروں کو تعلیم دے کر وہ بچوں کی روٹی کتوں کے آگے ڈالنا پسند نہیں کرتے تھے۔(انجیل)
ہندوستان کے داعی پاک آرجایہ ورت سے باہر جانے کا خیال بھی دل میں نہیں لاسکتے تھے اگرچہ بودھ کے پیروبادشاہوں نے اس کے پیغا م کو باہر کی قوموں تک پہنچایا، مگر یہ عیسائیوں کی طرح بعد کے پیروئوں کا فعل تھا خود داعی مذہب کی سیرت اس عالمگیری اور جامعیت کی مثال سے خالی ہے۔
اب آئو ذرا عرب کے اس امی معلم کی درس گاہ کا مطالعہ کریں۔ یہ کون طالب ہیں؟ یہ ابو بکر وعمر ، علی ، عثمان، طلحہ وزبیروغیرہ(رضی اللہ عنہم) مکہ کے قریشی طالب علم ہیں، یہ کون ہیں؟
ابوذر اور انس رضی اللہ عنہا ہیں۔یہ مکہ سے باہرتہامہ کے غفاری قبیلہ کے ہیں، یہ کون ہیں؟ یہ ابو ہریرہ اور طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہما ہیں یمن سے آئے ہوئے اور دوسی قبیلہ کے ہیں، یہ کون ہیں؟ یہ ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما ہیں ۔ یہ بھی یمن سے آئے ہیں اور دوسرے قبیلوں کے ہیں، یہ کون ہیں؟ یہ ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہیں، قبیلہ ازوکے ہیں؟ یہ کون ہیں؟ یہ خبابؓ بن الارت قبیلہ تمیم کے ہیں، یہ بن حیان اور منذربن عامذ ہیں، عبدالقیس کے قبیلہ کے ہیں اور منذربن عامذ ہیں، عبدالقیس کے قبیلہ کے ہیں اور بحرین سے آئے ہیں۔ یہ عبیدوجعفر ، عمان کے رئیس ہیں، یہ بلالؓ ہیں یہ معان یعنی حدودہشام کے رہنے والے ہیں، یہ کالے کالے کون ہیں؟ یہ بلالؓ ہیں ملک حبش والے یہ کون ہیں؟ یہ صہیبؓ رومی کہلاتے ہیں۔یہ کون ہیں؟ یہ ایران کے سلمانؓ فارسی ہیں۔ یہ فیروز دیلحی ہیں، یہ سیخت اور مرکبود رضی اللہ عنہم ہیں نسلاایرانی ہیں۔
حدیبیہ کی صلح6ہجری میں وہ عہد نامہ مرتب کراتی ہے جو اسلام کا عین منشاء ہے، یعنی قریش اورمسلمان دونوں فریق جنگ موقوف کریں اورمسلمان جہاں چاہیں اپنے مذہب کی دعوت دیں۔ اس دلخواہ کامیابی کے بعد پیغمبر علیہ السلام کے کیا کیا؟ اسی سال 6ہجری میں تمام قوموں کے سلاطین اور امراء کے نام دعوت اسلام کے خطوط بھیجے اور ان کو خدا کا پیغام پہنچایا۔وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہر قل قیصر روم کی بارگاہ میں ۔ عبداللہ ابن حذافہ سہی رضی اللہ عنہ خسرو پرویز شہنشاہ ایران کے دربار میں حاطب بن بلتعہ رضی اللہ عنہ مقوقس عزیز مصر کے یہاں ، عمروبن امیہ حبش کے بادشاہ نجاشی کے پاس شجاع بن وہب الاسدی شام کے رئیس حارث انسانی اور سلیط بن عمرو روسائے یمامہ کے درباروں میں پیغمبر اسلامﷺ کی درس گاہ میں داخلہ کا اذن عام ہے۔
حضرات اس واقعہ سے درس گاہ محمدیﷺ کی جامعیت کا یہ پہلو نمایاں ہوتاہے کہ اس میں داخلہ کے لئے رنگ وروپ، ملک ووطن ، قوم ونسل اور زبان ولہجہ کا سوال نہ تھا، بلکہ وہ دنیا کے تمام خاندانوں تمام قوموں، تمام ملکوں اور تمام زبانوں کے لئے عام تھی۔
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے
اب آئو اس درس گاہ کی حیثیت ا ور درجہ کا پتا لگائیں، کیا یہ وہ اسکول اورکالج ہے جہاں ایک ہی فن کی تعلیم ہوتی ہے، یا اس کی حیثیت ایک جامع اور عمومی درس گاہ اور عظیم الشان یونیورسٹی کی ہے، جہاں ذوق مناسبت طبع اور استعداد کے مطابق ہر ملک کے لوگوں کو اور ہر قوم کے افراد کو الگ الگ تعلیم ملتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم گاہ کو دیکھو، وہاں صرف فوج کے سپاہی اور یوشع جیسے فوجی افسر اور قاضی اور کچھ مذہبی عہدہ دار پائے جاتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طالب علموں کو تلاش کرو، چند زہد پیشہ فقراء فلسطین کی گلیو ںمیں ملیں گے، مگر محمد رسول اللہﷺ کے ہاں کیانظر آئے گا؟ ایک طرف اصححہ حبش کا نجاشی بادشاہ، فروہ معاون کا رئیس، ذوالکلاع رضی اللہ عنہ حمیر کا رئیس، عامر بن شہر قبیلہ، ہمدان کا رئیس، فیروز رضی اللہ عنہ دہلمی اور مرکہوہ یمن کے رئیس ، عبیدوجعفر عمان کا رئیس، دوسری طرف بلال رضی اللہ عنہ، یاسر رضی اللہ عنہ صہیب رضی اللہ عنہ، خباب رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ اور ابوفکہیہ رضی اللہ عنہ کے سے غلام اور سمیہ رضی اللہ عنہا، لبیّہ رضی اللہ عنہا، زنیرہ رضی اللہ عنہا، نہدیہ رضی اللہ عنہا اور ام عمیس رضی اللہ عنہ کی سی لونڈیاں ہیں۔ غور سے دیکھو، امیر وغریب ، شاہ وگدا، آقا وغلام دونوں ایک صف میں کھڑے ہیں۔
ایک طرف عقلائے روزگار اسرار فطرت کے محرم، دنیا کے جہانبان اور ملکوں کے فرماں رواں اس درس گاہ سے تعلیم پاکر نکلتے ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق ہیں، عمر فاروق رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ غنی ہیں، علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں، معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے مشرق سے مغرب تک،افریقا سے ہندوستان کی سرحد تک فرماں روانی کی جو دنیا کے بڑے سے بڑے شہنشاہ اور حکمران کی سیاست وتدبیر اور نظم ونسق کے کارناموں کو منسوخ کردیتی ہے، ان کے عدل وانصاف کے فیصلے، ایران دستور اور رومی قانون کو بے اثر کردیتے ہیں اور دنیا کی سیاسی وانتظامی تاریخ میں وہ درجہ حاصل کرلیتے ہیں جن کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔
دوسری طرف خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پیدا ہوتے ہیں، جو مشرق ومغرب کی دو ظالم وگنہگار اور انسانیت کے لئے لعنت سلطنتوں کا چند سال میں مرقع الٹ دیتے ہیں اور دنیا کے وہ فاتح اعظم اور سپہ سالار اکبر ثابت ہوتے ہیں، جن کے فاتحانہ کارناموں کی دھاک آج بھی دنیا میں بیٹھی ہوئی ہے، سعد رضی اللہ عنہ نے عراق وایران کا تاج شہنشاہی اتار کر اسلام کے قدموں میں ڈال دیا۔ خالد رضی اللہ عنہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے رومیوں کو شام سے نکال کر ابراہیم علیہ السلام کی موعودہ زمین کی امانت مسلمان کے سپرد کردی۔ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے فرعون کی سرزمین،وادی نیل رومن شہنشاہی کے ہاتھوں سے زبردستی چھین لی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے افریقہ کا میدان دشمنوں سے جیت لیا۔ یہ وہ مشہور فاتح اور سپہ سالار ہیں جن کی قابلیتوں کو زمانے نے تسلیم کیا۔ اور تاریخ نے ان کی بزرگی کی شہادت پیش کی ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}