سیرت النبی ﷺ کے 7عظیم سبق ۔۔۔ محمد عباس شاد

ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی مسلمان خوشیوں اور مسرتوں سے معمور ہوجاتےہیں یقیناً مسلمانوں کے لیے اس موقع سے زیادہ اور کوئی موقع خوشی کا نہیں ہوسکتا کیونکہ اسی مہینے میں رحمت عالم ،سرور دوجہاں کا یوم پیدائش ہے ۔ جوجہاں ہمارے لیے خوشی ومسرت کا باعث ہے وہاں اس میں غوروفکر کے بھی بہت سےسامان لیے ہوئے ہے ۔خصوصاً پاکستانی قوم کو توخصوصی طور پر اپنی حالت زار کو سیرت النبی کے تناظر میں دیکھنے اور غوروفکر کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔آنحضرت ﷺکی زندگی کے بہت سے گوشوں میں ایسے نکات موجود ہیں جن کی روشنی میں ہم اپنی قومی الجھنوں کو نہ صرف سمجھ سکتے ہیں بلکہ ان کا بہترین حل بھی ڈھونڈ سکتے ہیں۔۔

آپ ﷺ کی سیرت کا پہلا عظیم سبق

یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آمد و بعثت‘ انسانیت کو ظلم و ستم اور جبر و استحصال سے نجات کے لے تھی۔ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت معاشرے کے پِسے ہوئے طبقات اور اس دور کے نظامِ ظلم کے ستائے ہوئے بے نوا لوگوں کی تھی، جن کی آواز پر اُس دور کے طاقت ور طبقات کان دھرنے کے لے تیار نہ تھے۔ آپ نے انھیں ایک لڑی میں پرو کر نظام ظلم کے مقابلے میں ایک طاقت ور جماعت میں ڈھال دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں دعا گو ہوئے کہ: ”اے اللہ! مجھے مسکینوں کے ساتھ زندہ رکھ۔ مسکینوں کے ساتھ موت دے۔ اور مسکینوں کے ساتھ میرا حشر فرما۔“ {ترمذی}

آپ ﷺکی سیرت کے حوالے سے دوسرا عظیم سبق

یہ ہے کہ ہم اس بات کا تجزیہ کریں کہ آپ کی دعوت کیا تھی اور وہ کون سا طبقہ تھا‘ جسے آپ ﷺ معاشرتی بگاڑ کا سب سے اہم سبب سمجھتے تھے اور آپ نے ان سے مقابلے کی کیا حکمت ِعملی اپنائی۔تاریخ اور سیرت کے گہرے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ رسول اکرمﷺ اور آپ کی دعوت کی مخالفت کا اصل مرکز قریش کے چند بڑے سردار تھے‘ جو اپنی قوم کا طبقہ اشرافیہ تھے۔ یہ مکہ کے ظالم اور ساہوکاروں کی وہ جماعت تھی، جنھوں نے مخصوص طبقے کے مفادات پر مبنی نظامِ ظلم قائم کیا ہوا تھا۔

یہ لوگ حضور اکرمﷺ کے خلاف ظلم وستم، تکذیب و استہزا اور آپ کی دعوت و مشن کے خلاف پراپیگنڈے میں براہِ راست حصہ لیتے تھے اور عوام کو اپنی حمایت کے لیے مجبور کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ عرب کی سرداری اور قیادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ مال و دولت اور عمر میں ہم بڑے ہیں اور ہم ہی اس منصب کے زیادہ اہل اور مستحق ہیں۔آپ ﷺ کا پروگرام اور نصب العین ظالموں،استحصالی طبقوں اور اجارہ داروں کے خلاف اعلانِ جنگ تھا ‘ جو پس ماندہ ، غریبوں اور محنت کشوںکی محنت کا استحصال کرتے تھے اور مذہب کے مقدس نام پر عام عربوں کی سادہ لوحی اور ان کی توہم پرستی سے فائدہ اُٹھاتے تھے۔ مکہ کے قریشی تاجر نہ صرف غیرقریشی عوام کو ذلیل سمجھتے تھے، بلکہ دولت اور سرمایہ داری کے ساتھ ساتھ انھوں نے رنگ و نسب کے عجیب و غریب تصورات قائم کررکھے تھے۔ یہ لوٹ کھسوٹ ہر ذریعے سے رَوا رکھی جاتی تھی۔ مذہب ہو یا سیاست، تجارت ہو یاکاروبار، اس نظام کی روح یہ تھی کہ معاشرے میں موجود ایک مخصوص طبقہ سارے وسائل پر قابض ہوجائے اور باقی سب لوگ ان کی خدمت اور کاموں کے لیے وقف رہیں۔

آپﷺ کی سیرت کا تیسرا عظیم سبق

یہ ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کا اصلی مقصد شہنشاہیت کا زوال، دنیا سےسرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ، اور غریب پرورعادلانہ نظام کا قیام تھا۔

جیسا کہ آپ نے خطبہ حجۃالوداع میں فرمایا۔ ”خبردار! جاہلیت کے تمام دستور میرے پا ئو ں کے نیچے ہیں، اے انسانو! بے شک تمہارا پروردگار ایک ہے اور بے شک تمہارا باپ ایک ہے، خبردار! عربی کو عجمی پر، عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں۔ مگر تقویٰ کے سبب سے“۔

ایک دوسرے موقع پر آپ نے فرمایا۔

ایک دوسرے کی خیرخواہی کرو۔ کسی کو دھوکہ اور دغا فریب نہ دو۔ جو چیزیں تمام لوگوں کے کام کی ہیں، ان کو اپنے پاس دبا کر نہ رکھو۔ صرف اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لو اور باقی اوروں کے لیے چھوڑ دو۔ معاملات میں انصاف اور نرمی سے کام لو۔ اپنے حق پر زیادہ زور مت دو۔ دوسرے کا حق فوراً ٹھیک ادا کرو۔ جھوٹ مت بولو۔ چغلیاں نہ کھاو غیبت نہ کرو۔ گالیاں نہ دو۔ فحش باتوں سے زبان گندی نہ کرو، ورنہ رفتہ رفتہ دل گندا ہوجائے گا۔ بڑوں کی عزت کرو۔ چھوٹوں پر شفقت کرو۔ اللہ کو ہر وقت یاد رکھو۔ اس کا ذکر کرو۔ ہر کام اسی کو سونپ دو۔ خواہ مخواہ کسی سے لڑائی نہ کرو۔ اوروں کے قصور سے درگزر کرو۔ اپنی خطاو ں کا اقرار کرو اور اس کی فوراً تلافی کرو۔ مال، دولت اور عزت میں دوسروں سے بڑھنے کی ہوس مت کرو۔ ہاں نیک کاموں میں سب سے آگے رہنے کی کوشش کرو۔ یتیموں بے کسوں اور غریبوں کی خبرلو۔ حاجت مند کی حاجت روائی کرو۔ امانت میں خیانت مت کرو۔ سخت دل اور بے درد مت بنو۔ عورتیں شروع سے مظلوم رہی ہیں آپ ﷺ نے ان کو اس طرح قدردانی کا تاج پہنایا اور فرمایا: عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو“۔ آپ کی ان تعلیمات پر اگر مسلمان اپنا اجتماعی نظام قائم کرلیں تو ہمارے معاشرے کے کتنے ہی سلگتے ہوئے مسائل حل ہوجائیں۔

آپ ﷺکی سیرت کا چوتھا عظیم سبق

یہ ہے کہ آپ ﷺ کے زمانہ بعثت کو اگر تاریخی نظر سے دیکھا جائے تو ہمیں دنیا کے مہذب ممالک، دو شہنشاہوں کے زیر نگیں معلوم ہوتے ہیں: ایک کسریٰ شہنشاہِ ایران، دوم قیصر شہنشاہِ روم ۔ عراق، یمن، خراسان اور ان کے متصل ممالک کسریٰ کے زیر اقتدار تھے۔ ماوراءالنہر کا علاقہ بخارا، سمرقند، تاشقند وغیرہ پر ان کا قبضہ تھا۔ برصغیر پاک و ہند کے حکمران بھی کسریٰ کے باج گزار تھے۔ ہر سال یہاں سے لگان کا ایک حصہ کسریٰ کی طرف سے وصول کیا جاتا تھا۔ روم اور اس کے نواحی یورپ کے ممالک پر قیصر کا تسلط تھا ۔ مصر مغرب اور افریقہ کے سلاطین قیصر روم کے تابع تھے ۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایاکہ : ضرور بالضرور ان دونوں{قیصروکسری} کے خزانے اللہ کے راستے میں (مسکینوں اور محتاجوں کے لیے) تقسیم ہوں گے۔“ {بخاری}

آپ ﷺ کی سیرت کا پانچواں عظیم سبق

یہ ہےکہ آج ہمیں حضور اکرمﷺ کی نمونے کی زندگی کو آئینہ بنا کر اپنے معاشرے کی سیاست، تجارت، حکومت، نظام اور مذہبی رویوں کا جائزہ لینا چاہےکہ اُمرائے قریش اور قیصروکسری کی مفاد پرستانہ سیاست، استحصالی تجارت، طبقاتی حکومت، ظالمانہ نظام اور منافقانہ طرزِ عمل سے ہماری سیاست، تجارت، حکومت، نظام اورطرزِ عمل کیسے مختلف ہے۔ اگر ہمار امعاشرہ اسی طرح کے ظالمانہ اور منافقانہ اقدار اور طرزِ فکرو عمل کا شکار ہے اور ہماری باگ ڈور جس اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے‘ وہ ایسے ہی ظالمانہ نظام کی محافظ اور نمائندہ ہے تو سیرتِ نبوی ہمیں بہت کچھ سوچنے اور غور وفکر کی دعوت دے رہی ہے ۔ اس وقت ہمارے ملک میں مذہب اور سیاست کے عنوان سے سینکڑوں جماعتیں موجود ہیں‘ جو گزشتہ نصف صدی سے اس معاشرے میں موجود برائیوں کے خاتمے کی دعوے دار ہیں، لیکن برائیوں کا خاتمہ تو دور کی بات ہے‘ اس میں کمی کے بجائے نت نئے اضافوں کے ساتھ بدی اور برائیوں کا باقاعدہ ایک نظام وجود میں آگیا ہے، جوہماری مخلصانہ کوششوں کے ساتھ ساتھ ہماری انفرادی نیکیوں اور نیک تمناو ں کو بھی نگل رہاہے۔ جس کے نتیجے میں معاشرے پر مایوسی کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ اس صورتِ حال نے سماج میں کئی ایک المیوں کو جنم دیا ہے۔

آپ ﷺ کی سیرت کا چھٹااعظیم سبق

یہ ہےآپ نے ایسے معاشرے میں، جہاں بات بات پر لوگ جنگ و جدل کے لیے آمادہ ہوکر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجاتے تھے آپ نے اپنی بصیرت اور کوششوں سے امن کو بحال کیا کہ جب حجر اسود کی تنصیب کا موقع آیا تو مکہ کے قبائل اس مذہبی سعادت کے حصول کے لیے آپس میں جنگ و جدل پر آمادہ تھے۔ ہر قبیلے نے اس کو اپنی عزت ،وقار اور اَنا کا مسئلہ بنایا ہوا تھا۔ اور یہ اندیشہ تھا کہ مکہ کے قبائل ایک دوسرے کا خون بہا ئیں اوریہ بھی اندیشہ تھا کہ عربوں کے حسب دستور یہ جنگ ایک طویل عرصے تک جاری رہے۔ ۔ کیوں کہ ان کے ہاں معاملات کو باہمی مزاکرات سے زیادہ جنگ کے ذریعے حل کرنے کا تصور موجود تھا۔ ایسے ماحول میں رسول اکرم نے حجراسود کی تنصیب کے لیے ایسا طریقہ تجویزکیا کہ قبائل کے مابین پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر ایک چادر میں حجرِاسود رکھ کر تمام قبائل کو اس کی تنصیب میں شامل کرلیا۔ یوں سب کو ان کا مطلوبہ اعزاز بھی مل گیا اور تنازعہ بھی رفع ہوگیا۔ آپ کے اسی طرز عمل کے سبب آپ کو رسول امن قرار دیا گیا۔

آپ ﷺ کی سیرت کاساتواں عظیم سبق

یہ ہےآپ نے عربوں کو جس معاشرے کا وارث بنایا، اس میں نسلی قبائل اور مختلف اہل مذہب کو پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر متحد کیا۔ آپ نے مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کو باہمی منافرت کا ذریعہ نہیں بننے دیا۔ بلکہ میثاقِ جمہوریت ِمدینہ اورآپسی مواخات کے سنہری اصولوں کے تحت وحدتِ انسانیت کے اصول پر تہذیبوں کےدرمیان مفاہمت اور برداشت کے کلچر کو پروان چڑہاکر جنگ زدہ ماحول کو امن و آشتی سے بدل دیا۔چناںچہ اسلام نے جہاد کا محور کسی قوم،نسل،تہذیب یا مذہب کو قرار نہیں دیا بلکہ ”فتنہ“ کو قرار دیا ہے۔ جو معاشرے میں ایک مخصوص طبقے کی طاقت کے باعث پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کے فطری حقوق کو سلب کر کے ظلم و جبر کا نظام مسلط کردیتا ہے۔ ۔

آپ نے دیگر مذاہب کے قلع قمع کا حکم دینے کے بجائے ان کے ساتھ برادرانہ تعلقات استوار کرنے اور رواداری کا حکم دیا ہے،دیگر مذاہب کے لوگوں کو ان کی مذہبی رسومات اور عبادت گاہوں کو قائم کرنے کا انسانی حق تسلیم کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں گرجا گھروں، مندروں اور دیگر عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرکےپُرامن بقائے باہمی اور تہذیبوں کے مابین مفاہمت کے ماحول کو پروان چڑہایا گیا۔

ماہِ ربیع الاوّل ہر سال ہمیں نبی اکرم کی مقدس تعلیمات کی یاد دِلاتا ہے، لیکن ہم اسے اپنی روایتی بے حسی کے سبب کچھ حاصل کےے بغیر گزار دیتے ہیں۔ حضور اکرم کی ولادت کی خوشی مسلمانوں کے لےے ایک فطری اور طبعی امر ہے، لیکن ہماری اجتماعی قومی حالت ِزار اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس موقع پر نبی مکرم کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے حالات پر بھی سنجیدگی سے غور کریں۔ اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اس محبت کا معیار اور تقاضے کیا ہیں؟ جس ملک میں بدترین استحصالی نظام ہو، جہاں عدالتوں کے دروازوں پر لگے ترازو میں انصاف بکتا ہو، جہاں کی سیاست میں منافقت شامل ہو، مذہبی رہنما مخالفوں کے قتل کے حکم صادر کرتے اور نفرت کے فتوے بانٹتے ہوں، حکمران عوام کا خون چوستے ہوں، عوام کے آنگن میں بھوک اور افلاس ناچتے ہوں، جہاں علم کے موتی چننے والے معصوم بچوں کو بارود سے بھون دیا جاتا ہو، ایسے ملک میں نبی اکرم کے ماننے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ سب سے پہلے وہ ان برائیوں کے خلاف جدوجہد کریں اور وحدت انسانیت کے اصول پر ایک ایسے معاشرےکو وجود بخشیں جس میں خداپرستی اور انسان دوستی لازم وملزوم ٹھریں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}