رسول عربی ﷺ کی تعلیمات اور قوانین جنگ ۔۔۔ سید واجد رضوی

آپؐ سے پہلے عرب میں مقاصد جنگ کی طرح جنگ کے طریقے بھی وحشیانہ تھے، جنگ کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہولناک غیض وغضب کا مظہر ہوتی تھی۔ مقاتلین اور غیر مقاتلین کا کوئی فرق نہیں تھا۔ لڑائی کا اثر سوسائٹی کے ہر طبقے پر پڑتا تھا۔ اور ہر شخص یکساں طور پر تہ تیغ کیا جاسکتا تھا، بالخصوص عورتیں ہوسناکیوں کا تختہ مشق بنائی جاتی تھیں۔ جنگی قیدیوں کو تکلیف دے کر مارڈالنا، انہیں آگ میں دھکیل دینا، ان کے اعضاء کو قطع وبرید کرنا، لاشوں کے اعضاء کا کاٹ لیا جانا، ان کی کھوپڑی کو بطور جام شراب استعمال کرنا، بغیر اعلان کے جنگ کرنا اور عہد وپیمان کو توڑ دینا اس زمانہ کی جنگوں میں معمولی باتیں تھیں…… لیکن یہ تو صحرائے عرب کے وحشیوں کی باتیں ہوئیں۔ متمدن ممالک کا حال ان سے بھی بدتر تھا۔
ہندوستان میں آریوں کی جنگیں غیر آریوں سے ہوئی تھیں۔جنہیں وہ فطرتا ذلیل اور نجس سمجھتے تھے۔ ویدوں کے منتروں سے ظاہر ہوتا ہے ۔ کہ آریوں کے دل میں دشمن کو ہولناک عذاب دینے کی خواہش موجود تھی۔ زندہ آدمی کی کھال کھینچنا، اس کی بوٹیاں کاٹ لینا، اسے آگ میں جلانا، اس کے اعضا کا مُثلہ کرنا، اس کو درندوں سے پھڑوانا، جانوروں کی جھال میں اسے سی دینا، اور اس کے اہل وعیال کو تہہ تیغ کرڈالنا… یہ تغریریں تھیں جو وہ اپنے دشمنوں پر عائد کرنا چاہتے تھے۔
روم اور ایران دنیا کے یہ مہذب ممالک اپنی بربریت میں ہر قوم سے آگے تھے،ان کے ہاں عرب اور ہندوستان کے مذکورہ بالا مظالم کے علاوہ فصلوں اور باغوں کو تباہ کرنا اور بستیوں کو جلاکرراکھ کرڈالنا فاتح کے لئے باعث فخر سمجھا جاتا تھا…… سکندر اعظم نے شام کے قدیم تجارتی شہر صو کو چھ مہینے کے سخت محاصرہ کے بعد فتح کیا توآٹھ ہزار بے گناہ انسانوں کو قتل کیا۔ اور تیس ہزار کو غلام بنالیا… مفتوحین کے لئے اس زمانہ میں صرف دوہی صورتیں تھیں۔ یا تو وہ قتل کئے جاتے تھے۔ یا غلام بنالیے جاتے تھے۔!
70ء میں طیطس رومی نے بیت المقدس کو فتح کرکے شہر کی تمام حسین لڑکیوں کو فاتحین میں تقسیم کردیا، ہر جوان مرد کو مصر کی کانوں میں مزدوری کے لئے یاروم کے المیفی تھیڑوں میں قتل کردئیے جانے یا وہاں کے کلوسیمس میں جنگی جانوروں سے پھڑوانے کے لئے بھیج دیا۔ اس نے وہاں ستانوے ہزار آدمی گرفتار کئے جن میں سے گیارہ ہزار بھوک کی تاب نہ لاکر مرگئے، اور ہلاک ہونے والوںکی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار بتائی جاتی ہے۔
نوشیروان نے 540ء میں انطاکیہ کولوٹ کر آگ لگادی۔ اور576ء میں کیپیڈوسیا اور میلیٹائن کو جلاکر برباد کردیا۔
خسرو پرویز نے645ء میں بیت ا لمقدس کو فتح کرکے نوے ہزار انسانوں کوقتل کیا، اور عبادت گاہوں کو آگ لگادی۔ اور اس کے جواب میں ہر قل نے جب ایرا ن پرحملہ کیا، تو زرتشت کے وطن ارمیان ہی کو پیوند خاک کردیا… اور قیصر جسٹینین نے جب افریقہ کے ونڈالوں پر حملہ کیا تو اس نے پانچ لاکھ کی اس پوری قوم ہی کو صفحہ ہستی سے مٹاکر ایک سرسبز وشاداب ملک کو ویرانے میں تبدیل کردیا۔
درحقیقت رومی سلطنت غیر رومی سلطنتوں کے قانونی وجود ہی کو تسلیم نہیں کرتی تھی۔ یہی حال ایرانی سلطنت کا تھا۔ جس کے نزدیک ہر غیر ایرانی وحشی اور باغی تھا۔ اور یہی سبب تھا کہ یہ سلطنتیں جنگ میں ہر اخلاقی اور انسانی وجوب کو نظر نداز کردیتی تھیں۔
امی سپہ سالار ﷺ
اس پس منظر میں دیکھیے کہ ایک جاہل قوم کا ایک امی سپہ سالار جب اپنے بدترین دشمنوں کے شہر مکہ میں بحیثیت فافتح داخل ہوتاہے تو اس لیے نہیں کہ سکندر اعظم کی طرح تمام مفتوحین کو پابہ زنجیر کردے۔ اس لئے نہیں کہ نوشیروان کی طرح شہر کو آگ لگادے۔ اس لئے نہیں کہ جسٹینین کی طرح دشمن کو صفحہ ہستی ہی سے نابود کردے۔ بلکہ اس لئے اور صرف اس لئے کہ انسانی خون کی حرمت کو قائم کرے، باہمی اخوت اور محبت کو بحال کرے اور خدا اوراس کے بندوں کا ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑ دے!
وہؐ ایک فاتح کی طرح شہر میں داخل ہوگیا ہے۔ اسؐ کے بدترین دشمن اسؐ کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ ان میں اسؐ کے خون کا پیاسا ابوسفیان بھی ہے۔ اور ہندابھی ہے جس نے اسؐ کے چچا حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا۔ اور ساتھ ہی دس ہزار خون آشام تلواریں اسؐ کے ایک اشارے کی منتظر کھڑی ہیں۔ لیکن اسؐ کی زبان سے اگر کوئی بات نکلتی ہے تو صرف یہ کہ:۔
لاتتریب علیکم الیوم
یعنی آج کے دن تم پر کوئی الزام نہیں ہے ، تم سے کوئی مواخذہ نہیں، کوئی باز پرس نہیں ہے، جائو تم سب آزاد ہو…محمدؐ عربی کے دردمند دل سے رحمت کی گھٹائیں اٹھتی ہیں اور فضا کی پریشانی کو رفع کرکے انسانی قصور کی پردہ داری کرتی ہیں۔ اور اسؐ کا عفو عام وحشت کو دور کرتا ہے۔ حیات نو کا پیغام دیتا ہے اور انسانی قلوب کو انسانی خوف سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزاد کردیتا ہے۔
اصلاحات
آنحضرتﷺ نے جنگ کے متذکرہ بالا تمام وحشیانہ طریقوں کو منسوخ کردیا۔ اور ایسے قوانین نافذ فرمائے کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی مجلس اقوام متحدہ کا کوئی دستور ان سے بہتر ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا۔ آپؐ کا اصول یہ ہے کہ جنگ میں صرف اتنی ہی قوت استعمال ہونی چاہیے جو فتنہ کے انسداد کے لئے انتہائی ضروری ہو۔ اور اس قوت کے استعمال کی زد میں صرف انہیں لوگوں کو آنا چاہیے جو عملاً برسر پیکار ہوں یا جن سے شرکا اندیشہ ہو۔ آپؐ نے اسلامی جنگوں کو’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا نام دے کر مقصد جنگ کی تطہیر کی۔ اور اس پاکیزہ تصور کے تحت جنگ کا ایک مکمل ضابطہ قانون وضع فرمایا جس کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں۔
1۔وحشیانہ افعال کی ممانعت:
جب کبھی آپؐ کوئی مہم بھیجتے تو فوج کو نصیحت کرتے تھے۔
’’جائو اللہ کا نام لے کر اور اللہ کی راہ میں لڑو ان لوگوں سے جو اللہ سے کفر کرتے ہیں، مگر جنگ میں کسی سے بدعہدی نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو۔ نہ بوڑھے اور نہ کسی عورت کو‘‘
آپ نے ان تمام وحشیانہ افعال کی ممانعت کردی جو عہد جاہلیت کی لڑائیوں میں روا رکھے جاتے تھے۔مثلاً
(الف)دشمن کو آگ میں جلانا، آپ نے فرمایا کہ:۔
’’آگ کا عذاب دینا سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے کسی کو جائز نہیں ہے‘‘
(ب) دشمن کو باندھ کر قتل کرنا!جسے اس زمانے کی اصطلاح میں ’’صبر‘‘ کہتے تھے۔
(ج)فصلوں اور باغوں کو تباہ کرنا! جنگی ضروریات کے لئے البتہ درختوں کے کاٹنے کی اجازت ہے۔
(د) قتل عام اور آتش زنی
(ھ)مُثلہ کرنا! یعنی دشمن کی نعشوں کو بے حرمت کرنا اور ان کے اعضاء کا قطع وبرید کرنا۔
(و) قیدیوں کو قتل کرنا۔ آپؐ نے اسیران جنگ کو قتل کرنے کی سخت ممانعت کی۔ اور حکم دیا کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔ جنگ بدر کے قیدیوں کو آپؐ نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ کھانا کھلایا۔ ان میں سے اکثر کواس عہد پر رہا کردیا کہ وہ آئندہ جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ اور باقی کو مسلمان بچوں کا اتالیق مقرر کیا۔ اسی طرح حنین کے چھ ہزار قیدیوں کو آپ نے نہ صرف چھوڑ دیا بلکہ انہیں کپڑے کے چھ ہزار جوڑے بھی دئیے۔ اسیران جنگ کے متعلق اسلام کا قانون یہ ہے کہ اختتام جنگ پر یا تو بغیر فدیہ کے انہیںرہا کیا جائے، یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور اگر یہ صورت بھی نہ ہوتو قید میں رکھ کر ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔
2۔غیرمحاربین کی حفاظت
آپؐ نے دشمن کی آبادی کو دوحصوں میں تقسیم کیا۔ محاربین اور غیر محاربین عقلاً وعملاً جنگ میں حصہ لینے کی قدرت نہیں رکھتے۔ مثلاً عورتیں، بچے، بوڑھے، زخمی، سیاح، خانقاہ نشین وغیرہ ۔ آپؐ کے احکام کے مطابق محاربین کو قتل کیا جاسکتا ہے۔ غیر محاربین پروار کرنا قطعاً ممنوع ہے کئی حدیثوں میں اس کی تاکید فرمائی گئی ہے نیز غیر محاربین کے حملہ کے حق پر بھی کئی تحدیدیں عائد کی گئیں ہیں۔ مثلاً۔
(الف)واضر بومنھم کل نبان۔(یعنی ان کی جوڑوں پر مارو۔)
ظاہر ہے کہ دشمن کو لڑائی کے ناقابل کردینے اور ساتھ ہی خونریزی کو حتی الامکان گھٹانے کی اس سے بہتر کسی دست بدست لڑائی کے لئے نہیں دی جاسکتی۔
(ب) غفلت میں کسی پر حملہ نہ کیا جائے، آنحضرتﷺ کسی دشمن قوم تک رات کے وقت بھی اگر پہنچتے تو صبح ہونے سے پہلے اس پرحملہ نہیں کرتے تھے۔
(ج)سفیروں کو قتل نہ کیا جائے، آپؐ سے پہلے اس کا رواج تھا۔
(د)معاہدوں کی خلاف ورزی نہ کی جائے! احادیث میں ایسی خلاف ورزی کو بدترین گناہ قرار دیاگیا ہے۔ اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ایفائے عہد کی تاکید کی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ:
واوفوابعھد اللہ ان العھدکان مسئولا
’’یعنی عہد پورا کرو۔کیونکہ عہد کے بارے میں بازپرس ہوگی‘‘
(ھ)راہروئوں کو نہ ستایا جائے! جنگ کے لئے لشکر جارہا ہوتو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ راستہ میں کسی راہر ویاکسی غیرشخص کو پریشان کرے۔ یا اس کا مال واسباب لوٹ لے۔
3۔ اعلان جنگ
اگر کوئی قوم مسلمانوں سے معاہدہ کرلے لیکن شرط کی خلاف ورزی کرے تو اس کے ساتھ جنگ کرنے سے پہلے اسے الٹی میٹم او رمہلت دینا ضروری ہے۔ قرآن مجید کا حکم ہے کہ:
’’اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت وبدعہدی کا خوف ہوتو ان کے معاہدہ برابری کو ملحوظ رکھ کران کی طرف پھینک دو۔‘‘
یعنی اس کو صاف طور پر آگاہ کیا جائے کہ اب معاہدہ باقی نہیں ہے۔
4۔غیر جانبداری
تمام غیر مسلم قومیں دو حصوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ ایک تو وہ جن سے ہمارا معاہدہ ہے۔ اور دوسرے وہ جن سے کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ معاہدین جب تک معاہدہ کی شرائط کی پابندی کرتے رہیں گے ان سے کوئی جھگڑا نہیں ہوسکے گا۔ اس حالت کو اسلامی قوانین جنگ میں غیر جانبداری کہا جاسکتا ہے۔ ورنہ غیر جانبداری کی کوئی خاص اصطلاح ہمارے ہاں موجود نہیں ہے۔ غیر معاہدین کے ساتھ ہمارے تعلقات اس طرح قائم رہیں گے کہ گویا حالت جنگ موجود ہے۔ جن قوموں سے معاہدہ ہوچکا ہو ان سے جب تک کہ معاہدہ نافذ ہو،کوئی تعرض نہیں کیا جاسکتا۔ نہ ان کے ملک میں مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی جاسکتی ہے۔(انفال۔ 1)اورنہ ان کی حدود میں دشمن کا تعاقب کیا جاسکتا ہے۔(نساء۔12)
5۔غلامی
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام اگر حریت انسانی کا علمبردار ہے تو اس میں اسیران جنگ کی غلامی کا کیا جواز ہے؟۔
درحقیقت اس مسئلہ کو اس کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے تاکہ اس کے خدوخال نمایاں ہوسکیں۔ اورکسی غلط فہمی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔!
بعثت رسولؐ سے قبل ساری دنیا میں اسیران جنگ کے ساتھ انتہائی بہیمانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ ہندوستان میں ’’شودروں‘‘ کی ذات ہی علیحدہ کردی گئی تھی۔ اور انہیں ہر انسانی حق سے محروم کردیا گیا تھا۔ رومیوں اور یونانیوں کے ہاں اسیران جنگ یا تو قتل کئے جاتے تھے یا غلام بنالئے جاتے تھے۔ نیز غیر قوموں کو محض غلام بنانے کے لئے جنگ کرنا بھی یونانیوں کے ہاں جائز تھا۔ روم کی تماشہ گاہوں میں اسیران جنگ ہی کو زندہ جلایا جاتا تھا۔ انہیں عقوبتیں دے کر قتل کیا جاتاتھا۔ یا درندوں سے انہیں پھڑوایا جاتا تھا۔ اور بسا اوقات یہ تماشے ایسے بڑے پیمانے پر ہوتے تھے کہ ہزاروں غلاموں کو ایک ہی رات تہہ تیغ کردیا جاتا تھا۔
نیز رومی معاشرہ میں ان کا کوئی مقام نہیں تھا، ان کے خون کی کوئی قیمت نہیں تھی…جیسا کہ فیرر نے کہا ہے کہ ’’وہ ذلت کے بچپن، مشقت کی جوانی اور بے رحمانہ تغافل کے بڑھاپے میں پیدائش سے موت تک کے مراحل طے کرتے تھے۔‘‘
ایران کے غلام بھی ان مصائب سے محفوظ نہیں تھے۔ وہاں بھی ان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا انہیں سخت سے سخت جسمانی مضرت پہنچانے پر بھی کوئی باز پرس نہیں ہوتی تھی اور نہ ملکی رواج اور قومی اخلاق میں ان کی بہتری کے لئے کوئی گنجائش تھی۔
ان حالات میں غلامی کے مسئلہ کا حل آنحضرت ﷺؐکو دریافت کرنا تھا۔ آپؐ کے سامنے کئی دشواریاں تھیں۔ اور کئی مشکلات آپؐ کی راہ میں حائل تھیں۔ غلامی کے ادارہ کو یک لخت برخاست کرنا نہایت درجہ پیچیدگیوں اور الجھنوں کا باعث ہوسکتا تھا۔ اس لیے آپؐ نے اس معاملہ میں بالراست اصلاح کے بجائے بالواسطہ ایسی تدبریں اختیار کیں کہ تمام مضرتیں اور خرابیاں دور ہوگئیں اور غلامی کا نام اگر چہ باقی رہ گیا لیکن یہ غلامی اجتماعی مضرت کی جگہ انسانی منفعت میں تبدیل ہوگئی اور مجبوروں اور لاچاروں کی بے بسی اور بے کسی کا ایک بہترین حل بن گئی۔
بسا اوقات بڑی لڑائیوں میں مفتوح فریق کے مردوں کا بڑا حصہ ہلاک ہوجاتا تھا اور ان کے پسماندہ عورتوں اوربچیوں کی نہ صرف پرورش کا مسئلہ نازک صورت اختیار کرتا تھا بلکہ عورتوں کے بے سہارا ہوجانے سے مفاسد کا دروازہ بھی کھل جاتا تھا۔اس کا ایک ہی علاج تھا کہ فاتح ان کی پرورش کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔ اور عورتوں سے ازدواجی تعلقات بھی قائم کرسکیں تاکہ سوسائٹی میں ان کا ایک مقام پیدا ہوسکے اور ہم فتنہ وفساد کا سدباب بھی ہوجائے۔
اس زمانہ میں اسیران جنگ کے تبادلے کا رواج نہیں تھا۔ مسلمان سپاہی اگر قید ہوتے تو دشمن انہیں غلام بناکر رکھ لیتا۔ ان حالات میں مسلمانوں کے لئے بھی بجز اس کے کوئی اورچارہ نہیں تھا کہ وہ بھی دشمن کے سپاہیوں کو جو گرفتار ہوکر آئیں غلام بناکر رکھ لیں۔ لیکن آنحضرتﷺ نے ان غلاموں کو سوسائٹی میں ایک ایسا مقام عطا کیا جو انسان کے شایان شان ہوسکتا تھا۔ اور ساتھ ہی غلامی کی مضرتوں کو رفع کرنے کے لئے آپؐ نے حسب ذیل تدبیریں بھی اختیار فرمائیں۔
1۔ تبادلہ
جب کبھی اسیران جنگ کے تبادلہ کا کوئی موقع ملا آپؐ نے اسے بخوشی منظور کرلیا۔آپؐ ہی کے طرز عمل کی بناء پر فقہائے اسلام نے یہ اصول مدون کیا کہ دشمن اگر راضی ہوتو اسیران جنگ کا تبادلہ کرلینا چاہیے۔
2۔اختیار تمیزی
آپؐ نے اسیران جنگ کو غلام بنانے کا حکم نہیں دیا بلکہ صرف اجازت دی ہے ۔ اور اختیار تمیزی سے فائدہ نہ اٹھانے کو افضل قرار دیا ہے۔
3۔حدود
آپؐ نے اسیران جنگ کی حدود بھی قائم فرمادی ہیں۔ چنانچہ صرف محاربین ہی کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ غیر محاربین یا مضافی آبادی میں سے کسی کو پکڑلینے کی سخت ممانعت فرمائی ہے۔آپؐ نے فرمایا کہ:
’’تین شخص ہیں جن کے خلاف قیامت میں میں خود مدعی بنوں گا۔ ایک وہ جس نے میرا ذمہ دے کر بدعہدی کی۔ دوسرا وہ جس نے آزاد انسان کو بیچا۔ اور اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ جس نے کسی مزدور سے پورا پورا کام لیا اور اس کی مزدور نہ دی۔‘‘(بخاری)
4۔غلام کو آزاد کرنا
غلام کو آزاد کرنے کا بڑا اجر بتایا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ غلام کو آزاد کرنا دوزخ سے بچنے کا ایک طریقہ ہے۔ اورجو شخص جتنا زیادہ قیمتی اور پسندیدہ غلام آزاد کرے گا وہ اتنا ہی زیادہ ثواب کا مستحق ہوگا۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس نے اپنی لونڈی کو تربیت دے کر آزاد کیا اور اس سے نکاح کرلیا اسے دوہراثواب ملے گا۔ آپؐ نے ہر ہر قدم پر غلاموں کی آزادی پر زور دیا۔ اور دفع بلیات اور کفارہ گناہ کے لئے بھی اسے مستحسن قرار دیا ہے۔
قرآن مجید میں بھی غلام کی آزادی کو نیکی کا دشوار گزار راستہ بتایا گیا ہے۔
آپؐ نے فرمایا کہ غلاموں کو’’میرا لڑکا‘‘ اور ’’میری لڑکی‘‘ کہہ کرپکارو۔ انہیں اپنے ساتھ ایک ہی دستر خوان پرکھانا کھلائو۔
6۔فوجداری اوردیوانی حقوق
اسلامی فوجداری قانون غلاموں اورآزادوں کی یکساں حفاظت کرتا ہے۔ اور دیوانی قانون ان کی املاک پر ان کی ملکیت اور تصرف کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔
7۔مساوات
آنحضرتﷺ کی تعلیمات کی بدولت اسلامی سوسائٹی میں غلاموں کو عملاً مساوات کا درجہ مل گیا ہے۔ اور زندگی کے ہرشعبہ میںوہ بلاروک ٹوک ترقی کرسکتے ہیں۔ آپؐ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ ایک آزاد کردہ غلام زیدؓ بن حارثہ سے بیاہی گئی تھیں۔ امام حسن بصریؓ ایک غلام کے بیٹے تھے۔ سلمان فارسی بھی غلام ہی تھے حضرت بلال ؓ حبشی بھی غلام تھے جنہیں حضرت عمرؓ’’آقا‘‘ کہتے تھے ۔ اور رسولؐ کے پیارے نواسے حضرت امام حسینؓ کی شریک حیات اور دنیا کے تمام سادات کی جدہ اعلیٰ بھی جنگ ہی میں اسیر ہوکر آئی تھیں… اس تاریک دور میں جبکہ اسیران جنگ وحشت اور بہیمیت کا تختہ مشق بنائے جاتے تھے آپؐ نے ان کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت کی۔ ان کے انسانی حقوق کی حفاظت کی۔ ان کے معیار زندگی کو بلند کیا۔ اور ان کے معاشرتی درجہ کو ایسی رفعت عطا کی کہ
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودوایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
8۔لوٹ کا مال
عربوں کے نزدیک مال غنیمت سب سے زیادہ حلال وطیب ذریعہ معاش ہونے کے باعث سب سے زیادہ مرغوب تھا اسی لیے رسولؐ عربی نے اس کے متعلق تدریجی طریقہ اختیار کیا جب کبھی کوئی چیز قدیم رواج کی حیثیت اختیار کرکے عادت میں داخل ہوجاتی ہے تو اس کا ازالہ بہت مشکل ہوجاتا ہے اور اس کے اثرات مدتوں کام کرتے رہتے ہیں۔ مال غنیمت کے اسی موروثی شوق کے ساتھ اہل عرب اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ اور ہر موقع پر بلاارادہ لوٹ کھسوٹ کی طرف مائل ہوجاتے تھے چنانچہ جنگ احد میں غنیمت کے لالچ ہی کے سبب سے جیتی ہوئی بازی ہاردی گئی تھی۔
سب سے پہلے جنگ بدر میں قبل اس کے کہ مال غنیمت یکجا کیا جاتا مجاہدین اسلام لشکر قریش کے مال غنیمت کی طرف متوجہ اورجبلی طور پر مصروف ہوگئے۔ لیکن چونکہ غنیمت جہاد اسلام کی حقیقت میں داخل نہیں ہے۔ اس لیے تبارک تعالیٰ نے تنبیہہ فرمائی کہ:
’’اگر خدا کی طرف سے پہلے حکم نہ ہوچکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس پر عذاب نازل ہوتا‘‘۔(انفال۔9)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے سب سے پہلے معرکہ جہاد میں غنیمت ناجائز تھی۔ لیکن انسانی فطرت کے ناقابل تغیر رجحانات کے مدنظر اسے حلال کردیا گیا اور پھر رفتہ رفتہ اس رجحان سے تخریبی عناصر کو خارج کرنے کی کامیاب سعی کی گئی۔ قرآن نے فرمایا کہ:۔
’’لوگ تجھ سے غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دیجیے کہ غنیمت خدا اور رسولؐ کی ہے‘‘۔
اس آیت نے اس بات کو صاف کردیا ہے کہ مال غنیمت کے لئے مجاہدین دعوی نہیں کرسکتے ۔ بلکہ اس کی تقسیم رسول اللہؐ کے اختیار میں ہے۔ اس حکم کا بڑا مفید نتیجہ برآمد ہوا۔ اب ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق کسی چیز کو لوٹ کر اپنے لئے حاصل نہیں کرسکتا تھا۔
آنحضرتﷺ نے مال غنیمت کی حدود اور شرائط مقرر فرمائیں۔ آپؐ نے حصول غنائم کے شوق کو زائل کرنے کے لئے جدوجہد کی۔ اور فرمایا کہ جو شخص غنیمت حاصل کرنے کی نیت سے جنگ کرے گا اس کو جہاد کا ثواب نہیں ملے گا۔
’’جس فوج نے اللہ کی راہ میں جنگ کی اور مال غنیمت پالیا، اس نے اپنی آخرت کے ثواب میں دوتہائی حصہ نہیں پایا۔اور اس کے لئے صرف ایک تہائی ثواب باقی رہ گیا اورجس نے غنیمت نہ پائی اسے پورا اجر ملے گا‘‘۔(مسلم)
آنحضرتﷺ کی یہ کوشش بار آور ہوئی۔ اور تھوڑے ہی عرصہ میں مجاہدین اسلام مال غنیمت کے بجائے رضائے رسولؐ اور ثواب آخرت کیلئے میدان جنگ کا رخ کرنے لگے۔ ایسے متعدد واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں جبکہ مسلمان سپاہیوں نے مال غنیمت کے لینے سے انکار کردیا اور باآواز بلند یہ اعلان کیا کہ:۔
شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
قرآن مجید کے ایک حکم کے تحت مال غنیمت کا پانچواں حصہ محتاجوں، معذوروں اورمسکینوں کی پرورش اور عام قومی ضروریات کے لئے علیحدہ کیا جانے لگا۔ حکم یہ تھا:
’’جان لوکہ جوکچھ مال غنیمت تم کو حاصل ہو۔ اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور اہل قرابت اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کا حصہ ہے‘‘۔(انفال)
آپؐ نے اصطلاح’’ مال غنیمت‘‘ کو بھی محدود کردیا۔ اور اس کا اطلاق صرف ایسے مال پر کیا جو میدان جنگ میں دشمن کی افواج سے فاتح فوج کے ہاتھ آئے۔ اس اصول کی بدولت پرامن غیرفوجی آبادیاں سپاہیوں کی لوٹ کھسوٹ سے محفوظ ہوگئیں۔ حالانکہ اسلام سے پہلے متحارب جماعتوں کے نزدیک ایسے امتیاز کا کوئی تصور بھی نہیں تھا… جو مال کہ صلح یا امان کے ذریعے مسلمانوں کے ہاتھ آئے یا جس پر لڑائی کے بعد اسلامی افواج کا قبضہ ہواسے حکومت اسلامیہ کی ملک قرار دیا گیا ہے۔
ان شرائط اور حدود کے مدنظر اصطلاح’’غنیمت‘‘ پر غورکیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ اصطلاح عہد حاضر کے’’غنائم جنگ‘‘ کے مترادف ہوجاتی ہے جسے قانون بین الاممالک فاتح کا حق سمجھتا ہے… لیکن دونوں میں ایک اہم فرق ہے۔موجودہ مغربی قانون کے تحت تمام مال حکومت کو حاصل ہوتا ہے لیکن اسلام نے ٹھوس حقائق کے مدنظر ایسے مال کے 4/5حصہ پر ان سپاہیوں کا حق تسلیم کیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی رضا اور خوشندوی کی خاطر معرکہ کارزار میں سربکف کود پڑتے ہیں…!
9۔صلح وامان
اسلام نے جنگ کی غایت یہ بیان کی ہے کہ فتنہ کو مٹادیا جائے تاکہ لڑائی کی ضرورت باقی نہ رہے…… اس لحاظ سے دشمن اگر صلح کی درخواست کرے تو اسے قبول کرنا ہم پرواجب ہے چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ:
’’اگر وہ صلح کے لئے جھکیں تو تم بھی جھک جائو ۔اور اللہ پر بھروسہ رکھو کہ وہ سب کچھ سنتا اورجانتا ہے‘‘۔(انفال)
اور’’اگر وہ تم سے ہاتھ کھینچ لیں اورجنگ نہ کریں اور صلح کی خواہش کریں تو ایسی حالت میں اللہ نے تم کو ان پر دست درازی کی کوئی راہ نہیں دی ہے‘‘۔(النساء)
نتائج
رسولؐ عربی کی اصلاحات نے آٹھ سال کی قلیل مدت میں عرب کی تاریخ جنگ کا ڈھانچہ بدل دیا اور درندگی کا انسداد کرکے اہل عرب کے ذہن وفکر کو انسانیت اورصداقت کے سانچے میں ڈھال دیا…پھر خونخوارں نے انسانی خون کی حرمت کی مثال قائم کی، وحشت کے حامیوں نے امن وآشتی کا پیام دیا، بربریت کے مجسموں نے عدل وانصاف کا درس دیا۔ اورغارتگروں اورراستہ لوٹنے والوں نے نوع انسانی کے حقوق کے تحفظ کا اعلان کیا…اوروہ مکے میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے جہاں سے انہیں تکلیف دے کر نکالا گیا تھا، جہاں ان کی جائیدادوں کو لوٹ لیا گیا تھا اورجہاں سے خونخوار لشکر قریش اسلام کو مٹانے اور اس کے نام لینے والوں کو تہہ تیغ کرنے کے ارادے سے بار بار مدینے کی طرف بڑھ آیا تھا، تو ان کی پیشانیوں پر غصہ کی شکن نہیں تھی۔ ان کی آنکھوں سے قہر نہیں ٹپک رہا تھا۔ان کے دل میں انتقام کا شعلہ نہیں بھڑک رہا تھا… وہ مکے میں حریت انسانی کا پیام لے کر داخل ہوئے تھے۔ انسانی رفعت کا علم تھامے ہوئے تھے اورمحبت کی عطربیز ہوائیں بیت اللہ کے طواف کے لئے ان کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھیں۔ اور یہ سب کچھ آج سے تیرہ سو برس پہلے ایک ایسے تاریک دور میں ہورہا تھا۔ جبکہ دنیا کی تہذیب کا علم خسروپرویز اور ہرقل جیسے خونخوار اور جہاں سوزبادشاہوں کے ہاتھ میں تھا۔ جبکہ شہروں کو جلاکر راکھ کا ڈھیر کیا جارہا تھا۔نوع انسانی پر ڈکیتیوں کے حملوں کا سلسلہ جاری تھا۔ او رمجبور ومقہور انسانیت کو خون کی ندیوں میں نہلایا جارہا تھا…!

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}