کیافوجی عدالتیں ناگزیر ہیں؟ — محمد عباس شاد

ہماری سیاسی تاریخ میں فوج ہمیشہ زیر بحث رہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری نا پختہ سیاسی روایت ہے۔گزشتہ کل یعنی 9 جنوری 2017کوپاکستان میں قائم فوجی عدالتوں کا آخری دن تھا ،جس پر مختلف پشین گوئیاں جاری تھیں لیکن وزیر اعظم کی زیر صدارت چیف آف آرمی سٹاف اور اعلیٰ سول اور فوجی ذمہ دارن کی ایک میٹنگ میںفوجی عدالتوں کی توسیع کی ضرورت واہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ساری صورتحال کو واضح کردیا گیاہے۔اور ان اقدامات پر بھی غور کیا گیا جس کے باعث اس کی توسیع کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت بھی پیش آئے گی۔
پاکستان کی ہیئت حاکمہ میں جو اہمیت فوج کو حاصل رہی ہے پھر خصوصاً آج دہشت گردی کے منڈلاتے سایوں میں فوج نے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے اپنے جس کردار کا انتخاب کیا ہوا ہے اس سے سیاسیات کا ہر باشعور طالب علم واقف ہے ۔اس میں شک نہیں کہ ایک سولین معاشرے میں فوجی عدالتوں کی موجودگی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور ہماری سیاسی جماعتیں بھی اسے اپنے لیے عار سمجھتی ہیں اسی لیے وہ بار بار س بات کا تاثر بھی دیتی رہتی ہیں کہ وہ فوجی عدالتوں کے قیام کو بامر مجبوری قبول کئے ہوئے ہیں۔
قابل غور امر یہ ہے کہ اس وقت فوجی عدالتوں سے زیادہ سیاست دانوں کی اہلیت ،حکمرانوں کی کارکردگی اور ہماری سول عدالتوں کا پروسس زیادہ زیر بحث آنا چاہئے تھا کیونکہ فوجی عدالتوں کا قیام دراصل انہی اداروں کی کارکردگی پرایک سوالیہ نشان ہے۔ہماری نام نہاد جمہوری حکومتیں اپنی پرفامنس کو بہتر بنانے کی بجائے خواہشات اور تمنائوں کا بے جا اظہار کرتی رہتی ہیں اور دنیا بھر کے جمہوری معاشروں کی مثالیں دے کر اپنے اقتدار کا جواز فراہم کرتی ہیں ،لیکن وہ اپنے ہاں دنیا کے ان معاشروں جیسی حکومتی صلاحیت اور اداروں کی فعالیت پر توجہ نہیں دیتیں،محکموں میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور میرٹ پر تقرریوں کا کوئی نظام بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن یہ خواہش ضرور رکھتی ہیں کہ فوجی ادارے سول حکومت کے تابع ہونے چاہئیں ۔ان کی یہ خواہش بجا ہے لیکن عمل بھی شرط ہے ۔ہمارے یہاں کے بیشتر اداروں کی کارکردگی پر سوالات کی وجہ سفارش ،رشوت ،فنڈز کا پراپر جگہ پر نہ خرچ ہونااور میرٹ کو نظرانداز کرنا ہے۔
کسی بھی ناگہانی آفت کے وقت ہمارے سول اداروں کی کیپسٹی اور صلاحیت بھی محتاج بیان نہیں ہے ،پھر طرہ یہ ہے کہ ایک طرف حکمران پارٹی نیشنل ایکشن پلان میں فوج کو یہ ذمہ داریاں سونپنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کو قائل کرتی ہے اور اپنی ذمہ داریاںپوری نہ کرنے کی صورت میں جب نیشنل ایکشن پلان کے خاطر خواہ نتائج نہ آئے تو اب اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اس کا ملبہ کسی اور پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔
ہماری قومی سطح کی پارٹیوں کی اخلاقی جرات بھی ایسی کمزور ہے کہ وہ اپنے خیال اور سوچ کی قیمت اداکرنے کے لیے بھی تیار نہیں ،نیشنل ایکشن پلان پر رضا ربانی نے روتے ہوئے سائین کیے تھے کہ وہ اس کو درست خیال نہیں کرتے اور پھر اقتدار کے مزے بھی لوٹتے رہے اور اب رانا ثنا ء اللہ کے اندر کا جمہوری پن باہر آیا چاہتا ہے، لیکن وہ اپنی سوچ اور نظریے کے خلاف حکومتی فیصلے پر استعفے کی قربانی دے کر لیلائے اقتدار سے الگ بھی نہیں ہونا چاہتے۔جس ملک کی سیاسی قیادت کی جرات اور اخلاقیات اس سطح کی ہوں وہاں قوم سیاسی قوتوں پر اعتماد کے بجائے اپنے مقدر کی لکیری فوج کے ہاتھومیں ہی تلاش کیا کرتی ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}