کیا ہم واقی مرچکے ہیں۔۔! ۔۔۔ مفتی اختر اورکزئی

میں نے “سی این ٹاور ” کینیڈا کی آخری منزل پر خود سے ہمکلامی کرتے ہوئے اک بابا کو دیکھا ۔اک کونے میں کھڑے ہوکر وہ دور نیلگوں سمندر کی طرف گھور رہاتھا۔ بابوں کی اپنی سی اک شان ہوتی ہے۔ انسان کی فطرت مسخ نہ ہو تو ضعیف العمری بڑی طاقت بخشتی ہے۔۔
اشفاق احمد کی طرح مجھے بھی بابوں سے بڑی دلچسپی رہی ہے۔ البتہ ایسے بابوں کی تعداد بڑی خال خال یے۔۔

بات یہ نہیں ہے کہ دنیا میں آج کل بابا نہیں پائے جاتے ، بات یہ ہے کہ وہ اپنی بلندی کو اپنی گہرائی میں چھپائے رکھتے ہیں۔ اور انہیں وہی لوگ پہچان پاتے ہیں جنہیں گہرائی اور بلندی کے مابین درست نسبت کا اندازہ ہو۔
میرے میزبان نے بتایا کہ یہ بے گھر آدمی ہے یہاں انہیں “ہوم لیس” کہتے ہیں۔یہ لوگ آزاد زندگی کے عادی ہیں وگرنہ حکومت کی طرف سے ان کی بنیادی کفالت و رہائش کا کامل اہتمام پایا جاتا ہے۔۔
بس بات اتنی سی ہے کہ وہاں یہ اصول و قواعد کے پابند ہوتے ہیں اور یہاں ہر راہ، سڑک، در وگودر پر آزاد۔۔
لیکن بھیک منگتا بابا کا سی این ٹاور کی اس عیاشی سے کیا تعلق، اس سوال کو میں نے دل ہی دل میں دبادیا ۔

میں بابا کے پہلو میں بائیں طرف جھک کر چھوٹے طیارے کو ایرپورٹ پر اترتے دیکھ رہاتھا۔۔
بابا میری طرف متوجہ ہوا اور یوں گویا ہوا جیسے وہ کسی سوال کا جواب دے رہا ہو۔ “
میں ہر دو تین ماہ بعد یہاں آتا ہوں، وہ دور جو بلڈنگ نظر آرہی ہے ناں، میں نے اس کے دامن میں زندگی کے تین سال گزارے ہیں۔ سی این ٹاور آکر چاروں طرف جائزہ لینے میں تھوڑی آسانی رہتی ہے کہ زندگی کے اگلے شب وروز کس دیوار کے سائے تلے گزارے جائیں۔۔”
میں نے پوچھا: ” آپ کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے، خوش ہیں؟ ” تھوڑے تامل کے بعداس نے کہا:
“زندگی میں خوش رہنے کے لئے کافی بے وقوف ہونا پڑتا ہے ۔ اور میں اتنا ہوشیار ہوں کہ لوگ مجھے ہوم لیس سمجھتے ہیں اور میں پوری کائنات اوڑ کر سوتا ہوں۔۔۔
میں نے خود کو زندگی کے بکھیڑوں سے آزاد کردیا ہے۔ گاڑی رکھتا ہوں، گھر کی ضرورت ہے اور نہ ہی خود کو ٹیکسوں میں خرچ کررہا ہوں۔۔”
میں نے حیرت سے دیکھا تو کہا :
“ہاں میرا گھر ٹورانٹو کے مضافات میں ہے۔ پچھلے سات سال سے میں نے اس میں اک معذور گھرانے کو آباد کررکھا ہے۔ شروع میں ان سے کرایہ لیتا تھا ، اب وہ بھی چھوڑ دیا ہے۔ جب تک میں رہا سو رہا، جب تک وہ رہیں گے سو رہیں گے، کون ہمیشہ زندہ رہتا ہے ، سبہی نے تو مرنا ہے، رخصت ہوجانا ہے تو پھر اپنا بوجھ ذرا ہلکا ہی کیوں نہ رکھیں۔ اور اب تو زندگی بھی کچھ بوجھ سی لگنے لگی ہے۔۔
پتہ نہیں کیوں کبھی خیال آتا ہے کہ سی این ٹاور میں اک کمی رہ گئ ہے ، اس کا اک اور فائدہ بھی ہونا چاہیے تھا۔۔

میں نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا تو کہا:
کوئ اک کھلی کھڑکی ،کوئ در، جس سے خودکشی کرنے کی آسانی رہتی۔ بابا مسلسل بولے چلا جارہا تھا جیسا اک زمانہ ہوا اسے کوئ مخاطب نہیں ملا، اور اب کوئ اسے دلچسپی سے سن رہا ہے تو وہ اس موقع کو کھونا نہیں چاہتا۔۔
لیکن اب مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ اس کے ذہن میں کسی اورنوع کے خیالات پرورش پارہے ہیں۔۔
تب مجھے احساس ہوا کہ حقیقی بابا اور انگریزی بابا میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ انسان بابا ہوکر نیرنگئ خیال کی جوانی میں قدم رکھتا ہے اور یہ بابا ہوکر موت کو تلاش کئے پھررہا ہے۔۔

شاید وہ سکون کی جستجو میں زندگی کا اک اور روپ دیکھنے کا متمنی تھا۔۔
میں نے بابا کے حلیے پر آخری نظر ڈالی اور ان کی پیچیدہ شخصیت پر غور کرتے ہوئے آگے بڑھا۔
انسان کے سامنے جینے کا کوئ بلند مقصد نہ ہو تو خود زندگی بھی موت کے زہریلے لہجے میں بات کرتی ہے۔ وہ جسمانی طور پر ایک گھر میں آباد تھا جس کی خرید کے لئے اس نے اپنی کل جوانی تج دی۔ نوکری کرتا رہا اور زندگی کی ہر ضرورت شاہانہ انداز سے پوری ہوتی رہی۔ انسان کی حیوانی ضرورتیں پوری ہوں تو مخلوق کے لئے ہمدردی اور خالق کے سامنے سجدہ ریزی کے جذبات وفور پاتے ہیں۔

یہی وہ لمحہ تھا جب یہ بابا گیارہ سال پہلے نوکری اور گھر چھوڑ کر در روح کے انجانے سفر پر روانہ ہوا۔۔
شاید وہ کسی مذہب کا پیرو نہ تھا لیکن اس کے متلاشی لہجے میں پوری طرح مذہب بول رہا تھا۔۔
کوئ راہ نہ ملی راہبر نہ ملا تو تلاش حق کی یہ جستجو تنہائی نفس کی تاریک گہرائیوں کی نذر ہوئ ۔
میرے لئے یہ زندگی کی نہایت باطل اور مایوس کن صورت تھی۔۔

لیکن یہ معاملہ شاید مذہب کا نہیں انسانی المیے کا تھا۔ اس نے مجھے واقعی حیران کردیا۔۔۔
جب بابا نے مجھے جاتے دیکھ کر کہا:
تمہاری اطلاع کے لئے اک بات کہوں، جاتے جاتے اس پر مزید غور کیجئے!
یہ جو میں نے کہا کہ خودکشی کا ارادہ ہے، تمہارے چہرے پر تاثرات تو ظاہر ہوتے رہے لیکن قدم میں زندگی کی کوئ جنبش نظر نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔ تسلی کے دو بول بولنے سے زبان تمہاری قاصر رہی۔۔
ہماری اس دنیا کا یہی تو مسئلہ ہے کہ ہم خون میں لتھڑی ہوئ لاشوں کو دیکھنے کے لاشعوری طور پر اتنے متمنی ہیں کہ ہم سے کسی کی زندگی کے لئے آواز وقدم نہیں اٹھائے جاتے۔۔
میں نے خودکشی ابھی نہیں کی ہے لیکن تمہیں خبر دوں، تم باقاعدہ خودکشی کرچکے ہو، تم سب خودکشی کرچکے ہو۔۔۔
تم سب مرچکے ہو۔۔۔۔!
بابا کی آواز بلند ہورہی تھی۔ بلکہ وہ باقاعدہ چیخنے لگے تھے۔ اور لوگ ہماری طرف متوجہ ہورہے تھے۔

میرے دل کی دھڑکنیں تھوڑی سی تیز ہوئیں۔اس لئے نہیں کہ مجھے ڈر لگ رہا تھا بلکہ اس حیرت سے کہ اس قدیم انگریز بابا میں کتنے چہرے بسے ہوئے ہیں ۔
میں اس مقام پر کسی بحث میں الجھنا نہیں چاہ رہا تھا۔
میں تیز قدموں سے آگے بڑھا۔۔۔

میں چاہتا تو ترکی بہ ترکی جواب دیتا۔ کہ بابا میرا تعلق پاکستان سے ہے ۔ ہمارے ضمیر کو جگانے کی بے جا کوشش نہ کرو۔ ہم اسی محرومی کے عادی ہیں۔ ہم نے تیرے جیسے بے شمار بابوں کو، مائوں کو بہنوں کو، یتیموں، بیوائوں کو بے گھر ہوتے دیکھا ہے،بے گناہوں کو جیل میں سڑتے اور بھوکوں کو پائوں رگڑ رگڑ کر مرتے دیکھا ہے اور ہم نے اسی لئے زبان بند رکھی کہ ” وہ ہم نہ تھے” ۔
ہمارے ضمیر پشتو، اردو تو چھوڑیں عربی یعنی کلام الہی تک سے نہیں جاگے تم انگریزی میں بھاشن دے کر ہمارا ضمیر جھنجھوڑنےکی کوشش کررہے ہو۔ جائو اپنا کام کرو بابا۔۔۔

“ٹھیک ہے شہر میں
قتل و غارت گری کی نئی لہر ہے
پر نئی بات کیا
یہ تو معمول ہے

ٹھیک ہے کہ کئی بے گناہ
آگ اور خون کے کھیل میں زندگی ہار کر
جینے والوں کے بھی حوصلے لے گئے
اور پسماندگاں دیکھتے رہ گئے
یہ بھی معمول ہے
شہر اب پھر سے مصروف و مشغول ہے

ٹھیک ہے کہ ستم کالی آندھی کی مانند چھایا رہا
کتنی صبحوں پہ ظلمت کا سایہ رہا
کتنے دن تک ہوا نوحہ خوانی کی خواہش میں گُھٹتی رہی
اور دھرتی کے سینے سے کتنے دنوں ہُوک اُٹھتی رہی
کتنے دن سے یہاں عافیت کا چمن خاک ہے، دھول ہے

ٹھیک ہے کہ پسِ پُشت رکھے ہوئے خون آلود ہاتھ
میرا رہبر ہی تھا جو محبت کا پرچار کرتا رہا
دل ہی دل میں کہیں مُسکراتا رہا
اور نقاب اپنے چہرے پر اوڑھے ہوئے
مرنے والوں کا ماتم بھی کرتا رہا
یہ نفاقِ طرحدارِ اہلِ ستم تو روایت میں صدیوں سے منقول ہے
اور معمول ہے

پر مجھے کیا پڑی
ہاں مجھے کیا پڑی
کہ میں سوچُوں یہاں کون ظالم ہے اور کون مظلوم ہے
کون قاتل ہے اور کون مقتول ہے

جس پہ گولی چلی وہ مِرا سر نہ تھا
آگ جس پر لگی وہ مِرا گھر نہ تھا
پھر مجھے کیا پڑی
ہاں مجھے کیا پڑی کہ میں سوچُوں جو بستی میں اُفتاد ہے کس کی ایجاد ہے
میرا دل اپنی دُنیا میں مشغول ہے
میری دُنیا میں سب حسبِ معمول ہے “

میں نے بہ نظر غلط انداز دیکھا تو لوگ سرک چکے تھے۔۔
بابا بھی میرے جیسے بے حس انسانوں کے ہجوم میں غائب ہوگیا تھا۔۔
لیکن جاتے جاتے وہ میرے لئے کئ سوالات چھوڑ کر چلا گیا۔۔

آج بھی اس کی بات پر غور کرتا ہوں تو چند لمحوں کے لئے تصور کی دنیا میں ڈوب سا جاتا ہوں۔۔

” تم خودکشی کرچکے ہو، تم سب مرچکے ہو۔۔”
کبھی خود سے مخاطب ہونے کا موقع ملے تو آپ بھی ذرا اپنا احتساب کیجئے۔۔۔
کیا ہم واقعی مرچکے ہیں۔۔۔۔۔؟

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}