چائے سے زیادہ کیتلی گرم ۔۔۔ صادق رضامصباحی


نریندر مودی جوماضی میں کبھی چائے بیچتے تھے ،اب ان کی ’’ چائے‘‘ ٹھنڈی ہوگئی ہے مگران کے بھکتوں کی ’’کیتلی ‘‘پوری طرح گرم ہوچکی ہے،حیرت اس پرنہیں کہ یہ سب کیوں ہورہاہے بلکہ حیرت اس پرہے کہ ان پرمسلمان کیوں حیرت زدہ ہیں


’’چائے سے زیادہ کیتلی گرم ‘‘۔یہ کہنے کوتوصرف ایک کہاوت ہے مگراٹل حقیقت ہے ۔اترپردیش میں بی جے پی کی فتح کے ساتھ ہی ایسے ہنگاموں کاآغازکردیاگیاہے جواس کہاوت پرپوری طرح صادق آتے ہیں۔پارٹی کے نچلے درجے کے اراکین فتح کے جوش میں ایسی ایسی حرکتیں کررہے ہیں جس کااندازہ اہل نظرنے پہلے سے ہی کرلیاتھا۔ہمارے ملک کے باوقاروزارت عظمی کے منصب پر فائز نریندر مودی جوماضی میں کبھی چائے بیچتے تھے ،اب ان کی ’’ چائے‘‘ ٹھنڈی ہوگئی ہے مگران کے بھکتوں کی ’’کیتلی ‘‘پوری طرح گرم ہوچکی ہے ۔مودی بھکت اوربی جےپی کے نچلے درجے کے اراکین کے لیے تخریبی واقعات پارٹی کی شان وشوکت کااظہارہیں مگروہ دراصل بی جےپی کےزوال کااعلامیہ ہیں ۔خبرآئی ہے کہ مغربی یوپی کے مردم خیزاورتاریخی شہربریلی کے ایک گائوں میں ہندئوں کی جانب سے ایک پوسٹرچسپاں کیاگیاجس میں لکھاہے:’’سبھی مسلمانو ں کو مطلع کیاجاتاہے کہ ۳۱دسمبر۲۰۱۷تک گائوں چھوڑکرچلیں جائیں،اگرآپ نے گائوں نہیں چھوڑاتوتم اس کے خودذمے دار ہو گے ۔ اگر آپ نے ایسانہیں کیاتوجیسے امریکہ میں ٹرمپ کررہاہے اس گائوں میں ویساہی ہوگاکیوںکہ اترپردیش میں بی جےپی کی حکومت آنے والی ہے ،جلدہی فیصلہ کرلو۔کیوں کہ تم اب گائوں میں رہنے کے لائق نہیں رہے۔‘‘ اس متن کےنیچے گھورکھپورکے ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ کانام لکھاہواہے۔پوسٹرکامتن بتارہاہے کہ اس کالکھنے والاکوئی پڑھالکھانہیں بلکہ عام آدمی ہے ۔
بہت سارے کم ہمت مسلمانوں پراس خبرسے خوف طاری ہوگیاہوگامگرجوباشعورہیں ،خوب جانتےہیں کہ ایساتوہوناہی تھا ۔ ابھی توصرف شروعات ہے ، پانچ سال تک بہت کچھ ہوناہے ۔خاص طور پر جن دیہاتوں میں ہندوزیادہ ہیں اورمسلمان کم ،وہاں مسلمانوں کوہراساں کیے جانے کاسلسلہ شروع ہوگا۔ایسانہیں کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت تخریبی کارروائی کرنے پرمجبورکرے گی بلکہ علاقے کے انا پرست ،نکمے ،ضدی اورجرائم پیشہ فرقہ پرست ایساماحول پیداکریں گے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب حکومت ان کی ہے ،ان کاکچھ بھی نہیں ہوگا،اوراس میں کچھ جزوی سچائی بھی ہےکیوںکہ حکومتوں کا رویہ جب نرم پڑجاتاہے توتخریب کاروں کوسراٹھانے کاموقع مل جاتاہے ۔بی جے پی الیکشن سے قبل فرقہ وارانہ ماحول پیداکرتی رہی اوراس کے بل پریوپی پرقابض بھی ہوگئی ۔عام ہندئوںکوکیامعلوم کہ سیاسی لیڈروں کا یہ محض سیاسی حربہ تھا،وہ تویہی سمجھتے رہےہیں کہ بی جے پی واقعی مسلمانوں کی دشمن ہے اورالیکشن جیتنے کے بعدمسلمانو ںکوتہ تیغ کردے گی اسی لیےبی جے پی ،وشوہندوپریشداورآرایس ایس کے ارکان آپے سے باہرہوگئے ہیں ۔وہ سمجھ رہے ہیں کہ اب انہیں کھل کرکھیلنے کاموقع مل گیاہے ۔
بریلی کے مذکورہ گائوں کے واقعے کے دوہی دن کے بعدبریلی سے دوسوکلومیٹردومشرق میں لکھیم پورضلع کے پلیاںکلاں قصبے میں ۱۱جانورمرے ہوئے پائے جانے کی وجہ سے کشیدگی ہوگئی اور آناً فاناً بازار بندکردیے گئے ۔اترپردیش کےبلندشہرکی مسجد پر بی جے پی والے پارٹی کا پرچم لہرانے کے لیے مسجدکے اندرگھس گئے ۔یہ صرف تین مثالیں ہیں ،اِکادُکااوربھی واقعات ہوئے ہو ں گے جورپورٹ نہیں کیے گئے ۔حیرت اس پرنہیں کہ یہ سب کیوں ہورہاہے بلکہ حیرت اس پرہے کہ ان پرمسلمان کیوںحیرت زدہ ہیں۔جس قوم کے پاس آخرت کاکوئی تصورہی نہ ہو،جس کے پاس کسی کے سامنے جواب دہی کا کوئی خیال ہی نہ ہووہ کیوں کرتخریبی کاموں سے بازآئے گی ؟ مسلمانوں کے یہا ںچوں کہ تصورآخرت ہے، مسلمانوں کومعلوم ہے کہ ان کے ایک ایک عمل کی ریکارڈنگ ہورہی ہے اور قیامت کے دن وہ ساری ریکارڈنگس سنائیں اوردکھائیں جائیں گی اس لیے آپ نے کبھی نہیں سناہوگاکہ مسلمانوںنے کبھی بھی اجتماعی طورپرکسی پرظلم وتشددکیاہو،اورکبھی اجتماعی طورپرکوئی ایساکام کیاہوجواسلام کے نزدیک سخت ترین ناپسندیدہ ہو،ممکن ہے کہ تاریخ میں ایک آدھ مثال تلاش کرنے سے مل جائے مگرعمومی طورپرمسلمانوںنے ایساکبھی نہیں کیا ،ہاں انفرادی طورپرمسلمان ضرورکچھ غلط کام کرتے رہے ہیں مگربرادران وطن سمیت دیگراقوام کامعاملہ ہی الگ ہے ،یہ انفرادی توکیااجتماعی طورپربھی ایسے ہولناک اقدام کرتے رہے ہیں جن کے تصورسے ہی انسان کانپ جاتاہے ۔اس سلسلے میں ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔
برادرانِ وطن کی ان حرکات کے پیچھے ایک محرک اوربھی ہے اوراس کاتعلق نفسیات سے ہے ۔انسانوں کی نفسیات کامطالعہ بتاتاہے کہ ہرقوم میں ایسے افرادضرورہوتے ہیں جواپنی اکثریت ،اپنے زعم اوراپنی قوم کے اقتداراوربرتری کےنشے میں چوررہتے ہیں اوراس نشے کی مخموری ان سے غلط اقدام کرواتی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ان کے جرائم کوسرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہوتی اوربعض اوقات جرم ثابت ہونے کے بعدانہیں معتوب بھی کیاجاتاہے مگراقتدارکانشہ ایسے لوگوں کویہ سب سوچنے ہی نہیں دیتا۔ان کے دماغ پربس ایک ہی بات سوارہوتی ہے کہ حکومت ہماری قوم کی ہے اس لیےہماراکچھ نہیں بگڑے گا۔ یہ دراصل احساس برتری ہے ۔اگرآج کے مسلمانوںکے لیے ایسے حالات پیداہوجاتے توشایدان کے اندربھی احساس برتری پیداہوجاتااگرچہ اس کی نوعیت مختلف ہوتی ۔یہ احساس برتری ہی تو تھا کہ سیکڑوں سال حکومت کرنے بعدوہ زوال پذیرہوگئے ۔یہاںایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ بردران وطن میں ’’وطن پرستی‘‘کے جراثیم کچھ زیادہ ہی ہیں اوراس کی بنیادی وجہ آرایس ایس کے نظریات ہیں جس نے برسوں سے ہمارے وطن کی فضاکومسموم کررکھاہے ۔عوام چوں کہ کالانعام ہیں،انہیں جدھرہنکایاجاتاہے ،یہ ادھرہی دوڑپڑتےہیں۔
اب حکومتوںکی ذمے داری ہے کہ وہ اس پرروک لگائیں اوراپنے ممبران اسمبلی کو حدودمیں رہنے کاپابندبنائیںکیوں کہ بہت سارے مقامات پرایسابھی ہوتاہے کہ مقامی لیڈران اپنےکارکنو ں کو خوش کرنے کے لیے ان کی تخریبی کاررائیوں پرچپی سادھ لیتے ہیںیاخاموش تائیدکردیتے ہیںجس کی وجہ سے فضازہرآلودہوجاتی ہے ۔بی جےپی کے پالیسی سازوں سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ ظلم و تشدد اور نفرت کی ٹہنی کبھی برگ وبارنہیں لاتی ۔بی جےپی کواگرلمباسفرطے کرناہے تواسے اپنے اراکین کی جانب سے کی جارہی تخریب کاریوں پرلگام کسنی ہوگی ،اوراگراس کی خواہش بس اتنی سی ہے کہ کچھ دن اقتدار کا رس چوس کراپنی کمین گاہ میں سمٹ جائے توپھرشوق سے ایسا کرے اورکرائے ،اب کون اس سے پوچھنے والاہے مگربی جےپی قیادت کویادرکھناچاہیے کہ وہ فرقہ پرستوں اورتخریب کاروں کے برے ارادوں کی خاموش تائید کرکے صرف مسلمانوں کاہی نقصان نہیں کررہی بلکہ ملک کابھی نقصان کررہی ہے ۔اس طرح کے واقعات سے مسلمان توپریشان ہوں گے ہی ،تشدد،نفرت اورزہریلی فضاسے برادران وطن بھی متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکیں گے ۔مسلمانوں کانقصان ہوگاتوان شاء اللہ جلدہی حالات سے ابھرآئیں گے کیوں کہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم پرنہ جانے کیا کیاظلم وستم روارکھے گئے، اس وقت ہم وقتی طور پر پسپا ضرورہوئے مگرجلدہی ہم اپنے معمولات کی طرف واپس آگئے مگرجولوگ ہم پرظلم وتشدکے درپے تھے ،آج انہیں کوئی پوچھنے والابھی نہیں ،وہ تاریخ کے قبرستان میں ایسے دفن ہوئے کہ ہڈیاں گل ،سڑگئیں ، نسلیں مٹ گئیں ،نام ونشان حرف غلط کی طرح مٹادیاگیامگرمسلمان نسلاًبعدنسلِِ ابھی تک باقی ہیں اوررہیں گے ۔
جن لوگوں کی طرف سے انتشارپھیلایاجارہاہے ،ایسے لوگ صرف بی جے پی کامقسوم نہیں ہیں ،ہرپارٹی ،ہربڑے شخص ،ہرادارے اورہرشخصیت کے ساتھ ایسے لوگوں کاہجوم اکٹھاہوجاتاہے اور چائے سے زیادہ کیتلی گرم والے مقولے کی صداقت پیش کرتاہے ۔یہ کہاوت بی جے پی کیا،ہرجگہ صادق آتی ہےاورہرشعبے میں اسی کاسکہ چلتاہے ۔ مجھے توبارہااس کاتجربہ ہے اورآپ کوبھی یقیناًہوگاکہ کسی بھی بڑے آدمی کے چیلے ،حاشیہ نشین ،مفت خورے ،اورمحبت کادم بھرنے والے بات ایسی کرتے ہیں جیسےکہ بڑے صاحب ان سے مشورہ لیے بغیرکوئی کام کرتے ہی نہ ہوں حالاں کہ ان مفت خوروں کی بڑے صاحب تک رسائی ہوتی ہی نہیں لیکن آپ اگربڑے صاحب سے ملاقات کے لیے جائیںگے توپہلے آپ کومفت خوروں سے سابقہ پڑے گا۔ ایسے ایک نہیں ہزاروں واقعات ہیں کہ بڑے صاحب کے چاہنے والے محبت کرنے والے ان ہی مفت خوروں کی وجہ سے ان سے بدظن ہوگئے اورمعاملات بہت حدتک بگڑگئے ۔بڑے مشائخ ہوں ، بڑے علماہوں،سیاسی لیڈران ہوں،بڑے تاجرہوں ،ہرجگہ یہی ہوتا ہے مگرجب قائددوراندیش ہو،اچھے برے کی سمجھ رکھتاہو،خوشامدپسندنہ ہوتوایسے مفت خوروں پرکڑی نظررکھتاہے مگرمعاف کیجیے کہ آج زیادہ ترقائدینِ سیاست یاملت خوشامدپسندواقع ہوئے ہیں اسی لیے مفت خورے اورمحبت کے علم برداردندناتے پھررہے ہیں ۔
بریلی،پلیااوربلندشہروغیرہ کے واقعات کوبھی اسی پس منظرمیں سمجھناچاہیے اوریہ بھی یادرکھناچاہیے کہ اس طرح کے حالات ہمیشہ رہےہیں اورہمیشہ رہیں گے ۔باشعورلوگ ان سے کبھی نہیںگھبراتے کیوںکہ وہ جانتے ہیں کہ ا س طرح کے لوگ اس کے سواکچھ اورکربھی تونہیں سکتے۔مسلمانوں کوان حالات سے گھبرانے کی ضرورت بالکل بھی نہیں۔’’ چائے سے زیادہ کیتلی گرم‘‘والامحاورہ اپنے ذہن میں رکھیںاور،جہاں بھی ایسے حالات پیش آجائیں وہاں مشتعل ہونے کے بجائےبردباری سے کام لیں اوریقین رکھیں کہ ایساکرنے والے آپ کی نہیں اپنی ہی مٹی پلیدکررہے ہیںاورآپ کی نہیں حکومت کی ہی چولہیں ہلارہے ہیں۔ہم امیدکرتے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم نریندرمودی صاحب اس طرح کے معاملات پرسنجیدگی سے توجہ دیں گے اورنفرت کی فضاکوتحلیل کرنے میں کامیاب ہوں گے

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}