مچھر شُد ہاتھی سُد ۔۔۔ مدثرگل

نسانوں اور حیوانوں میں بہت سی مماثلت پائی جاتی ہیں۔ یہ مماثلتیں مختلف جانوروں کے ساتھ مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر میڈیکل کے طالبعلموں کو مینڈک کے آپریشن سے سرجن بننے کا آغاز کروایا جاتا ہے۔ کیونکہ مینڈک کا اندرونی نظام انسان کے نظام سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔ اسی طرح مختلف جانوروں کے جز انسانی خدوخال سے کافی مشہابہ ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہوتی ہے کہ ہم مختلف اوقات پر کسی مسٔلے کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف جانوروں کے نام لے کر اس مسئلے کی اہمیت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اکثر ہم نے یہ سنا ہو گا کہ فلاں محکمہ کے اندر بہت سی کالی بھیڑیں ہیں جن کو پکڑ کر نکال باہر کیا جائے گا۔ اب خدا جانے کے کسی کالی بھیڑ نے ایسا کیا کر دیا ہو گا کہ جس کی وجہ سے بھیڑوں میں کالا رنگ ہی بدنام ہو گیا۔ خنزیر, بندر, گدھا, وغیرہ۔ اب انکی تفصیل میں کیا جاؤں۔

اب پاکستان کی قوم جو کہ بہت زیادہ سوچنے والی قوم ثابت ہوئی ہے(وہ اس لیے کہ یہ قوم سوچتی تو بہت کچھ ہے مگر کرتی بہت ہی کم ہے)۔ آجکل یہ ایک مسٔلے پر بہت سوچ رہی ہے۔ کہ ہمارے ملک کے اقتدار کے اعلیٰ برجوں پر جو لوگ براجمان ہیں وہ ٹھیک ہوں تو سب کچھ پلک جھپکنے میں ٹھیک ہو جائے گا۔ خصوصاً اگر پاکستان کا وزیراعظم ولی صفت حامل ہو تو….
اسی حوالے سے ایک مماثلت پیش خدمت ہے.

جانوروں میں سے سب سے بڑا جانور کراۂ ارض پر اسوقت ہاتھی ہے۔ وہ ایک دن میں ٹنوں کے حساب سے خوراک کھاتا ہے۔ کبھی آپ نے سنا ہے کہ ہاتھی کی اس خوش خوراکی وجہ سے جنگل کے دوسرے جانوروں کا چین برباد ہوا ہو!! اب ایک مچھر کو لیں۔ مچھر اور ہاتھی کی جسامت سے موازنہ کوئی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ ہم کروڑوں مچھر بھی ایک ساتھ اکٹھے کر لیں تو ایک ہاتھی جتنی جسامت بنانی مشکل ہو جائے گی۔
اگر میں کراۂ ارض پر کسی سے بھی پوچھوں کہ اس کو مچھر نے کتنی دفعہ کاٹا ہے۔ تو کوئی گن کے نہیں بتا سکے گا کہ کتنی مرتبہ وہ مچھر سے ڈس چکے ہیں!!

ہاتھی اور مچھر کے عمل اور ہمارے ردعمل میں بہت تضاد پایا جاتا ہے۔ ہم جس سے بلاواسطہ متاثر ہو رہے ہیں(مچھر)۔ اس کا نام لینے کی بجائے۔۔۔۔اس کے خلاف آواز اٹھانے۔۔۔۔۔۔یا کوئی اور چارہ جوئی کرنے کی بجائے اس(ہاتھی) پر چڑھ دوڑنے کے لیے تیار کھڑے ہوتے ہیں۔ جو شاید بلواسطہ اس میں شامل ہو۔

ہم پاکستانی ہاتھی تو بدلنا چاہتے ہیں۔ مگر ان کروڑوں روزانہ کی بنیاد پر ڈسنے والے مچھروں کو اِذا تک نہیں پہنچانا چاہتے۔ ہم وزیر اعظم تو بدلنا چاہتے ہیں۔ مگر ان گنت الجھنوں میں پھنسا یہ دوہرے میعار والا نظام نہیں بدلنا چاہتے۔ ہم یہ دوغلا نظام جو کروڑوں مچھروں پر محیط ہے بدلیں بھی تو کیسے!!!
ان میں ہی تو بہت سے ‘اپنے’ بیٹھے ہوئے ہیں۔ جو کام پڑنے پر کچھ لے دے کر کام کروا دیتے ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}