یوپی کی جیت کے بعد اب 2024تک پوراملک مودی مودی — صادق رضامصباحی،ممبئی

یوپی الیکشن کے نتائج سے آپ کوشایدحیرت ہو مگرمجھے ایک رتی بھی حیرت نہیںکیو ںکہ آج ہم آپ الیکٹرونک عہدمیں نہیں مودی جی کے عہدمیں جی رہے ہیں اورمودی کے عہدمیں کبھی بھی ،کہیں بھی کچھ بھی ہوسکتاہے ۔میں مسلسل ۶ماہ سے اپنے دوستوں سے کہتاآرہاہوں کہ یوپی میں بی جے پی ہی آنے والی ہے اور۲۰۲۴تک مودی کومرکزسے کوئی نہیں ہٹاسکتا۔چنددن قبل تک یہ توقعات ۸۰فی صدتھیں مگر ممبئی میونسپل کارپوریشن کے الیکشن کے نتائج نے میری توقعات پرمہرلگادی اوراب یوپی کے نتائج نے خیال کی اس تصویرکوبھی صاف کردیاکہ اگلاپارلیمانی الیکشن بھی بی جے پی کی فتح لے کرآئے گا۔ اس بار یوپی میںبی جےپی نے اپنی جیت کے سابقہ سارے ریکارڈتوڑڈالے ۔ اس سے اندازہ ہوگیاکہ برادران وطن کوجتنی محبت بی جے پی سے ہے اتنی ملک سے نہیں ہے اوردنیاکویہ بھی معلوم ہوگیاکہ مسلمانوں کا سیاسی شعور بانجھ ہوچکاہے اور عملاً اب وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گئے ہیں ۔ الیکشن نے ثابت کردیاکہ ملک میں جوکچھ ہیں بس مودی ہی ہیں ۔ان کے آگے کسی لیڈر،کسی بھی محکمے یاوزارت اورکسی بھی بڑے سے بڑے افسرکومجال دم زدن نہیں۔الیکشن کمیشن جیساادارہ بھی مسٹر مودی کے سامنے بے بس نظرآتاہے ،قوانین وہدایات جاری توکرتاہے مگراسے عمل نہیں کراپاتااورکرابھی کیسے سکتاہے جب ملک کے وزیر اعظم نریندرمودی جیسے ’’بہترین ‘‘ آمرہوں۔بی جے پی کے سارے امیدوار بشمول وزیراعظم پورے اترپردیش میں تقریریں کرکے نفرتیں کاشت کرتے رہے،الیکشن کمیشن کی ہدایات کی دھجیاں اڑاتے رہےمگرالیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنارہااورنفرتوں کے اس ڈھیرپرکھڑے ہوکرمودی جی جیت گئے ۔
آپ یقین کرلیجیے کہ بی جے پی جیت توگئی ہے لیکن یہ جیت دراصل اس کی موت کاپیش خیمہ ہے کیو ںکہ یہی اسے اب زوال کی طرف لے جائے گی اوروہ دن بہت جلدآرہاہے کہ وہ دوبارہ کبھی اٹھ نہ سکے گی ۔یہاں سوال یہ ہے کہ مرکزمیں بھی بی جےپی قابض ہے ،اترپردیش اور اتراکھنڈمیں بھی اس کاقبضہ ہوچکاہے تو پھر اس کے زوا ل کے کیامعنی ؟
اس کاقبضہ ،اس کی آمریت اوراس کی فرعونیت ہی دراصل اس کازوال ہے ۔اب بی جے پی اورآرایس ایس کے ارکان ملک میں ننگاناچ کرکے ایساماحول گرم کریں جس کی آنچ سے برادرانِ وطن بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے ۔برادران وطن خوش ہیں کہ ملک میں بی جےپی مضبوط ہورہی ہے اس سے ہندومذہب کی ترقی ہوگی لیکن انہیں معلوم ہوناچاہیے کہ اب ان کی تباہی کے دن شروع ہوچکے ہیں کیوں کہ اب بی جے پی ، آرایس ایس اوروی ایچ پی کے فرقہ پرستوںکویہ موقع مل چکاہے کہ وہ ملک میں جوچاہیں کرتے پھریں،انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والانہیں۔وہ ملک کےمفادات کے خلاف بھی کریں گے توبھی انہیں دیش بھکت کہاجائے گا۔ جیت کانشہ بی جےپی کوکہیں کانہ چھوڑے گا۔نریندرمودی جی اب مزیدفرعون بن بیٹھیں گے ،عوام کاخون پئیں گے اورغریب شہریوں کی دولت چندمٹھی بھرلوگوں کے خزانے بھرے گی اوراپنی دوسری میعادمکمل کرکے جب ۲۰۲۴میں مودی جی رخصت ہوں گے تب پوراملک چیخ اٹھے گاکہ ہائے !بی جے پی اتنا بڑا نقصان کرگئی ،مودی جی ملک میں نفرت اورتباہی کااتنے بیج بوگئے کہ ملک تقسیم کے درپے ہوگیا۔ملک کی دوبارہ تقسیم کی کی پیش گوئی توخیرجلدبازی ہوگی لیکن اطمینان رکھیے ،اگرہم آپ زندہ رہے تویہ دن بھی دیکھ لیں گے ۔۲۰۲۴کے بعدملک کواحساس ہوگاکہ اسے دس سالوں تک کتنے بڑے دھوکے میں رکھا گیا تھا ۔۲۰۲۴تک مودی جی کااقتدارسے چپکے رہناکوئی اتفاقی نہیںہوگابلکہ اس کی منصوبہ بندی پہلے سے ہی ہوچکی ہے ۔ایک مثال پیش کررہاہوں ،مثال بظاہربہت معمولی ہے لیکن اس سے بی جے پی اورنریندرمودی کے عزم کابخوبی اظہارہوتاہے۔وزارت عظمیٰ کے منصب کاحلف لینے کے کچھ ہی دنوںبعدمودی جی دہلی کے کسی اسکول میں وزٹ کرنے گئے توایک طالب علم نے ان سے سوال کیاکہ سر!وزیراعظم بننے کاطریقہ کیا ہےاورہم کیسے اس عہدے تک پہنچ سکتے ہیں؟وزیراعظم نریندرمودی نے جواب دیاکہ اب آپ ۲۰۲۴کےبعدہی وزیراعظم بننے کے خواب دیکھیے ،اس سے پہلے نہیں ۔اس سوال وجواب کوآپ اتفاقیہ واقعہ مت کہیے ۔بچے نے خودسے یہ سوال نہیں کیابلکہ اس سے ایساسوال کرایاگیاتھا اورمودی جی نے یہ جواب دے کرپوری دنیاکوایک خاموش پیغام دے دیاتھا کہ اب دس سالوں تک کوئی ان کی چولہیں بھی نہیں ہلاسکتااوراس کے لیے بی جے پی کچھ بھی کرسکتی ہے اسی لیے میرایہ کہنابجاہے کہ یوپی کاانتخاب دراصل الیکشن تھا ہی نہیں ،ایک ڈرامہ تھا،فراڈتھا اورگیم تھا جو ۲۰۱۴کے پارلیمانی انتخابات سے شروع ہوااوراب ۲۰۲۴تک ختم ہوگایاشایداس سے بھی آگے ۔ مجھے حیرت اس بات پرنہیں کہ بی جے پی جگہ جگہ کامیاب ہورہی ہے ،حیرت اس بات پرہے کہ دیگرسیاسی پارٹیاں خاموش ہیں۔کیاایسانہیں ہوسکتاکہ بی جے پی کے فتوحات کے سلسلے کے پیچھے ای وی ایم مشینوں کابہت بڑا رول ہو۔۲۰۱۴کے پارلیمانی انتخابات میں یوپی کی ۸۰پارلیمانی حلقوں میں سے ۷۲پربی جے پی کاقبضہ ہے اوربقیہ۸سیٹیںسونیاگاندھی ،راہل گاندھی ،ملائم سنگھ نیزان کی بہوڈمپل یادو وغیرہ کے پا س ہیں ۔۸سیٹوں پربڑے بڑے نیشنل سطح کے لیڈروں کی جیت اتفاقی تونہیں ہوسکتی ۔ممبئی میونسپل کارپوریشن میں ۲۰۱۲میں بی جے پی کے پاس ۳۱؍امیدوارتھے جو۲۰۱۷میں ایک دم ۸۵ہوگئے ۔یہ کیسے ہوگئے؟ جب کہ ممبئی شیوسیناکاگڑھ ہے ،برسوں سے وہ یہاں کام کررہی ہے ،ممبئی میں بی جے پی کو لانےوالی شیو سینا ہی ہے۔یہ بھی اتفاق نہیں کہاجاسکتا،کچھ توہے جس کی پردہ داری ہے ۔ آپ کہیں گے کہ اگرایساہےتو پھرسیاسی پارٹیاں آوازکیو ںنہیںاٹھاتیں۔محترم!مرکزمیں نریندرمودی جیسے آمربیٹھے ہیں ۔ انہوںنے جب بی جے پی کے بڑے بڑے اوراہم ترین سیاسی لیڈروںکی نہیں سنی تووہ علاقائی پارٹیوں کی کیاسنیں گے ۔سیاسی پارٹیوں کی ’’قسمت ‘‘کی چابی مسٹرمودی کے ہاتھوں میں ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ’’قسمت‘‘ کایہ ڈبہ کیسے کھولناہے اورکب کھولناہے ۔سیاسی پارٹیاں تومحض عوام کے سامنے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لے مودی کے خلاف بیان بازی کرتی ہیں لیکن اندرکامعاملہ کچھ اورہی معلوم ہوتاہے ۔کچھ نہ کچھ توضرورہواہے جس نے پارٹیوں کو زبانیں بند رکھنے پرمجبور کر دیا ہے۔سیاسی پارٹیا ںیہ سوچتی ہیں کہ کچھ سالوں کے لیے کرسی نہ ملے ،نہ سہی مگران کے مفادات اورمستقبل کے تحفظ پرحرف نہیں آناچاہیے ۔کئی سیاسی پارٹیاں دبے لفظوں میں ای وی ایم کے خلاف آوازیں اٹھابھی چکی ہیں مگراب تک انہوںنے اس کوایشونہیں بنایا۔اس سے بظاہرتویہی وجہ سمجھی میں آتی ہے۔
بہرحال بی جے پی جیت چکی ہے ۔ اب ہم زیادہ شورشرابہ نہ کریں اورمطمئن ہوکربیٹھ جائیں کیوں کہ ہمیں اب۲۰۲۴تک مودی جی کے ہی زیرسایہ زندگی گزارنی ہے ۔یوپی کاالیکشن مودی کے لیے قسمت کی کنجی تھا۔یہ ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے ،مرکزکی باگ ڈور کس کے ہاتھوں میں ہونی ہے ،یہ یوپی کے عوام طے کرتے ہیں اس لیے اس الیکشن پرپوری دنیاکی نگاہیںجمی ہوئی تھیں ۔یہ الیکشن اس لیے بھی اہم تھا کہ ابھی چندماہ قبل مودی نے بڑے نوٹوں پرپابندی عائد کر دی تھی جس سے پورے ملک کے غریب لوگ متاثرہوئےتھے ۔سیکڑوں لوگ لائن میں کھڑے ہوکراپنی جان بھی گنوابیٹھے تھے اورآج بھی دیہاتوں میں لوگ ان اثرات سے باہرنہیں آسکے ہیں اس لیے پورا ملک کہہ رہاتھا کہ یوپی کاالیکشن بتادے گاکہ مودی کافیصلہ کتناغلط تھا لیکن فیصلہ چوںکہ مودی جی کے حق میں ہےاورانہیں بہترین اکثریت حاصل ہوئی ہے اس لیے یہ کہاجاسکتاہے کہ ہمارے برادران وطن کوبس مودی جی کی فکرہے ،انہیں اس کی کوئی فکرنہیں کہ ترقی ہوتی ہے یانہیں ،لوگ مرتے ہیں یاجیتے ۔بس انہیں تشویش مسلمانوں سے ہے ۔ا س نتیجے نے بتا دیا کہ ملک میں مسلمانوں سے نفرت عروج پرپہنچ چکی ہے ۔ہمارے برادرن وطن کویہ سچ کڑوالگے گامگرانہیں اسے ہضم کرناہی ہوگاکہ وہ اس وقت دنیاکی سب سے زیادہ بیوقوف قوم ہیں ۔انہیں دیش بھکتی کے نام پراورمسلمانوں کی ٹوپی ،داڑھی دکھاکرکبھی بھی استعمال کیاجاسکتاہے ۔جسے وہ دیش بھکتی کہتے ہیں وہ اصل میں مودی بھکتی ہیں بلکہ یہ مودی بھکتی بھی نہیں مسلم مخالف بھکتی ہے ۔مسلم مخالف بھکتی نے ان سے صحیح و غلط کی تمیزبھی سلب کرلی ہے ۔اس مسلم مخالف بھکتی نے برادران وطن کے دماغ مائوف کرکے رکھ دیے ہیںاورجب دماغ مائوف ہوجائیںتوپھرعقل کندہوجاتی ہے اورآنکھ بے بصارت ۔اسی لیے ہمارے ہندوبھائیو ں کو ملک کی ممکنہ تباہی بھی نظرنہیں آرہی ہے ،لیکن ان شاء اللہ بہت جلدوہ دیکھ لیں گے ۔ان حالات میں مسلمانوں کوگھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیںڈٹ کرحالات کا سامنا کر نا ہےاورانہیں سوچناہے کہ آخرمسلمان حاشیے پرکیوں پہنچائے جارہے ہیں۔
اخیرمیںمیںمودی جی کوڈھیرساری مبارک باددیناچاہوں گاکہ یہ صرف آپ ہی ہیں جن کے دم پربی جے پی مرکزمیں اقتدارتک پہنچی اوراب یوپی کے ذریعے بھی آپ نے بی جے پی کے تن مردہ میں جان پھونک دی ہے ۔بی جے پی آپ کایہ احسان کبھی نہیں بھولے گی مگرمحترم مودی جی!جیت اوراقتدارکے نشے میں چورمت ہوجائیےاورایک بات گرہ باندھ لیجیے کہ آپ صرف برادران وطن کے وزیراعظم نہیں ہیں ،مسلمانوں کے بھی ہیں ورنہ یادرکھیے کہ یوم الحساب بہت قریب ہے ۔ 

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}