یارم، حنیف رامے — فرخ سہیل گوئندی

جن لوگوں کو میں نے سکول کے زمانے میں آئیڈیلائز کیا، اُن میں سے کئی نامور لوگ چند سالوں بعد میرے دوست تھے۔ دوست کی تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ جو آپ کا رازداں بن جائے۔ تعلق اور دوستی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ خصوصاً سیاست دان سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں کے قریب ہوتے ہیں لیکن اُن کے رازداں چند لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے دوستی کی تعریف سیاست دانوں کے حوالے سے بہت گہری بھٹی سے گزر کر ہوتی ہے۔ 1974ء میں، مَیں سکول کا طالب علم تھا، جب قبرص میں خانہ جنگی عروج پر تھی۔ لبنان اور قبرص، پاکستان سمیت عالمی خبروں میں سرفہرست موضوعات میں شامل تھے۔ انہی دنوں خبر آئی کہ قبرص میں ترک حکومت نے وزیراعظم ترکی بلند ایجوت کے حکم پر ’’امن آپریشن‘‘ کرکے ترک قبرصی عوام کو جاری خانہ جنگی سے نجات دلوا دی۔ اسلامی تاریخ میں سولہویں صدی کے بعد یہ پہلی عسکری کامیابی ہے جو کسی مسلمان قوم کے حصے میں آئی۔ تب بلند ایجوت میرے ہیرو بن گئے۔ چند سالوں کے بعد وہ میرے دوست ٹھہرے۔ اور ایسے دوست بنے کہ 1993ء میں وہ میری ذاتی دعوت پر اپنی اہلیہ راشان ایجوت کے ہمراہ پاکستان تشریف لائے۔ پھر وہ نائب وزیراعظم اور ایک بار پھر وزیراعظم بن گئے۔ دوستی میں کمی کی بجائے یہ دوستی بڑھتی چلی گئی۔ وہ مجھے انقرہ میں وزیراعظم کے دفتر کی چوکھٹ پر ریسیو کرتے اور اسی چوکھٹ پر الوداع کرتے، تمام پروٹوکول توڑ کر۔ میں کسی وزیراعظم کا بیٹا، وزیر یا کسی جماعت کا لیڈر نہیں کہ تعلقات اور تعارف وراثت میں ملے۔ میں ایک خوش نصیب انسان ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بلند ایجوت نے پاکستان آنے کا وعدہ کردیا تو میں نہیں چاہتا تھا کہ کراچی ایئرپورٹ پر صرف میرے جیسا ادنیٰ شخص اُن کا استقبال کرے۔ اس کے لیے جناب حنیف رامے کو کہا تو وہ میرے ساتھ اُن کا استقبال کرنے کراچی ایئرپورٹ گئے۔

حنیف رامے میری سیاسی جدوجہد میں میرے دوست بنے۔ اس وقت وہ سابق وزیراعلیٰ اور سابق گورنر رہ چکے تھے اور ایک کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ وہ وزیراعلیٰ جس نے پنجاب میں ہزاروں لوگوں کو گھر بنانے کے لیے زمینیں الاٹ کیں۔ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دے دئیے۔ ایک مرتبہ وہ میرے ہمراہ اسلام آباد تھے، وہاں اُن کے بیٹے جناب ابراہیم رامے کا فون آیا۔ ’’بابا، مالک مکان سے گھر خالی کروا لیا ہے۔ اب آپ دوسرے کرائے کے مکان میں آئیں گے۔‘‘ وہ صحافت بھی کرتے رہے۔ انہوں نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب، صحافیوں کو گھروں کا مالک بنا دیا لیکن اپنی ملکیت میں مکان نہ بنا پائے۔
وہ میرے یار تھے، بلکہ ترکی میں ایسے گہرے یار کو یارم کہتے ہیں، یعنی یاری کی آخری انتہا۔ حنیف رامے، میرے یارم مجھے بہت یاد آتے ہیں۔ جب وہ وزیراعلیٰ تھے، میں سکول کا طالب علم تھا، انہیں آئیڈیلائز کیا اور چند سالوں بعد میں اُن کے حلقۂ احباب میں شامل تھا۔ کتنے بڑے لوگ ہوتے ہیں، جن کو حنیف رامے کہا جاتا ہے۔ ایسے ہی نہیں بنتا حنیف رامے۔ ایک کٹھن سفر ہوتا ہے ایسے لوگوں کا، تب جاکر بنتا ہے حنیف رامے۔
اوائل جوانی میں حنیف رامے نے فیصلہ کیا کہ قرآن کا مطالعہ کیا جائے، قرآن فہمی۔ اس کے لیے وہ غلام پرویز مرحوم کے پاس تشریف لے گئے اور کہا کہ مجھے آپ سے قرآن سمجھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں آپ کو قرآن سمجھانے بیٹھ گیا تو میں کچھ اور نہیں کرسکتا۔ جواب ملنے پر وہ مولانا مودودی مرحوم کے پاس چلے گئے۔ ادھر سے بھی ایسا ہی جواب ملا۔ پھر حنیف رامے اپنا شہر لاہور چھوڑ کر تین سال کے لیے کوئٹہ میں گوشہ نشین ہوگئے۔ عربی سیکھی، قرآن مجید کا انڈیکس بنایا اور تین سال اس کتابِ عظیم کو سمجھنے میں صرف کردئیے۔ کلامِ خدا کے راز پائے انہوں نے اس گوشہ نشینی کے دوران کہ کوئی خلل نہ ہو لوگوں سے ملاقات اور زندگی کے معاملات کے سبب۔
میرے یارم حنیف رامے، مصورانہ خطاطی کے بانی ہیں۔ صادقین سے بہت پہلے انہوں نے یہ صنف متعارف کروا دی تھی۔ اسم اللہ اور اسم محمدﷺ جو اُن کے برش اور رنگوں سے نقش ہوتے، وہ ہماری مصوری کی معراج ہے۔ اشاعت کاری اُن کا خاندانی پیشہ تھا۔ اپنے علم سے اس دانشور اشاعت کار نے علم وفکر اور سیاست میں انقلاب کی بنیاد رکھی۔ ’’البیان‘‘ کے نام سے انہوں نے ایسی کتابیں آج سے ساٹھ برس پہلے شائع کیں جو آج بھی بے مثال ہیں۔ عالمی ادب کے تراجم کروائے اور اس فکر کو عام کیا کہ انسانیت کی فکری، علمی اورادبی میراث مشترکہ ہے۔ روزنامہ نصرت جو بعد میں ہفت روزہ ہوگیا، اس جریدے کو پاکستان میں 1966-67ء کی انقلابی تحریک کی چنگاری کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ تب ذوالفقار علی بھٹو نے پی پی پی نہیں بنائی تھی۔ اُن دنوں ’’نصرت‘‘ نے مصر کے جمال عبدالناصر سے متاثر ہوکر اسلامی سوشلزم نمبر شائع کردیا جو ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کا عنوان ہوا۔ اسی ’’نصرت‘‘ نے سیاست میں مساوات کی اصطلاح بھی متعارف کروائی جو بعد میں پاکستان پیپلزپارٹی کا بنیادی فلسفہ بنا۔ ذوالفقار علی بھٹو، مسلم لیگ کے اندر اپنا دھڑا بنانا چاہتے تھے جبکہ حنیف رامے اور دیگر ترقی پسندوں نے انہیں ایک نئی جماعت بنانے کی ترغیب دی۔ جریدہ نصرت کا اسلامی سوشلزم نمبر اس نئی پارٹی کا درحقیقت فکری دروازہ ہے، جسے ذوالفقار علی بھٹو شہید نے انگریزی مین ترجمہ کروا کر پڑھا۔ اور یوں پاکستان میں پہلی عوامی اور ترقی پسند جماعت کی بنیاد پڑی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا کہ اپنا روزنامہ نکالا جائے۔ ڈاکٹر مبشر حسن اس منصوبے کے مالی انچارج بنے۔ اس وقت طے ہوا کہ نئے اخبار کے لیے دس لاکھ اکٹھے کیے جائیں تو اخبار شروع کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے صرف ایک لاکھ دے کر حنیف رامے مرحوم سے کہا کہ حنیف ایک لاکھ میں مساوات نکال کر دکھائو۔ بس پھر مساوات ایسا نکلا کہ بڑوں بڑوں کے دم گھٹ گئے اور عوامی آواز پہلی بار ایک عوامی اخبار روزنامہ مساوات کے ذریعے سامنے آئی۔
ہم دونوں میں کتنی دوستی تھی، اس کی ایک مثال یادگار ہے۔ 1993ء میں پارٹی نے اُن کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ التوا میں ڈالے رکھا۔ کئی فیصلے ہوئے۔ آخری فیصلہ یہ ہوا کہ وہ لاہور میں صوبائی سیٹ پر جناب اعتزاز احسن کے نیچے الیکشن میں حصہ لیں گے، مگر ٹکٹ جاری کرنے میں لیت ولعل سے کام لیا جاتا رہا۔ میں نے جناب حنیف رامے صاحب سے کہا کہ جب تک چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے دستخطوں سے جاری ٹکٹ آپ کے ہاتھ نہیں آجاتا، آپ نے انتخابی مہم کا آغاز نہیں کرنا۔ آپ کو زبانی کہہ دیا گیا ہے جو کافی نہیں۔ رات کے اڑھائی بجے تھے۔ اُن کے آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے اپنی بیگم جوائس رامے کو گھر کے اندر سے لان میں بلا کر کہا:
Look he is just like me, he is ready to jump in any difficult situation like me.
پھر مجھ سے مخاطب ہوکر کہا: We’ll live and die together.۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک دوست ہی کہہ سکتا ہے۔ 1993ء میں سارے لاہور ضلع میں پی پی پی ہار گئی۔ حنیف رامے جیت گیا۔ کارکنوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے اس دانشور لیڈر ساتھی کی ایسی انتخابی مہم چلائی کہ جس نے 1970ء کے انتخابات کی یاد دلا دی۔ اور مجھے یاد ہے جب سارے لاہور میں پی پی پی کی شکست، شکست، شکست کی اطلاعات آ رہی تھیں، جی ٹی روڈ پر حنیف رامے مرحوم کے انتخابی حلقے کی گلیوں میں یہ نعرہ لگ رہا تھا:اے کیہہ رولا پے گیا، رامے سیٹ لے گیا۔
اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے ایک معرکۃ الآراء کتاب لکھی، ’’اسلام کی روحانی قدریں، موت نہیں! زندگی‘‘۔ بس قدرت نے اُن کو اپنے ہاں بلانے سے پہلے اس کتاب کو اُن کے ہاتھوں تک پہنچانا تھا۔ اپنی تحریر کو کتاب کی شکل میں انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور چند روز بعد چل دئیے۔ یہ لوگ ہیں جو انقلاب برپا کرتے ہیں، اپنی زندگیوں میں بھی اور دوسروں کی زندگیوں میں بھی۔ موت سے چند روز پہلے اُن کے ہاں تقریباً پانچ گھنٹے ملاقات ہوئی۔ ملک، افغانستان، عراق، دنیا موضوعِ بحث تھے۔ بار بار اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پیش کی۔ میں نے عرض کی کہ ملازم کو بلا لیں۔ کہنے لگے، نہیں، عاشق اپنے محبوب کا کام اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں۔ وہ میرے عاشق تھے یا کہ میں اُن کا عاشق، مجھے اس کا علم نہیں۔ بس میں اتناجانتا ہوں کہ وہ میرے دوست تھے۔یارم، حنیف رامے۔

People Comments (1)

  • ساجد محمود چوہدری March 16, 2017 at 4:12 pm

    بہت عمدہ تحریر ہے آج کے دور میں ایسی مخلص دوستیاں قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہیں

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}