پاکستان میں علماء کی سیاست ناکام کیوں؟ — تحریر :محمد عباس شاد 

پاکستان کی تاریخ وسیاست علماء کے تذکرے کے بغیر ادھوری رہتی ہے. پاکستانی معاشرے میں علماء اپنا گہرا اثرورسوخ رکھتے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کے حامی اور وفادار کارکن موجود ہیں. پاکستان کا کوئی بھی سیاسی اتحاد اور تحریک علماء کی حمایت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی. لیکن اس سب کچھ کے باوجود بہت اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں مذہبی سیاست پسپا کیوں ہورہی ہے اور دینی جماعتوں کو اپنی پچ چھوڑنی پڑ رہی ہے اور وہ مسلسل پسپائی پر مجبور ہورہی ہیں. 
یہ وہ سنجیدہ سوال ہے جس پر نہ صرف قومی حلقوں کو سوچنا چاہیے بلکہ خود علماء اور ان کے فالورز کو بھی سوچنا چاہیے کہ آخر مسئلہ کہاں ہے اور وہ ناکامی سے دوچار کیوں ہیں. اس موقع پر انہیں لبرل اور اسلامی کی تفریق سے بھی ذرا بالاتر ہوکر سوچنا چاہیے اور کامیابی اور ناکامی کے روایتی معیارات سے بھی اوپر اٹھ جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی ناکامی اور پسپائی کا حقیقی ادراک کرسکیں. دوسروں پر الزامات دھرنے اور سازش کے الزامات سے زیادہ اس وقت انہیں اپنے کردار اور فکروعمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے. اسی لیے ہم انہیں روایتی کامیابی اور اپنے مدمقابل تخلیق کیے گئے عناصر سے بالاتر ہوکر سوچنے کی دعوت دے رہے ہیں. 
ہمارے خیال میں دینی سیاست کی حامل قیادت سے دانستہ یا نادانستہ ایسی فروگزاشت ہوئی ہیں جن کی موجودگی میں آ نے والے وقت میں بھی ان کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں. ہمارے خیال میں ان فروگزاشتوں میں سے چند درج ذیل ہیں. 
 عام انسانی مسائل کے بجائے عقیدہ اور مسلک کی سیاست نے مذہبی قوتوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لاکھڑا کیا. یہ قوتیں ایک متحدہ طاقت کی بجائے بکھرے ہوئے متصادم گروہوں میں ڈھل گئیں اور سیاسی قوتیں حسبِ ضرورت ان کو اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں اور یہ اپنے مخالف فرقے پر برتری کے خیال سے سرمایہ دار قوتوں کی اوٹ لینے پر مجبور ہوتی رہی ہیں. اس کے برخلاف اگر یہ مسلکی سیاست کی بجائے قومی اور انسانی ویژن سے سیاست کرتیں تو دین اسلام کے انسان دوست نظام فکر کے باعث پاکستان کے وسیع المشرب حلقوں میں پزیرائی حاصل کرکے معاشرے میں ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر سکتی تھیں. 
ان مذہبی جماعتوں کے زیر سایہ چلنے والے مدارس سے تعلیم یافتہ کھیپ نے انسانی خدمت اور عوامی مسائل میں دلچسپی کے بجائے بغیر کسی اجتماعی نظم کے ذاتی شناخت کے طور پر بے ربط مدارس کے قیام پر بہت زیادہ زور دیا اور یہ مدارس  کسی اجتماعی طاقت اور قوت کے بجائے اپنے انتہا پسند نظریات کی بدولت معاشرے میں ایک خطرے کی علامت کے طور پر پہچانے جانے لگے.  
جب کہ علماء کو چاہیے تھا کہ وہ الگ سے مدارس قائم کرنے کے بجائے قومی نظام تعلیم میں ہی دینی تعلیم کے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے جس سے نہ صرف ہماری نئی نسل دینی تعلیمات سے فیض یاب ہوتی بلکہ ہم معاشرے میں ملا و مسٹر کی تفریق سے بھی بچ جاتے اور ایک معتدل معاشرہ وجود پذیر ہوتا. ایک مخصوص شناخت کے مدارس کے بجائے علماء قومی تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اوررفاہی اداروں کے زیر سایہ دین اسلام کی ترویج اور فروغ کے لیے کام کررہے ہوتے تو وہ قوم اور ملک کے لیے زیادہ قابل قبول ہوتے. 
بدقسمتی سے ہمارے علماء اور ان پر مشتمل دینی جماعتیں پاکستان میں موجود بحرانوں میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل دینے میں ناکام رہیں اور وہ انگریز کی دریوزہ گر سیاست میں پارٹنر بن گئے اور عام روایتی جماعتوں کی طرح ووٹ اور الیکشن کی سیاست کے ذریعے وقتی مفادات کے اسیر ہوکر رہ گئے. جس کے باعث انہیں اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اقتدار کی مالک قوتوں سے کمپرومائزز کرنے پڑے. 
کاش ان بحرانوں کے بھنور نظام میں وہ کوئی تبدیلئ نظام کا نظریہ دے سکتے تو وہ بہت بڑی عوامی قوت کے مالک بن کر قوم کی قسمت بدل سکتے تھے. عوام کی مذہب سے وابستگی اور علماء سے عقیدت انہیں بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار کرسکتی تھی. لیکن بدقسمتی سے ہمارے علماء اس انقلابی نظریے اور جرأت سے محروم تھے جس کی اس قسم کے انقلابات میں ضرورت ہوتی ہے. 
اسلام اجتماعیت اور عوام کا دین ہے اس کی تعلیمات کے مطابق علماء کا عوام کے درمیان رہنا ہی ان کے مشن کی تکمیل تھی. بدقسمتی سے علماء نے سادگی چھوڑ کر خواص کا رہن سہن اپنالیا خصوصاً پڑوسی ملک افغانستان میں “جہاد” کے ثمرات سمیٹنے کے بعد پجیرو، باڈی گارڈز اور بڑے شہروں کے بڑے بڑے محلات میں ان کی بودوباش نے عوام سے ان کے تعلق کو انتہائی درجے تک کمزورکردیا اور وہ طبقہ اشرافیہ کی طرح عوام کے علی الرغم ایک کلاس بن کے رہ گئے. 
حالانکہ پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے طبقاتی سماج میں انہیں اپنی سطح سے نیچے اتر کر عوام کے درمیان آجانا چاہیے تھا تاکہ عوام کے ساتھ رہ کر وہ دین کی غریب نوازی کو ثابت کرتے اور ان کے دکھوں میں انہیں تنہا نہ چھوڑتے تو انہیں کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتی تھی. 

You may also like this

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}