خیبر پختونخواہ میں شادی بیاہ کا بل اور ہماری قانونی روایات — اظہر خان

خیبر پختونخوا حکومت کا جہیز پر پابندی کا بِل معاشرتی اصلاح کی ایک قابل ستائش کوشش ہے۔ لیکن اس قانون کو عمل میں لانا ،عمل نہ کرنے والوں کا تعین کرنا اور انہیں سزادینے کا طریقہ کار بنانا زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔جیسا کہ  ہم سب کے سامنے ہے کہ ماضی میں بہت سے  قوانین بنتے رہے ہیں  لیکن ان کے مؤثر عمل درآمد میں اکثر اوقات خود قانون بنانے والے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر احتساب کمیشن(جس کے اختیارات صرف ملزموں کو پکڑنے کی حد تک محدود تھے) نے جب احتساب کا عمل وزیروں اور بیوروکریسی سے شروع کیا تو پرویز خٹک سمیت بڑے بڑے سرمایہ داروں  اور افسران کو جان کے لالے پڑ گئے۔ کمیشن کی رپورٹ دیکھی جائے تو سب سے پہلا کیس ضلع کرک سے سامنے آیا جسمیں نامزد ایم پی اے گل صاحب خان کے والد نور دراز خان، ساتھی تحصیلدار محمد غلام کے ساتھ کوہاٹ میں 25 کروڑ کی اراضی پر قبضے اور غیر قانونی بھرتیاں کروانے کے الزام میں پکڑے گئے۔ احتساب کمیشن نے ریفرنس ہائی کورٹ میں پیش کیا جسمیں موصوف با عزت بری ہوگئے۔ مذکورہ کیس کواگرنظر انداز کردیا جائے تو  بھی  عام لوگوں کی رائے میں موصوف اور ان کا بیٹا علاقے کے سب سے بڑے غنڈے اور جاگیردار تصور کیے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ صوبائی وزیر ضیاء آفریدی کا ہے جو غیر قانونی بھرتیاں کروانے اور 2 کروڑ کی کرپشن میں ملوث پائے گئے لیکن موصوف اب بھی آزاد پھر رہے ہیں۔ TMA نوشہرہ اسد گل طاقت کے غلط استعمال اور 3 کروڑ کی کرپشن کے الزام میں پکڑے گئے جو بعد میں با عزت بری ہوگئے۔موصوف  وزیر اعلٰی کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔
احتساب کمیشن کی یکم دسمبر 2016ءکی رپورٹ میں بڑے بڑے  سیاست دانوں اور افسر شاہی  کے اعلیٰ افسران کے نام شامل ہیں جس کا حل یہ نکالا گیا کہ قانون میں ترمیم کی گئی اور  کاروائی کرنے سے پہلے احتساب کمیشن  کو  سینٹ یا سپیکر قومی اسمبلی  اور  صوبائی وزیر اعلی کے تابع کردیا گیا جس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے DG احتساب کمیشن حامد خان نے استعفیٰ دے دیا۔ عجیب بات تو یہ تھی کہ جس بل کی مخالفت میں حامد خان نے استعفیٰ دیا،  اسی بل کی احتساب کمیشن کے باقی 5 کمیشنرز نے تائید کرتے ہوئے اسے قانون  اور عدل کے تقاضوں کےعین مطابق قرار دے دیا۔  موجودہ صورت حال  میں احتساب کمیشن کی حیثیت ایک بے جان عمارت سے زیادہ کچھ نہیں ہےاور صوبے میں  انصاف کا حصول تاحال ایک خواب ہی ہے۔
کم و بیش یہی حالت شادی بیاہ سے متعلق تازہ ترین قانون کی ہے۔ دیکھا جائے تو ایک غریب آدمی  کواس بل میں تجویز کردہ  اخراجات (75000 روپے)کے لیے بھی محلے کی کمیٹی کا سہارا لینا پڑتا ہے یاپھر مجبوری میں قرض لینا پڑتا ہے،  دیگر اخراجات اور فضول خرچی تو بڑی  دور کی بات ہے۔ دوسری طرف سرمایہ دار اور جاگیردار لوگوں کی شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی اور نمود و نمائش کے ریکارڈ قائم کیے جاتے ہیں۔ عوام کےخون پسینے کی کمائی لوٹ کھانے والی اشرافیہ اوراعلیٰ بیوروکریسی  کے پاس تو اتنی دولت جمع ہوتی جارہی ہے کہ وہ اسے گننے سے بھی قاصر ہے اور اس دولت کی نمائش کے لئے نت نئے طریقے ایجاد کئے جاتے ہیں۔ حال ہی میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک ممبر پارلیمنٹ  اور سابق وفاقی وزیر نے اپنی بیٹی کی شادی تھائی لینڈ کے ایک جزیرے میں دھوم دھام سے کی جس کی تصویریں بآسانی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی صوبہ سندھ ہے جس کے ایک علاقے تھر میں سینکڑوں بچے خوراک اور صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی سے مر چکےہیں۔ اسی صوبے میں حال ہی میں جب ایک درگاہ پر خودکش حملہ ہوا تو قریب ترین ہسپتال 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا اور لوگ زخمیوں کو ریڑھیوں پر ڈال کر لے جانے پر مجبور تھے۔
 اسی اشرافیہ کی دیکھا دیکھی اورماڈرن نظر آنے کی کوشش میں مڈل کلاس  بھی ان اللوں تللوں کو پورا کرنے کے لئے ہرجائز و ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنی کی کوشش کرتی ہے اور کچھ عرصے بعد یہ رسوم ورواج غریب عوام کو  بھی پورے کرنے پڑتے ہیں جس سے ان کی مشکلات میں پھنسی زندگی مزید اجیرن ہو جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ پورا معاشرہ ایک ہیجان اور بے چینی کی کیفیت کا شکارہوجاتا ہے اور سب لوگ زیادہ سے زیادہ دولت و وسائل اکٹھے کرنے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں چاہے اس کے لئے دوسروں کا نوالہ چھیننا ہی کیوں نہ پڑے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اس صورت حال کو’رفاہیت بالغہ’ سے تعبیر کیا ہے اور اسے انسانی معاشرے کے لئے انتہائی تباہ کن قرار دیا ہے۔ آپ نے بعثت نبوی ﷺ کے دور میں قیصر روم اور کسریٰ ایران کے قائم کردہ معاشروں میں نمود ونمائش اور  عیش وعشرت کا تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے جس کے نتیجے میں عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے گدھوں اور بیلوں کی سی زندگی  گزارنے پر مجبور  تھے اور معاشروں میں ہر طرح کی بداخلاقیوں کا غلبہ تھا. جس کے نتیجے میں نہ صرف انسانوں کی دنیا تباہ ہورہی تھی بلکہ آخرت کی متوقع ناکامی بھی ان کا مقدر بن رہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد قیصر و کسریٰ کی ان انسان دشمن تہذیبوں کا خاتمہ تھا تاکہ انسانیت کا تعلق اپنے اصل خالق سے جڑ سکے اور وہ  دنیا میں خوشحالی اور امن و سکون کی زندگی گزار سکے۔
اسی طرح یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر صرف دو لاکھ روپے کی سزا تجویز کی گئی ہے جو کہ اشرافیہ کے لئے رائی کے دانے سے زیادہ حیثيت نہیں رکھتی۔ قانون پر عملدرآمد کروانے والے اداروں (پولیس اور عدلیہ) کی پچھلے  ستر سال کی کارکردگی بھی ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح یہ ادارے طاقتوروں کا تحفظ اور کمزوروں کا استحصال کرنے میں اپنا کردار اداکرتے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں پنجاب میں شادی بیاہ کی تقریبات پر عائد شدہ پابندیوں کے باوجود  نمودونمائش اور فضول خرچی میں اضافہ ہی ہوا ہے جس کی ایک بڑی وجہ قانون بنانے والی قیادت کا اس قانون پر خود عمل درآمد نہ کرنا ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ محض قانون بنانے سے سماجی رویوں کو نہیں بدلا جاسکتا بلکہ معاشرے کی سیاسی ، علمی اور مذہبی قیادت کو آگے بڑھ کر خودقانون کی پاسداری کا نمونہ پیش کرنا پڑتا ہے۔ اسی سے عوام کے ذہنوں میں قانون پر عملدرآمد کی اہمیت پیدا ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ مجموعی سماجی رویے بدلنے لگتے ہیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی قانون معاشرے میں رائج دیگر قوانین سے بالواسطہ یا بلا واسطہ جڑا ہوتا ہے۔ آپ دنیا کا بہترین قانون بھی پاس کروالیں لیکن اگر معاشرے میں رائج باقی قوانین اس قانون سے مطابقت اور موافقت نہیں رکھتے تو ناکامی اس قانون کا لازمی مقدر ہوگا۔
اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایک ایک قانون کا الگ الگ جائزہ لینے اور پھٹے پرانے بوسیدہ قانونی نظام میں نئے  قوانین کے پیوند لگانے کی بجائے معاشرے میں رائج قوانین کا مجموعی طور پر جائزہ لیں کہ کیا وہ عوام کے مفاد اور ترقی کے لئے بنائے گئے ہیں یا پھر ایک مخصوص بالادست اقلیت کے مفادات کے تحفظ کے لئے اور ان قوانین میں موجود کمزوریوں اور تضادات کا مطالعہ بھی کریں ۔
 ایک مثبت  سماجی تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے بھی  جڑے رہیں۔ سیرتِ نبوی ﷺ، خلفائے راشدین اور اسلام کے دور عروج کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظاموں میں رائج عدل وانصاف کے اصولوں کا مطالعہ کریں اور ان کی روشنی میں دور حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے سماج کو ترقی کی طرف گامزن کرنے کے لئے اجتماعی جدوجہد کوآگے بڑھائیں۔
مختصراً یہ کہ مذکورہ بالا بل کا اطلاق ممکن ہو پائے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔  محض قانون بنا دینا ایک کاغذ کے ٹکڑے کے سوا اور کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ قانون کا بلا تفریق نفاذ ہی معاشرے میں  عدل وانصاف کے قیام کا ضامن ہے۔

اظہر خان نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ معاشرے کے اجتماعی مسائل کو  سمجھنا اور حل کرنا چاہتے ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}