نظام صحت کا حقیقی کردار ۔۔۔ ڈاکٹرممتازخان

جب بات مفت علاج کی ہوتی ہے تو اس کا تعاثر یہ لیا جاتاہے کہ حکومت ہر فرد کو مفت گولیاں دے۔ حکومت شہریوں کو گولی کرا تو سکتی ہے، لیکن کسی شہری کو مفت کی گولی دے نہی سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ نظام صحت کی اٹھان سرمایہ دارانہ سوچ، فلسفہ، حکمت عملی اور پھر ہسپتالوں کے ادارہ جاتی نظام کی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام صحت میں ہسپتال ایک فیکڑی کی حیثیت رکھتا ہے اور بھلا یہ کیسے ممکن ہے ہے کہ ایک فیکڑی مفت میں اپنی پراڈیکٹ کسٹمر میں بانٹتی پھرے۔ اگر وہ ایسا کر دے تو پھر اس کی بیلنس شیٹ کیسے بیلنس ہوگی۔ لیکن چونکہ اب ہم سرمایہ دارانہ معاشرے سے فوراً باہر نہیں جا سکتے اور نہ ہی اس کے قوانین کو توڑ کر نئے ادارے بنا سکتے ہیں، تو ہم وقتی ضرورت کے تحت اسی نظام کی استعداد کو کیسے بڑھا سکتے ہیں، اس موضوع کو زیر بحث لایئں گے۔
نظام صحت کی بہتری ایک جامع عمل ہے جس میں ریاست کے تمام ادارے مل کر کام کریں تو ہی بہتری ممکن ہے۔ پہلے تو اس بات کا جائزہ لیں صحت اتنی ضروری کیوں ہے؟معاشی حوالے سے ایک آدمی کو پڑھانے اور باشعور بنانے میں 20 سے 25 سال لگتے ہیں۔ اگر وہ 60 سال میں مر گیا تو اس نے معاشرے کو صرف 35 سال اپنی خدمات دیئں، جب کہ دوسرے ملک کا شہری جو 90 سال تک زندہ رہا، اس نے 65 سال قوم کو اپنی خدمات دیں۔ اس طرح دوسرا شہری اپنے معاشرے پہ بوجھ بننے کی بجائے اس کو زیادہ پروڈیکٹیو بنا کر مرا۔ صحت کو بہتر رکھنے کا دوسرا پہلو ایک انسانی روح کو دنیا میں خوش و خرم رکھنا ہے، جوکہ اللہ تعالی کیطرف سے ہمارے اوپر ایک ذمہ داری ہے۔
صحت مند معاشرے کی تشکیل صرف میڈیکل ڈاکڑوں کی ذمہ داری نہیں، (جو کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے اکژ ہڑتال پہ ہی ہوتے ہیں) بلکہ یہ کئی اداروں کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں طب، ماحولیاتی،معاشی، معاشرتی اور روحانی ادارے شامل ہیں۔
سب سے پہلے ان نفسیاتی بیماریوں کا تزکرہ جو معاشی بھوک کے خوف سے جنم لیتی ہیں۔ جب روٹی ایک اور امیدوار کئی ہوں تو بے اعتبار معاشرے میں کئی نفسیاتی امراض جنم لیتے ہیں جو کہ ترقی کرکے جسمانی امراض میں تبدیلی ہوجاتے ہیں اور ایک دن آتا ہے جب انسان اچانک مر جاتا ہے، تب رشتہ دار یہ کہ کر خود کو تسلی دیتے ہیں دیتے ہیں؛ ابھی رات کو تو اچھا بھلاتھا، بس اللہ کی رضا۔ نفسیاتی امراض انسان کی عمر اور زندگی کا دورانیہ مقررکرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں ان امراض کو مرض سمجھا ہی نہیں جاتا۔ یہ عقائد جاہلیت ہی کی پیداوار ہیں جو کہ معاش اور تعلیم کی کمی سے جنم لیتے ہیں۔ ان امراض کو انفرادی نقطہ نظرسے سمجھنا خطرناک ہے۔
نظام صحت کو بہتر کرنے میں مذہبی و روحانی اداروں کا بہت بڑا کردار ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ روحانی امراض سے واقف ہوں، اکثر مفاد پرست علماﺀ سو روحانی اور جسمانی امراض میں تمیز نہیں رکھتے۔ جسمانی امراض کا علاض صرف طبئی ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ مذہبی اداروں کی بنیادی ذمہ داری درست نظریات کی ترویج ہے، جس سے معاشرے میں امن اور سکوں پھیلے۔ امن اور سکون ہی خوشی دیتا ہے اور یہ لمبی عمر کے راز ہیں۔ غیر پیداواری معاشرے میں مذہبی اداروں کو چلانے کی فنڈنگ باہر کے ذرائع سے ہو رہی ہوتی ہے، ایسے ماحول میں مذہبی ادارے انتشار اور بدامنی کی فضا پیدا کیے رکھتے ہیں۔ بد امنی غم کو جنم دیتی ہے اور غم زدہ جسم میں وائرس آسانی سے جسم کے مدافعتی نظام کو نشانہ بناتے ہیں۔فضائی اور ذہنی آلودگی دونوں انسانی عمر کا دورانیہ کم کرتے ہیں۔ ذہنی آلودگی کو کم کرنے میں درست مذہبی اداروں کا قیام اور ترقی بہت ضروری ہے۔
اگر ماحلیاتی عوامل انسانی مدافعتی نظام کو کمزور کر رہے ہوں تو آپ مفت کی گولیاں دینا شروع بھی کر دیں تو قوم صحت مند نہیں رہے گی۔ گولیاں بنانے والی فیکڑیاں تو یہ ہی چاہتی ہیں کہ آلودگی پھیلتی رہے، تاکہ ان کی سیل بڑھے۔ لیکن پالیسی اور قانون پہ عمل کروانے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ہر ایک کو اپنی حد میں رکھیں۔
کام جہاں معاشرے کو ترقی یافتہ بناتا ہے، وہیں انسان کے ذہن کو مصروف کر کے مثبت توانائی اور درست کیمکلز کا اخراج ممکن بناتا ہے، جوکہ لمبی عمر کا ضامن بنتے ہیں۔ ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ ہم اپنے افرادی قوت کو بوجھ بناتے ہیں یا ان سے مثبت انداز میں کام لے کر معاشرے کو ترقی دیتے ہیں۔ چیزیں غلط نہیں ہوتی ہیں، انسان ان کو کیسے استعمال میں لاتا ہے، یہ غلط اور صحیح نتائج پیدا کرتا ہے۔ روس کی آبادی 13 کروڑ کے لگ بھگ ہے، جوکہ ایک تعلیم یافتہ اور مہذب قوم ہے، یہ آبادی کا پراڈیکٹو استعمال ہی تو ہے وہ وقت کی سپر پاور کو تباہ کرنے جا رہےہیں، جبکہ ہم تعداد میں زیادہ ہو کہ بھی کوئی نتائج پیدا نہیں کر پا رہے۔
حاصل گفتگو یہ ہے کہ صحت کو ایک جامع منصوبہ سمجھ کر بہتر بنانے کے لیے تمام ادارے اور ان کے ذمہ داران مل کر کام کریں تو ہی قوم کی اوسط عمر ترقی یافتہ ممالک کے قریب لائی جا سکتی ہے۔ ورنہ ایک بھوکے اور غیر مہذب شہری کو مفت علاج مل بھی جائے، تو وہ بیم

You may also like this

09 January 2017

خواتین کے چہرے پر بال ،خطرے کی علامت :ڈاکٹر ثمرین فرید

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">: عورت کا رنگ روپ چہرے کی شاداب

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}