محبت اور غصے کی افادیت ۔۔۔ قاسم علی شاہ

ہر بندے کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے جس پر اس کو غصہ آ جاتا ہے مثال کے طور پر کسی بندے کو تو کر کے بلایا جائے تو اس کو ایک دم سے غصہ آ جاتا ہے۔ اس کو سائیکالوجی کی زبان میں ہم اینکرینگ کہتے ہیں۔ بحری جہاز نے جہاں پر لنگر انداز ہونا ہوتا ہے وہاں پر وزنی سا ایک کنڈا لگا ہوتا ہے اس کو پانی میں پھینک دیا جاتا ہے اس پروسیس کو شپ کی اینکرینگ کہتے ہیں۔ یعنی وہ سچویشن جیسے ہی بندہ اس میں آئے وہ اس میں پھنس جاتا ہے یعنی اس کی زندگی وہاں رک جاتی ہے اس سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارا اینکر کیا ہے؟ یعنی وہ کون سی ایسی بات ہے یا کون سی ایسی سچویشن ہے جس میں جا کر ہمیں غصہ آ جاتا ہے اور ہماری تمام سرگرمیاں رک جاتی ہیں۔ یہ کسی انسان کے لئے ایک بھی ہو سکتے ہیں اور زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ہر بندے کا اینکر مختلف ہوتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میرے لئے اینکر نہیں ہے تو جو شخص ایسا کہے وہ اپنی زندگی کا خود ذمہ دار ہے۔ اس نے اللہ تعالی کے آگے خود جا کر جواب دینا ہے۔ میں کسی کی زندگی پر قابض نہیں ہو سکتا۔اینکر وہ تمام چیزیں ہیں جو ایک دم کیٹالسٹ والا کام کر کے آپ کو برسٹ کر دیتی ہیں۔
دوسری چیز یہ دیکھنا ہے کہ آپ کے غصے کی انتہائی حد کیا ہوتی ہے؟ یہ مختلف سچویشنز اور مختلف جگہوں پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر آپ اسکول ٹیچر یا ہیڈ ماسٹر ہیں اور آپ اسکول میں ہیں تو آپ کے غصے کی انتہائی حد مختلف ہو گی، اور اگر آپ گھر میں ہیں تو وہاں پر آ پ کے غصے کی انتہائی حد مختلف ہو گی۔ یہ جگہ اور موقع کی مناسب سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ خاندان یا رشتہ داری بھی ایک سچیوشن ہے اور موقع اور جگہ جہاں پر یہ انتہائی حد مختلف ہو سکتی ہے۔ فیلڈ میں کام کرنے والے لوگوں کی غصہ کی انتہائی حد مختلف ہوتی ہے۔’’کم ظرف انسان کا غصہ اسے کھا جاتا ہے جبکہ اعلی ظرف کا غصہ اسے بنا جاتا ہے‘‘۔
یاد رکھیے گا! دنیا میں دو ایسے ایموشنز یعنی جذبات ہیں جو بہت زیادہ کنسٹریکٹو یعنی تعمیری یا بہت زیادہ ڈسٹریکٹو تباہ کن ہیں۔ ان میں ایک جذبہ اینگر یعنی غصے کا ہے اور دوسرا جذبہ لوّ یا محبت کا ہے۔ ایک کتاب ہے اس کا نام ہے’’تھنک اینڈ گرو رچ‘‘۔ آج کا پورا لیکچر اس کتاب کے دائرہ کار کے اندر ہی ہے۔ انسان کی زندگی میں ان دونوں ایموشنز کا بہت تعلق ہے۔ ان دونوں کو کیسے مکس کیا جاتا ہے اور استعمال میں لایا جاتا ہے۔ نپولین ہل یہ کہتا ہے کہ میں دو ہزار سال کے مختلف لوگوں کی آٹو بائیو گرافیز پڑھی ہیں۔ نبیوں اور پیغمبروں کے علاوہ پڑھی ہیں کیونکہ وہ لوگ مختلف ہوتے ہیں اور خدا ان کو خود منتخب کرتا ہے۔ ان نبیوں کا پیغمبروں کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبے میں کمال قسم کی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کی اس جدوجہد کے پیچھے ان کا محرک یا ان کا ایلیمنٹ آف لو تھا یا ایلیمنٹ آف اینگر تھا۔ انہوں نے اپنے اندر لگی ہوئی جستجو کی اس آگ کو پکڑ کر معتدل کیا اور اس کو ایک سمت میں استعمال کیا۔ اور وہ جستجو کی اس آگ کو مینج نہ کرتے اور اسے ایک سمت نہ دیتے تو اتنا کنسٹریکٹو کام نہیں ہو سکتا تھا۔ آرٹ ، کلچر، پینٹنگ، میوزک، رائیٹنگ، ادب ، لٹریچر، سائنس غرض یہ کہ دنیا کی جتنی کیس سٹڈیزہیں ،ان میں یہی دو عوامل محرکات کے طور پر شامل ہیں۔
ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ بارہ سال کی ایک لڑکی اپنے کسی دوست کے گھر کھیل رہی ہوتی ہے۔ اوپر سے دوست کی والدہ آ جاتی ہے، اس لڑکی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں اور سوز بھی پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی والدہ اس لڑکی کو بالوں سے پکڑ لیتی ہے اور گھسیٹ کر گھر سے باہر نکال دیتی ہے اور کہتی ہے کہ آج کے بعد ہمارے گھر میں نہ آنا اور کہتی ہے کہ تم غریب لوگ ہو اورہم امیر لوگ ہیں ہمارے گھر مت آیا کرو۔ یاد رکھیں کہ بندہ اگر حساس ہوتو چھوٹی چھوٹی آوازیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ وہ لڑکی اٹھتی ہے، اپنے کپڑے جھاڑ کر کہتی ہے کہ کوئی بات نہیں ہے، شاید تمہیں تاریخ میں کوئی نہیں جانے گا لیکن میرا نام تاریخ سے مٹے گا نہیں۔
وہاں سے جا کر وہ لڑکی پڑھائی کرتی ہے بارہ سال ایک لیب میں محنت کرتی ہے۔ اس کو پھیپھڑوں کا کینسر ہو جاتا ہے اور وہ مر جاتی ہے ، قبرستان میں ایک قبرکا اضافہ ہو جاتا ہے اور اس قبر پر اس کا نام لکھا جاتا ہے’’مادام کیوری‘‘،وہ مر گئی لیکن دنیا کو ریڈیو ایکٹوٹی ایجاد کر کے دے گئی۔ پنجابی میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے کہ ’’غصہ بہت سیانا ہوتا ہے‘‘۔
اگر مادام کیوری کے ساتھ یہ واقعہ نہ ہوتا۔ آپ نے اپنے پچیس تیس سال کے کیرئیر میں یہ دیکھا ہو گا کہ کسی بچے کو آپ نے طعنہ مارا اوروہ لائق ہو گیا۔ اس کا غصہ جو ہے وہ پیداواری ہو گیا اور اس نے اس کی بنیاد پر اپنا آپ بنا لیا۔اور کسی بچہ کو آپ نے طعنہ مارا تو وہ پچھلے کام سے بھی فارغ ہو گیا۔ تو یاد رکھیں! غصہ دنیا کا ایسا ایلیمنٹ ہے جو بہت اعلیٰ معمار بھی ہے اور بہت زیادہ ڈسٹریکٹو بھی ہے۔
آپ نے یہ دیکھا ہے کہ دنیا کے جتنے بڑے صوفی ہیں وہ عشق مجازی سے ضرور گزرے ہوئے ہوتے ہیں۔ علی بن عثمان الہجویر بہت بڑے استاد ہیں اور اپنی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ’’ میں دو سال مبتلا عشق رہا اور یہ جان گیا کہ یہ پیندا کھوٹا کرنے والی چیز ہے‘‘۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے اسی جذبہ کو اٹھا کر دوسری جگہ لگا دیا اور آج پورے ہند کو مسلمان بنانے والی شخصیت’’ علی بن عثمان الہجویر‘‘ ہیں۔
دنیا کے ایک اور بڑے فقیر خواجہ غلام فرید ان کی زندگی بھی عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف کا سفر طے کیا ہے۔جب بندہ اندر سے ٹوٹتا ہے تو وہیں سے وہ بنتا بھی ہے۔ دنیا کے تمام صوفیا، لٹریچر کے لوگ، ادب کے لوگ وہ غصے یا محبت کے غم میں سے نکلے ہوئے لوگ ہیں۔ اگر یہ عشق مجازی میں گرتے نہیں تو کبھی اتنی بڑی عمارت تعمیر کرنے کے قابل نہ ہوتے۔

نوٹ: اس مضمون میں سر قاسم علی شاہ صاحب نے ’’مادام کیوری ‘‘ کاذکر کیا ہے ،تو اس کی مناسبت سے اس کی مختصر زندگی کا تعارف پیش خدمت ہے۔ کہ اس نے وقتی طور پر غصے میں آکر دنیا کو کتنی بڑی ایجاد دی، اور محبت میں آکر اس نے آکر کیسے ایک بوڑھی عورت کے علاج کے لیے دنیا کی بہت بڑی آفر کو ٹھکرا دیا۔ ایڈمن ’’دارالشعور میگزین‘‘

مادام کیوری (مانیا سکلوڈو وسکا)
پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی‘ اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا‘ وہ ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کرتی تھی‘19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی بچی کو پڑھاتی تھی‘ بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا‘ وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی چنانچہ دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب لڑکے کی ماں کو پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا‘ اس نے مانیا کو کان سے پکڑا اور پورچ میں لا کھڑا کیا‘اس نے آواز دے کر سارے نوکر جمع کئے اور چلا کر کہا ۔’’دیکھو یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک فراک ہے‘ جس کے جوتوں کے تلوئوں میں سوراخ ہیں اور جسے 24 گھنٹے میں صرف ایک بار اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے اور وہ بھی ہمارے گھر سے، یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے‘ یہ میری بہو کہلانے کی خواہش پال رہی ہے‘‘ تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور خاتون دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی‘ مانیا کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اوپر تیزاب کی بالٹی الٹ دی ہو‘ وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی اور اس نے اسی پورچ میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا وہ زندگی میں اتنی عزت‘ اتنی شہرت کمائے گی کہ پورا پولینڈ اس کے نام سے پہچانا جائے گا۔
یہ 1891ء تھا‘ وہ پولینڈ سے پیرس آئی‘ اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فزکس پڑھنا شروع کردی‘ وہ دن میں 20 گھنٹے پڑھتی تھی‘ اس کے پاس پیسہ دھیلا تھا نہیں جو کچھ جمع پونجی تھی وہ اسی میں گزر بسر کرتی تھی‘ وہ روز صرف ایک شلنگ خرچ کرتی تھی‘ اس کے کمرے میں بجلی‘ گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی تک نہیں تھی‘ وہ برفیلے موسموں کی راتیں کپکپا کر گزارتی تھی‘ جب سردی برداشت سے باہر ہو جاتی تھی تو وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی تھی‘ آدھے بستر پر بچھاتی تھی اور آدھے اوپر اوڑھ کر لیٹ جاتی تھی‘ پھر بھی گزارہ نہ ہوتا تو وہ اپنی ساری کتابیں حتیٰ کہ اپنی کرسی تک اپنے اوپر گرا لیتی تھی‘ پورے پانچ برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا‘ نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی تھی لیکن جب ہوش آتا تھا تو وہ اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتی تھی‘ وہ ایک روز کلاس میں بے ہوش ہوگئی‘ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا‘ آپ کو دواء کی بجائے دودھ کے ایک گلاس کی ضرورت ہے‘ اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے ایک سائنس دان سے شادی کر لی تھی‘ وہ سائنس دان بھی اسی کی طرح مفلوک الحال تھا‘ شادی کے وقت دونوں کا کل اثاثہ دو سائیکل تھے‘ وہ غربت کے اسی عالم کے دوران پی ایچ ڈی تک پہنچ گئی‘ مانیا نے پی ایچ ڈی کیلئے بڑا دلچسپ موضوع چنا تھا‘ اس نے فیصلہ کیا وہ دنیا کو بتائے گی یورینیم سے روشنی کیوں نکلتی ہے‘ یہ ایک مشکل بلکہ ناممکن کام تھا لیکن وہ اس پر جیت گئی، تجربات کے دوران اس نے ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو یورینیم کے مقابلے میں 20 لاکھ گنا روشنی پیدا کرتا ہے اور اس کی شعاعیں لکڑی‘ پتھر‘ تانبے اور لوہے غرض دنیا کی ہر چیز سے گزر جاتی ہیں‘ اس نے اس کا نام ریڈیم رکھا،یہ سائنس میں ایک بہت بڑا دھماکہ تھا، لوگوں نے ریڈیم کا ثبوت مانگا،مانیا اور پائری نے ایک خستہ حال احاطہ لیا جس کی چھت سلامت تھی اور نہ ہی فرش اور وہ چار برس تک اس احاطے میں لوہا پگھلاتے رہے‘ انہوں نے تن و تنہا 8 ٹن لوہا پگھلایا اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کی‘ یہ چار سال ان لوگوں نے گرمیاں ہوں یا سردیاں اپنے اپنے جسموں پر جھیلیں‘ بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے مانیا کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیئے لیکن وہ کام میں جیتتی رہی‘ اس نے ہار نہ مانی یہاں تک کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی۔
یہ ریڈیم کینسر کے لاکھوں کروڑوں مریضوں کیلئے زندگی کا پیغام لے کر آئی‘ہم آج جسے شعائوں کا علاج کہتے ہیں یہ مانیا ہی کی ایجاد تھی،اگر وہ لڑکی چار سال تک لوہا نہ پگھلاتی تو آج کینسر کے تمام مریض مر جاتے،یہ لڑکی دنیا کی واحد سائنس دان تھی جسے زندگی میں دوبار نوبل پرائز ملا،جس کی زندگی پر 30 فلمیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور جس کی وجہ سے آج سائنس کے طالب علم پولینڈ کا نام آنے پر سر سے ٹوپی اتار دیتے ہیں۔
جب دنیا نے ’’مادام کیوری‘‘ کو اس ایجاد کے بدلے اربوں ڈالر کی پیش کش کی تو اس نے پتہ ہے کیا کہا؟ اس نے کہا‘ میں یہ دریافت صرف اس کمپنی کو دوں گی جو پولینڈ کی ایک بوڑھی عورت کا مفت علاج کرے گی‘ جی ہاں! وہ امیر پولش عورت جس نے کبھی کیوری کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا تھا ، وہ اس وقت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھی اور وہ اس وقت بستر مرگ پر پڑی تھی۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}