مثالی رواداری — تحریر: ایم بی انجم

مجھے اکثر اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ اہل ملائیشیا کو آداب معاشرت کون سکھا گیا ہے۔ یہ بھی پاکستان کی طرح ایک اسلامی ملک ہے۔ ہماری ہی طرح انگریز کی غلامی میں رہا اور ہم سے بھی دس برس بعد اسے آزادی نصیب ہوئی مگر زندگی گزارنے کے انداز اور معاشرتی اقدار کی پابندی کے لحاظ سے اس قوم میں اور ہم پاکستانیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس معاشرے کی سب سے زیادہ قابل ذکر اور قابل قدر خوبی بین المذاہب رواداری اور برداشت ہے۔

قریباً تین کروڑ آبادی کے اس ملک کی ساٹھ فیصد تعداد مقامی لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں ملے کہا جاتا ہے۔ یہ قریباً سو فیصد مسلمان ہیں۔ تیس فیصد آبادی چینی نژاد ملائیشنز کی ہے جو بدھ مت کے پیروکار یا عیسائی ہیں۔ باقی دس فیصد تارکین وطن میں اکثریت تامل ہندوئوں کی ہے۔ پورے ملک میں مسجدیں،مندر، گرجاگھر، چینی عبادت گاہیں اور گوردوارے خاصی بڑی تعداد میں ہیں، جہاں لوگوں کو اپنے اپنے مذہبی انداز میں عبادت کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ اس پس منظر میں یہاں کبھی مذہبی یا لسانی تفریق کی بنیاد پرکسی آواز کا نہ اٹھنا کم ازکم میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ مسلمان، عیسائی، ہندو،سکھ اور بدھ مت کے پیروکار اپنے اپنے تہوار دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ چینیوں اور ہندوئوںکے تہوار منانے کے طریقہ کار میں رات کا دھواں دھار قسم کی آتش بازی کرنا ایک نمایاں آئٹم ہے۔

چینی کم بخت تو اپنے نیوائیر کے تہوار پر پورایک مہینہ رات کو سونے ہی نہیں دیتے مگر مجال ہے جو کوئی ان کے اس عمل پر اعتراض یا احتجاج کرے۔ اس رواداری کی انتہا پر مبنی ایک مثال حاضر خدمت ہے۔ کوالالمپور کے وسط میں موجود’’مسجد انڈیا ایریا‘‘ میں واقع میرے آفس کے باالمقابل وسیع قطعہ اراضی پر ایک احاطہ میں تھانے کی دوکثیر المنزلہ عمارتیں ہیں۔ ایک میں دفاتر ہیں اوردوسری میں اس تھانے میںتعینات پولیس اہلکاروں کی قیام گاہیں ہیں۔ان عمارات کے ساتھ احاطے میں ایک خاصی بڑی مسجد ہے جس میں علاقے کے مسلمان نماز پنچ گانہ کی ادائیگی کے لئے جوق درجوق آتے ہیں۔ 9فروری کو ہندوئوں کا ایک تہوار تھا۔ علاقے کے باقی حصوں کی طرح ہندوئوں نے مسجد ہذا کی دیوار کی عین ساتھ شامیانے کی صورت میں ایک بہت بڑا سٹال لگا کراس میں اپنے بھگوانوں کی مورتیوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذہبی اشیا بھی سجائی ہوئی تھیں اور اس پر کسی مسلمان کو اپنی عبادت گاہ کی توہین محسوس ہوئی اور نہ اشتعال میں آکر کسی نے اس سٹال کو نقصان پہنچایا۔ میں سوچتا ہوں کہ پاکستان میں اگر کوئی ایسی حرکت ہوئی ہوتی تو اہل ایمان طوفان اٹھادیتے اور میڈیا اسے اتنا اچھالتا کہ ملک امن وامان کے مسئلے دو چار ہوجاتا ۔ یہاں کے سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر، پلازوں، مارکیٹوں اورہوٹلوں وغیرہ میں کام کرنے والے بھی مختلف مذاہب اورقومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملازمین کی ایک بڑی تعداد خواتین پر بھی مشتمل ہوتی ہے ۔ تاہم وہ جس طرح شیروشکر ہوکر اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں وہ قابل رشک ہے۔

ہر دفتر میں دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک غیر اعلانیہ طور پر کھانے کا وقفہ ہوتا ہے۔ اس دوران یہ ورکنگ کلاس جس طرح ہنستی کھیلتی اور خوش باش انداز میں ریستورانوں کا رخ کرتی ہے وہ اپنے ہی انداز کا ایک دل کش نظارہ ہے۔ سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھاپی رہے ہوتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ غیر مسلم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا حرام ہے اور خدانخواستہ یہ بھی نہیں کہ مسلمان حرام حلال کی تمیز نہ کرتے ہوں۔ یہاں کے ایف سی، میکڈونلڈ، برگر کنگ اور پیزاہٹ جیسی فاسٹ فوڈ چنیز اوردیگر90فیصد ریسٹورنٹس پرسب کچھ حلال ملتا ہے۔ تاہم غیر مسلموں کے لئے ایسے ریسٹورنٹ بھی ہیں جہاں حرام جانوروں کا گوشت کھانے اور شراب پینے پر کوئی پابندی نہیں۔ لباس کے معاملے میں بھی مثالی رواداری دیکھنے کو ملتی ہے۔ مقامی اور غیر ملکی مسلمان خواتین تو ستر پوشی کا مکمل اہتمام کرتی ہیں مگر چینی، یورپی اور امریکی خواتین زیادہ تر چھوٹی چھوٹی نیکروں اور سلیولیس شرٹس میں ملبوت ہوتی ہیں۔

ان کی ننگی ٹانگوں اور برہنہ بازوئوں سے یہاں کسی کی آنکھوں کاپردہ خراب ہوتا ہے نہ فحاشی فحاشی کا شور مچتا ہے۔ الغرض مذہبی رواداری کے لحاظ سے یہ ایک مثالی اسلامی مملکت ہے اور میری سمجھ کے مطابق وجہ اس امر کی یہ ہے کہ یہاں حکومت نے ملاازم کو پروان نہیں چڑھنے دیا۔ مولویوں کو ضابطہ اسلام کی حدود میں رکھا ہے، مسجدوں میں لائوڈ سپیکروں کا بے جا استعمال نہیں ہونے دیا اور مدرسوں کو انتہا پسندوں کی نرسریاں نہیں بننے دیا۔ کاش کہ ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہوا ہوتا اور آج وطن عزیز انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے نہ پہنچانا جاتا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}