دہشت گردی کے خلاف اقدامات — چوھدری وقاص افضل

کوئی ملک اپنی کرکٹ میں گیارہ کے گیارہ بلے بازیا سارے کے سارے بائولر کھلاکر میچ جیتنے کی کوشش کرے تو یقینا یہ مشکل ترین کام ہوگا۔ اسی طرح اگر ٹیم کے کھلاڑیوں کی زیادہ توجہ اس طرف ہوکہ جیت کی صورت میں کریڈٹ کس کو جائے گا تو بھی ایسی ٹیم کا تواتر سے کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے اس لیے اس کی مثال سے پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے پر بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے ہاں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ کسی ناخوشگوار واقعہ کے بعد ارباب اختیار، سرکاری اداروں کی توجہ اس طرف ہوتی ہے اور دہشت گردی کے حوالے سے کسی ایک نکتہ پر کام شروع ہوجاتا ہے۔ تمام تر توانائی صرف ایک محاذ پر لگادی جاتی ہے۔ پھر کسی مختلف طرز کے واقعہ کے بعد ساری توجہ کسی دوسرے پہلو پر مرکوز کردی جاتی ہے۔جبکہ جس قسم کی صورت حال کا ہمیں سامنا ہے ،یہ جنگ ہمیں مختلف محاذوں پر مسلسل لڑنی ہے۔ ریاست کے ہر ادارے کے ساتھ ساتھ ہر فرد جب تک اس جنگ کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھے گا تب تک حالات کلی طرح معمول پر نہیں آپائیں گے۔
دہشت گردی کے مسئلے کی جزئیات کو سمجھنے کی کوشش نہ جانے کیوں نہیں کی جاتی۔ریاست، اوائل میں برسوں وطن عزیز کے باسیوں کو یہ یقین دلانے میں ہی ناکام رہی ہے کہ یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ اس وقت شاید حالات ابھی اتنے سنگین نہ تھے لیکن اب تو یہ جنگ ہمارے گھروں کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ جو ہوا جیسے بھی ہوا، بہرحال ہمارے پاس اب صورت حال کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ مان لیتے ہیں ماضی میں ہم نے بڑی بڑی غلطیاں کیں جن کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، کس کو کیا کرنا چاہیے تھا اور کیا نہیں کرنا چاہیے تھا؟ یہ سب باتیں اب ماضی کا حصہ ہیں۔ اس بحث میں وقت ضائع کرتے رہیں گے تو مستقبل میں بہتری کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔ کوئی بھی صاحب علم ودانش آپ کو یہ بات وضاحت سے سمجھا دے گا کہ اس جنگ میں محض چند برس قبل ہی حکومت کو اکثریتی عوام کی حمایت حاصل ہوئی ہے ورنہ اس سے پہلے اس حوالے سے کھلے بندوں متضاد موقف پیش کیے جاتے تھے۔ بڑی بڑی قد آور علمی وسیاسی شخصیات بھی اس بارے میں پراگندگی کا شکار تھیں۔ تاریخ میں سیاسی شخصیات کے دو بیانات ہمیشہ کے لئے نقش ہوچکے ہیں۔ جب سیاسی محاذ آرائی اور وقتی مفادات کے لئے سیاسی عمائدین کو متنازع لوگوں کو تحفظ دیتے دیکھا گیا۔ خیر اس وقت بھی عوام و خواص کا ایک بڑا حصہ پس وپیش سے کام لے رہا ہے اور کسی درمیانی راستے کا متقاضی ہے۔جناب یہ بین بین والارویہ بہت خطرناک ہے ہمیں کلی طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگاکہ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے اور انفرادی واجتماعی کوششوں سے ہی یہ حل ہوسکتا ہے۔
قوم کی اس حوالے سے ذہن سازی کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے جس میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں نوجوانوں اور بچوں پربھی بھرپورتوجہ دینا ہوگی کہ وہ سکول، کالج، مدرسہ میںکیاپڑھ اورسیکھ رہے ہیں۔ دینی مدارس کے معلم ہوں یا عصری تعلیم کے اساتذہ، بچوں کی ذہن سازی کن نظریاتی بنیادوں پر کررہے ہیں اس بات کا بھرپور خیال رکھنا پڑے گا۔ عموماً والدین بچوں کے بدلتے ہوئے میلان سے لاعلم رہنے کی وجہ سے صورت حال کی سنگینی کا ادراک نہیں کرپاتے جس سے بچے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاہ کرنے والا اہم کام مختلف سکیورٹی اداروں کو دئیے جانے والے اختیارات میں بار بار ردوبدل سے اجتناب ہے۔ اکثر مختلف ریاستی ادارے جب خاطر خواہ کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تو ان کے پرکاٹ دئیے جاتے ہیں۔ کسی نئے حکم نامے کو نافذ العمل کرکے ان کے اختیارات میں کمی کردی جاتی ہے۔ یہ رویہ بھی انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ایسا کرنے کے بعد جن گروپس اورجماعتوں کو پسپا کیا گیا ہوتا ہے وہ پھر سے فعال ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کے مختلف اداروں کے اختیارات کا تعین کیا جائے اور انہیں کچھ صوابدیدی اختیارات دینے سے حالات میں بہتری آتی ہے تو یہ اختیارات ایک لمبے عرصے کے لئے دئیے جائیں۔ یہ تو کسی طور پر بھی مستحسن کام نہیں کہ حالات خراب ہونے پر آپ بلندوبانگ بیانات دے کر مختلف اقدامات شروع کردیں لیکن کچھ دن بعد ہی حالات معمول پر آنے کے ساتھ ہی سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں اور صاحب اقتدار کی عدم توجہ کے سبب باقی ادارے بھی سستی کا شکار ہوجائیں۔
سکیورٹی کے حوالے سے بات کی جائے تو کسی ناخوشگوار واقعہ کے بعد کیے جانے والے اقدامات میں بھی تسلسل عقا ہوتا ہے۔ جیسے پشاور سکول کے سانحہ کے بعد سکولوں کی سکیورٹی بہتر کرنے کے جو اقدامات کیے گئے تھے اب ان جائزہ لیں تو سب اپنی پہلی جگہ پرواپس آگئے ہیں۔کسی ہسپتال میں کوئی حادثہ ہوجائے تو سب ہسپتالوں کی سکیورٹی ہنگامی بنیادوں پر بہتر کی جاتی ہے لیکن کچھ دن نہیں جاتے سب کچھ پہلا سا ہوجاتا ہے ہر طرف غفلت اور کوتاہی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ راتوں رات ہر جگہ سکیورٹی کے انتظامات بہتر نہیں ہوسکتے لیکن یہ تو کرسکتے ہیں کہ جن اقدامات کا آغاز اور اعلان کرتے ہیں ان پر مستقل مزاجی کا مظاہرہ کریں۔ ہمارا دراصل مسئلہ ہی یہی ہے جب ایک طرف توجہ کرتے ہیںتو ساری توانائی ادھر ہی لگادیتے ہیں ہر طرف اسی ایک فعل کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ جب وہ پہلو عدم توجہ کا شکار ہوجائے تو اسے یکسرہی فراموش کردیتے ہیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پوری قوم کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ بیانیے کی ضرورت ہے۔دہشت گردی کے حوالے سے ایک ایسی طویل مدتی، انتظامی، نظریاتی، سیاسی حکمت عملی ناگزیر ہے جسے ریاست کے تمام اداروں اور عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہو۔ کیونکہ یہ ایک طویل جدوجہد ہے جو مسئلہ چند دن یا چند برسوں کے اقدامات سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ اس کے لیے ایسے مربوط لائحہ عمل کو مرتب کرکے نافذ العمل کرنا ضروری ہے جس میں حکومتوں یا مختلف ریاستی اداروں کے سربراہان کی تبدیلی بھی خلل نہ ڈال سکے۔
٭٭٭

You may also like this

25 February 2017

رِستا ناسور --- تحریر: صاحبزادہ محمدامانت رسول

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">گزشتہ ماہ (فروری2017ء )پاکستانی

admin
22 February 2017

سانحے اور المیے --- تحریر: بلال احمد خان

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">جزوی امن و امان کے کم و بیش دو س

admin
21 February 2017

دہشت گردی کی تازہ لہر, اور ریاست کی بے حسی --- تحریر : شاہد خان

<div dir="auto" style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">قیام پاکستان کو 70

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}