اصل دیوبند کا حقیقی بیانیہ — تحریر: محمد عباس شاد

آج کل پاکستان میں دہشت گردی کی جو لہر آئی ہوئی ہے، اُس نے پورے معاشرے کو عدمِ تحفظ کے احساس سے دوچار کر رکھا ہے۔ اور ہمارے حکمران اس بار بھی دہشت گردی کی کارروائی کے بعد دیے جانے والے روایتی بیانات ہی سے کام چلا رہے ہیں۔ ہمارے مقتدر حلقوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے حقیقی عوامل اور تاریخ سے ہمیشہ اعراض برتا ہے۔ اسی تناظر میں آج کل سوشل میڈیا پر ایک نئے رخ سے بحث جاری ہے۔ جس میں ایک حلقہ دیوبندیت سے موسوم مذہبی جماعتوں کو اپنا بیانیہ تبدیل کرنے کو کہہ رہا ہے۔ کیوںکہ اُن کے خیال میں پاکستان میں دہشت گردی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب اُن کا ’’جہادی‘‘ بیانیہ رہا ہے۔ 
جب کہ مدمقابل دیوبندی کہلانے والا طبقہ متضاد بیانات سے اپنا دفاع کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں تاریخ کے ایک طالب ِعلم کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ تاریخ کی ورق گردانی کرے اور اصل دیوبند کے حقیقی بیانیے کی کھوج لگائے۔ تاکہ پاکستان میں پیدا کی گئی فکری ژولیدگی سے بچا جاسکے۔ اور نظریۂ ضرورت کے تحت مختلف اوقات میں اپنے مفادات کے زیراثر متضاد بیانیوں کی حامل جماعتوں اور حلقوں کی پریشان خیالیوں کو سمجھا جاسکے۔ 
دارالعلوم دیوبند کی تاریخ سے آگاہ ہر فرد یہ حقیقت جانتا ہے کہ اس کے بانی حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ نے اس ادارے کو قائم کرتے ہوئے اصولِ ہشت گانہ کے ذریعے سرمایہ دار قوتوں، سامراجی اداروں اور حکومتی پالیسیوں سے آزاد رکھنے کی ایک مؤثر حکمت ِعملی تشکیل دی تھی۔ اس ادارے کے پیش رو بزرگوں نے اسے فرقہ نہیں بننے دیا۔ چناںچہ مولانا قاری محمدطیب قاسمیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’دیوبندیت کوئی مذہب یا فرقہ نہیں۔‘‘ وہ لکھتے ہیں: ’’علمائے دیوبند کا دینی رُخ یا مسلکی مزاج السُّنّہ اور الجماعہ کے مجموعے سے وجود پذیر ہوا ہے۔ اس لیے اُس کے اعتقادات و عبادات، اَخلاق و معاملات، سیاسیات و اجتماعیات اور سارے ہی احوال و کیفیات میں اسی توسط و اعتدال کی روح دوڑی ہوئی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’انگریزوں کے تسلط کے بعد حقوق طلبی کے لیے جب کانگریس قائم ہوئی تو سب سے پہلے حضرت قطب ِوقت مولانا رشیداحمد گنگوہی قدس سرہٗ سرپرست ِثانی دارالعلوم دیوبند نے اس میں شرکت کا فتویٰ دیا۔‘‘ وہ دیوبند کے فضلا کے اقدامات کو سراہتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’انھوں نے تمام اقلیتوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت کا بیڑا اُٹھایا۔‘‘ (علمائے دیوبند کا دینی رُخ اور مسلکی مزاج / مقدمہ تاریخ دارالعلوم دیوبند) 
مولانا سیّدمحمدمیاںؒ فرماتے ہیں: ’’شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن صاحب قدس سرہٗ العزیز کی ہدایت کے بہ موجب عدمِ تشدد اور ہندو مسلم اشتراک کے تعاون کے ذریعے حصولِ آزادیٔ وطن کی جدوجہد کی گئی۔‘‘ (جمعیت العلما کیا ہے؟) 
مولانا سیّد حسین احمد مدنی ؒفرماتے ہیں: ’’میں ہر اُس انقلابی جماعت میں شریک ہونے کے لیے تیار ہوں، جو برطانوی اقتدار اور شہنشاہیت کو ہندوستان سے ختم کرنے یا کم کرنے کی سچائی سے کوشش کرتی ہو اور اپنی پالیسی عدمِ تشدد رکھتی ہو۔‘‘ (ملفوظاتِ مدنی) 
اسی طرح مولانا عبیداللہ سندھیؒ اپنی جماعت کی پالیسی اور حکمت ِعملی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’جمعیت العلما عدمِ تشدد پر یقین رکھتی ہے۔ اسے اپنے ملک اور قوم میں، اپنی قوت اور عقل مندی پر بفضلہ تعالیٰ پورا اعتماد ہے۔ وہ جب اپنی عدمِ تشدد اور قوتِ حاکمہ کی مصلحت شناسی کا عمیق مطالعہ کرتی ہے تو اسے اپنے مقصد میں کامیابی کا جلوہ نظر آتا ہے۔‘‘ (خطبات و مقالات) 
الغرض! یہ جماعت اپنے سیاسی فکر کے بیانیے میں عدمِ تشدد کی حکمت ِعملی کی طرح قومیت، جمہوریت، معاشی عدل، امن، سماجی انصاف، انسان دوستی، سامراج دشمنی، مزاحمتی فکر اور سیاسی بصیرت میں واضح اور دو ٹوک رہی ہے۔ اسی وجہ سے دین اسلام کی جامع تعلیمات شریعت، طریقت اور سیاست پر عمل پیرا یہ جماعت اپنی وسیع المشربی کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانی جاتی تھی۔ پاکستان میں دیوبندیت سے منسوب حلقے اگر ان اکابر کی نظریاتی و فکری میراث کو حقیقی طور پر قبول کرتے تو وہ پاکستان میں سب سے بڑی قومی پارٹی کے محرک کے طور پر قوم کے سامنے آسکتے تھے۔ کیوںکہ اُن کی فکری میراث کی بنیاد خداپرستی اور انسان دوستی کے فکر پر تھی۔ لیکن وہ بدقسمتی سے بین الاقوامی سطح پر دو بڑی قوتوں کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں انھیں عوارض کا شکار ہوگئے، جن پر بند باندھنے کے لیے بانیٔ دارالعلوم نے اصولِ ہشت گانہ تخلیق کیے تھے۔ 
چناںچہ پاکستان میں مخصوص حلقوں کی مذہبی سیاست سامراجی اور سرمایہ پرست قوتوں کے زیراثر فرقہ واریت، غیرسیاسی شعور، غیرجمہوری انداز ِفکر، پُرتشدد تحریکات، انتہا اور شدت پسندی کے بیانیے کے ساتھ پروان چڑھتی رہی۔ ان کے ہاں معاشی عدل، سماجی انصاف اور انسان دوستی کے بجائے فرقہ وارانہ مسائل پر بحث و مباحثے، دل پسند اور مرغوب مشغلے ٹھہرے۔ اور بالآخر یہ سرگرمیاں موجودہ حالات میں ڈھل گئیں۔ اب اس تلخ حقیقت کو ان حلقوں کے لیے ماننا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ حال کو ماضی کا ثمر تسلیم کرلیں۔ موجودہ فضا جس نے ہمارے ماضی کی کوکھ سے جنم لیا ہے، اس کی ذمہ داری ہماری مقتدر قوتوں کو قبول کرلینی چاہیے۔ بیانیوں کی اس جنگ میں ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ تاریخ ہماری مذہبی قوتوں کے اُن فتوؤں اور دلائل کو محفوظ کرچکی ہے، جن کے باعث ہم اس حالت کو پہنچے ہیں۔ 
تاریخ اصل دیوبند کے حقیقی بیانیے کے مبلغ حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی اُن کوششوں کو بھی محفوظ کرچکی ہے کہ جس میں انھوں نے ہر طرح کی مخالفت کے باوجود ہر طرح کے دباؤ سے بے نیاز ہوکر اکابرین کی حقیقی فکر پر اپنی ساری زندگی قربان کردی۔ وہ پوری زندگی قوم اور مقتدر قوتوں کو اُن کی فرقہ وارانہ، متشدد، غیرجمہوری اور انسانیت سے عاری پالیسیوں کے باعث پاکستان میں پیدا ہونے والے حالات سے قبل از وقت آگاہ کرتے رہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقع پر ہم اپنی تاریخ اور پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے نئے حالات کے مطابق ایک نیا لائحۂ عمل مرتب کریں۔ جس کی بدولت قوم امن و چین کے ماحول میں پُرسکون زندگی بسر کرسکے۔ 
(اداریہ ماہنامہ رحیمیہ لاہور مارچ 2017ء)

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}