نئے دور کی نئی اصلاحات ۔۔۔ مدثرگل

اصطلاحات کے اس زمانے میں روز بروز نت نئی اصطلاحات پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔ کہیں سفر کرتے ہوئے راستے میں گاڑی خراب ہو جائے تو مکینک اپنی نالائقی چھپانے کے لیے گاڑی کو پھٹیچر گاڑی کہہ کر اپنے ہنر پر آنچ نہیں آنے دیتا ۔ اسی طرح ہر غیر جاندار چیز کو پھٹیچر کہہ کر تحقیر آمیزی کا عنصر شامل کرنے کی روایت یہاں پرانی چلتی آ رہی ہے۔
مگر میدان کے اندر کھیلنے والا کھلاڑی بھی پھٹیچر ہو سکتا ہے! یہ اصطلاح پہلی بار سنی۔ یہ اصطلاح استعمال کرنے والا گاؤں کا شیدا میدا نہیں ہے بلکہ پاکستان کی معروف سیاسی پارٹی کا لیڈر ہے۔ یہ لیڈر صاحب خود بھی انہیں میدانوں میں کھلاڑی رہ چکے ہیں اور پوری ٹیم کی محنت کی بدولت ایک ورلڈ کپ بھی جیت چکے ہیں۔ جس کا کریڈٹ بطور کپتان شب و روز بتاتے نہیں تھکتے۔
بد قسمتی سے انکے بعد پاکستان کی ٹیم نے آج تک ورلڈ کپ نہیں جیتا۔ جس کی وجہ سے وہ بدمست ہاتھی کی طرح جو منہ میں آئے بولتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن ہم انکو بے لگام گھوڑے کی طرح ہر گز نہیں دوڑنے دیں گے کہ جس کی وجہ سے وہ دوسرے انسانوں اور بالخصوص پاکستان کی عزت کو تہس نہس کر دیں۔
انکی اسی اصطلاح کی وجہ سے میں انکو “پھٹیچر خان” کا لقب دیتا ہوں۔

ہمارا مذہب اسلام نا صرف مسلمانوں بلکہ انسانوں اور جانوروں کی عزت کا بھی درس دیتا ہے۔ اسلام میں کسی عجمی, عربی, افریقی, گورے یا کالے کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اسلام میں افریقی بھی اتنے ہی مقام اور مرتبے والے ہیں جتنے گوری چمڑی والے یورپی یا امریکی۔
ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے افریقہ کے کالے کھلاڑی بھی وہی عزت کے حقدار ہیں جو گوری رنگت والے برطانوی کھلاڑی۔
“پھٹیچر خان” اگر ایک کھلاڑی دوسرے کھلاڑی کی عزت نہیں کر سکتا وہ عام انسانوں کی عزت کیا خاک کرے گا۔ کیا آپ کے نزدیک افریقہ میں بسنے والے انسان یا کھلاڑی اتنی ہی عزت کے حقدار نہیں ہیں جتنی عزت کے باقی براعظموں کے!!!

ہمارے ملک کے لیے تو یہ افریقی کھلاڑی زیادہ عزت کے مستحق ہیں۔ جو تمام سازشوں کے باوجود پاکستان آ کر پاکستان اور کرکٹ کے لیے کھیلے۔ ہمیں تو انکا شکریہ ادا کرنا چاہیے نہ کہ تحقیر آمیز جملوں سے انکی دل آزاری کہ انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔

یاد رکھیے گا اگر آپ دوسروں کو عزت دیں گے تو آپ کو عزت ملے گی۔ Do good Have good تو آپ نے پڑھا ہی ہو گا۔
اب Do respect Have respect بھی پڑھ لیجیے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}