گولڈ ٹائم ۔۔۔قاسم علی شاہ

جب میں ایک ایسے اسٹوڈنٹ سے ملتاہوں جو یہ کہتا ہے کہ میں روزانہ اٹھارہ گھنٹے پڑھتا ہوں۔ تو مجھے اس کی ذہنی کیفیت یا مینٹل ہیلتھ پر شک ہونے لگ پڑتا ہے کہ اس کو اٹھارہ گھنٹے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی ٹیکنیک نہیں ہے یا اسے پڑھنا آتا ہی نہیں ہے۔ یا یہ کہ اسے ٹائم کو استعمال کرنا نہیں آتا۔ میں ایک پرائم ٹائم کے متعلق بتاتا ہوں کہ ہر شخص کے چوبیس گھنٹوں میں سے کچھ وقت پرائم ٹائم ہوتا ہے۔ پرائم ٹائم کو ہم اپنی دیسی زبان میں گولڈ ٹائم یا سونے جیسا وقت کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب ہم کم وقت میں کام زیادہ کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صبح کے وقت میں کام زیادہ کر سکتے ہیں اور کچھ لوگوں کا پرائم ٹائم رات کا وقت ہوتا ہے جب ساری دنیا سو رہی ہوتی ہے اور وہ اپنے وقت کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا پرائم ٹائم نماز پڑھنے کے بعد کا ہوتا ہے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا پرائم ٹائم کھانا کھانے کے بعد ہوتا ہے اور کسی شخص کا پرائم ٹائم کھانا کھانے سے پہلے کا ہوتا ہے۔ قدرت نے دنیا کے ہر شخص کا پرائم ٹائم مختلف بنایا ہے۔ سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ انسان اس چیز کا ادراک کر لے کہ اس کا پرائم ٹائم کون سا ہے؟ جب اس چیز کا پتہ لگ جائے کہ اس شخص کا پرائم ٹائم کیا ہے تو اس وقت میں کوئی عظیم کام کرنے چاہیں۔ زیادتی وہاں پر ہوتی ہے جب ہم پرائم ٹائم میں سب سے آخری نمبر والا کام کر لیتے ہیں اور وہ وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ پرائم ٹائم میں وہ کام کرنے چاہیں جو سب سے ضروری اور سب سے زیادہ فائدہ مند ہوں۔ دنیا میں آج سب سے زیادہ کام ایچ آر او انسان کی سائیکلولوجی اور انسان کی ایکسی لینس پر کام ہوا ہے وہ فرسٹ تھنگ فرسٹ پر ہوا ہے۔ یعنی کہ کرنا کیا ہے؟ میرے لئے سب سے اہم کیا ہے ؟ معاشرے کے لئے سب سے اہم کیا چیز ہے؟ کون سی ایسی چیزیں ہیں جو ہم مناسب وقت اور مناسب عمر میں کریں گے تو وہ کسی اور وقت اور عمر میں ہمیں کام دیں گی۔
محمدعلی کلے ایک باکسر تھا اس کا ایک واقعہ تھا جس میں اس نے ایک پنچ مارا اور اس کو پچاس ہزار ڈالر کا انعام مل گیا یہ اسی کی دہائی کا واقعہ ہے۔ محمد علی کلے کو ایک شخص ملا اور اس نے کہا کہ یہ پنچ تمہاری خوش قسمتی کی وجہ سے لگ گیا ہے جس کا تمہیں اتنا معاوضہ ملا ہے۔ محمد علی کلے کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس نے مائیک سمیت اس بندے کر پکڑ لیا اور کہا کہ اس پنچ کو بنانے میں مجھے اکیس سال لگے ہیں۔ یعنی اکیس سال کی محنت کے بعد یہ مکا اس قابل ہوا ہے کہ میں ایک پنچ مار کے جیت جاتا ہوں۔
تو سب سے ضروری چیز اپنے پرائم ٹائم کو ڈھونڈنا ہے۔ اس پرائم ٹائم میں پرائم کام کرو۔ یہ یقینی بات ہے کہ اس ٹائم پر کرنے والے کام کے فائدے کچھ فوراً ہوں گے اور کچھ آنے والے دنوں میں فائدہ ہو جائے گا۔

You may also like this

14 March 2017

ٹائم مینجمنٹ ۔۔۔ قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">وقت یا ٹائم مینجمنٹ کو سمجھنے

محمد سلیم چشتی

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}