’’نظریاتی دہشت گرد ی کا ذریعہ بنتے تعلیمی ادارے‘‘ ۔۔۔ عادل فراز

موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ کس طرح ہندوستان میں دیش پریم اور راشٹرواد کے نام پر نظریاتی دہشت گردی کو فروغ دیا جارہاہے ۔ہر انسان کا مزاج جارح اور متشددانہ ہوتاجارہاہے ۔کوئی مذہبی انتہاپسندی کا شکار ہے تو کوئی ذات پات اور علاقہ کی بنیاد پر تشدد کرنے پر آمادہ ہے۔نوجوانوں کے جذبات مشتعل کرکے سیاسی جماعتیں اور شدت پسند تنظیمیں اپنے مفاد حاصل کررہی ہیں ۔تعجب یہ ہے کہ تعلیمی ادارے اور اسکالرز بھی ان جماعتوں اور تنظیموں کے آلۂ کار بن گئے ہیں۔دستور ہند کا مخول بنایا جارہاہے ، ہر سیاسی جماعت اور شدت پسند تنظیم اپنے نظریات کو آئین ہند کے نام پر نافذکرنے میں مصروف ہیں۔جب ملک کے اقتدار کی باگ ڈور ایسے جارحیت پسند لوگوں کے ہاتھ میں ہو جنکا آئین ہند اور سیکولرریاست کے نظریہ میں ہی یقین نہ ہو تو قانون اپاہج اور سیکولر ریاست ہٹلر ی نظریات کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔ دہشت گردی کے حامی امن کے پیامبر بن جاتے ہیں اور امن پسندوں کو دہشت گردی کے الزامات میں پھنساکر رزق زندان کردیا جاتاہے۔

آئین ہند پر ہمارا یقین کامل ہے اور ہمارا آئین سبکو برابری کا حق دیتاہےمگر قانون میں قوت متحرکہ نہیں ہوتی ۔اس قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی جو صرف کاغذ کے ڈھیروں میں دبارہ جائے یا نصاب کے نام پر نوجوان نسل کو رٹادیاجائے۔ کاغذ کے پلندوں میں بند قانون کسی بھی ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتا جب تک اسکا نفاذ عمل میں نہ آئے ۔یہی حال دستور ہند کا بھی ہے ۔دستور ہند سیکولر ریاست کا بہترین نمونہ ہے مگروہ تنظیمیں جو ملک میں نظریاتی دہشت گردی کو بڑھاواد ے رہی ہیں انکے نزدیک اس دستور کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ وہ جس ’’سنگھی دستور ‘‘پر عمل پیرا ہیں وہ سیکولر نظریات اور دستور ہند کا مخالف ہے اور خالص ’’ہندوتوو‘‘ کے نظریہ پر مشتمل ہے ۔آرایس ایس نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ایسی درجنوں چھوٹی بڑی تنظیموں کو اپنا نظریاتی آلہ ٔ کار بنایا ہے جو راشٹرواد اور دیش پریم کے نام پر دستور ہند کے خلاف ملک میں بدامنی و نظریاتی دہشت گردی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ۔اس نظریاتی دہشت گردی کو میڈیا ’’ انٹلکچول ٹریرازم‘‘ کے نام سے بھی جانتی ہے۔دستور ہند بلا تفریق ذات و مذہب سبھی کو اظہار کی آزادی کا حق دیتاہے ۔مگر قانون ساز اور قانون کے نافذکرنے والے دستور ہند کا گلا گھونٹ رہے ہیں ۔انکے نزدیک اظہار کی آزادی بڑاجرم ہے ۔اگر ملک میں کسی کو بولنے کا حق ہے تو وہ صرف زعفرانی ٹولا ہے جو حب الوطنی کے نام پر نجیب جیسے جانے کتنے نوجوانوں کا اغوا کرچکاہے ۔کتنے دیش بھکتوں پر اس شدت پسند ٹولے نے دیش دروہ کا الزام عائد کیاہے اور کتنے ہی بیباک اور حق گوافراد کو جان و مال کا خوف دلاکر چپ کرادیا جاتاہے ۔لڑکیوں کو ریپ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور قانون خاموش تماشائی بنارہتاہے۔جیسے قانون کے ساتھ قانون نافذکرنے والوں میں بھی قوت متحرکہ نہ
رہی ہو ۔
گزشتہ دو سالوں میں جس طرح نظریاتی تشدد کو ہوا دی گئی ہے اور تعلیمی اداروں کو سیاست کا اکھاڑا بنایا گیاہے وہ قابل تشویش ہے ۔تعلیمی اداروں میں پہلے بھی سیاسی جماعتوں کی حامی طلباء کی تنظیمیں ہوتی تھیں ،پہلے بھی ہر مکتب فکر اور الگ الگ نظریات کے طلباء مختلف مطالبات کو لیکر احتجاج کرتے تھے مگر احتجاج کے نام پر غنڈہ گردی اور نظریاتی دہشت گردی کا فروغ کبھی نہیں ہوا ۔گزشتہ دو سالوں میں تعلیمی اداروں کا ماحول علمی نہ ہوکر سیاسی ہوگیا اور طلباء سیاسی جماعتوں اور تشدد پسند تنظیموں کے آلۂ کار بن گئے ۔اگر کسی تعلیمی ادارے سے وابستہ گرمہر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتی ہے تو نام نہاد دیش بھکت طلباء کی تنظیمیں اسے خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی ہیں یہاں تک کہ ’’ریپ کا خوف‘‘ دلاکر گرمہر ہی نہیں بلکہ ہر آزادو بیباک لڑکی کو زبان بندی کا اشارہ دیاجاتاہے ۔حیرت ہے اس سماج پر جومنظر کا پس منظر جانے بغیر زندہ باد و مردہ باد کے نعرے لگاتا ہے ۔گرمہر کی ذہنی کیفیت اور قلبی تشویش پر کسی نے اظہار خیال نہیں کیا مگر اے بی وی پی کی طرز پر اسے ریپ کی دھمکیاں دی گئیں ۔اسکی دیش بھکتی پر سوال کھڑے کئے گئے ۔اسکا دماغی توازن خراب بتایا گیا ۔افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اب بی جے پی،آرایس ایس اور اسکی ذیلی تنظیموں کی مخالفت دیش دروہ کہلاتی ہے۔اگر گرمہر اے بی وی پی کے شدت پسند نظریات کی مخالفت کرتی ہے تو اسے ملک مخالف بتایا جاتاہے اور اسے ریپ کی دھمکیاں ملتی ہیں ۔اسکا موازنہ دائود ابراہیم سے کیاجاتاہے اور شہید فوجی کی بیٹی اس ملک میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتی ۔شہید کی بیٹی کو حب الوطنی کا پاٹھ پڑھانے والے اپنی حب الوطنی کا آج تک ثبوت نہیں دے سکے ۔آج بھی ناتھو رام گوڈسے پر آرایس ایس دامن بچاتی نظرآتی ہے مگر پھر بھی ہمارا قانون اور ملک کے اقتدار پر بیٹھے ہوئے لوگ مہاتما گاندھی اورا نسانیت کے قاتلوں کی پزیرائی کرتے ہیں ۔انکی ملک مخالف سرگرمیوں پر سوال نہیں اٹھائے جاتے بلکہ جنگ کی مخالف گرمہر جب یہ کہتی ہے کہ اسکے باپ کی جان پاکستان نے نہیں بلکہ جنگ نے لی تھی اس پر مختلف الزامات عائد کئے جاتے ہیں ۔حد یہ کے مرکزی وزیر کرن رجیجیو بھی گرمہر کی حمایت کرنے کے بجائے اے بی وی پی کا ساتھ دیتے ہوئے گرمہر کے ذہنی توازن پر سوال کھڑے کرتے ہیں ۔کیا کرن رجیجیو ان لوگوں کی حقیقت بھی عوام کے سامنے رکھیں گے جو آئی ایس ائی کی جاسوسی کے الزامات میں گرفتارہوئے ہیں ۔کیا وہ ملک مخالف نہیں ہیں ؟یا انہیں ذات پات اور مذہب کے نام کی دہائی دیکر چھوڑنے کی تیاری چل رہی ہے ؟۔
تعلیمی اداروں سے نکلنے والی نوجوان نسل ہی ملک کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے ۔نئی نسل تازہ جوش و جذبات کے ساتھ ہر شعبہ ٔحیات میں آتی ہے اور خوب ترقی کرتی ہے مگر ایسی نسل جو تعلیمی اداروں میں نفرت کی سیاست کررہی ہو،دیش دروہ و دیش بھکتی کے سرٹیفکٹ بانٹ رہی ہو وہ ملک کے مستقبل کے ساتھ کیا کھلواڑ کریگی اسکا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔تعلیمی اداروں میں سیاست کرنےوالے طلباء مستقبل قریب میں ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے ۔ ایسے سیاست مدار طلباء جو نظریاتی جارحیت اور فکری دہشت گردی کے حامی ہیں اگر کل وہ ملک کے اقتدار پر قابض ہوتے ہیں تو ملک کی صورتحال کیا ہوگی یہ سوچناہی اذیت ناک ہے ۔ایسے جارحیت پسند و متشددانہ سوچ کے حامل طلباءآرایس ایس اور اسکی ذیلی تنظیموں کی طرز پر ملک میں دیش پریم اور راشٹرواد کے نام پر بدامن و دہشت کاماحول پیداکرینگے ۔اگر تعلیمی
اداروں میں موجود طلباء کی سیاسی جماعتوں اور یونینوں کو کنٹرول نہیں کیا گیا اور انکی ذہنی تربیت میں کوتاہی برتی گئی تو یہ ملک کے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہونگی۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}