صوفیائے کرام کے نظریات اور رویے — ڈاکٹر وقار گل

خداوند قدوس نے احسن انداز میں تخلیق کائنات کے بعد اپنے خلیفہ حضرت انساں کو یہاں اتارا۔ بہشت کا مکین جب خاک نشین ہوا تو تخیل وتدبر میں بھی رد وبدل وقوع پذیر ہوا۔ مسجود وملائک میں نفسانی طلاطم نے ہیجانی کیفیت پیدا کردی۔ نفس کسی منہ زور گھوڑے کی طرح سرکش و امارہ بھی ہوا اور گمراہ وآوارہ بھی۔
اعلیٰ تخیل بے راہ روی کا شکارہوتا دکھائی دیا تو خدائے بزرگ وبرتر نے اصلاح نفس کے لئے نیک سیرت انبیاء ومرسلینؑ مبعوث فرمائے جنہوںنے کمال مہارت ودانش مندی سے تزکیہ نفس کا اعلیٰ واہم فریضہ سرانجام دیا۔ مشیت ایزدی کے تحت رسالت ونبوت اور پیغمبری کا سلسلہ حضور سرورکائناتؐ پر آکے اپنے عروج بام واختتام کو پہنچا۔ وحی الٰہی کا سلسلہ منقطع کردیا گیا اور اسلام کو تاقیامت سرچشمہ ہدایت منقطع کردیا گیا اور اسلام کو تاقیامت سرچشمہ ہدایت متعین کرلیا گیا۔ آخری الہامی وآسمانی کتاب قرآن پاک کو محفوظ رکھنے کا ذمہ کائنات کی اعلیٰ وارفع قوت نے اپنے ذمے لے لیا۔
اس دوران خطہ ارض پر جہاں جہاں پیغمبرؐ اور انبیاء ومرسلینؑ تشریف لے کے گئے وہاں کے مکین نور ایمانی سے فیض یاب ہوتے چلے گئے۔ ہندوستان کے قرب وجوار میں صحیفہ آسمانی کے نزول کے کوئی آثا ر نہیں ملتے شاید اسی لیے یہاں روح پیاسی اور طلب گار ہی رہی۔
گرچہ رامائن ، گیتا اور مہابھارت جیسی کتب تحریر کی گئیں، رام سدھارتھے چانکیہ اور دیگر مہمان پرش سماجی اصلاح کے لئے آگے بھی بڑھے مگر نور ایمانی اور روحانی تسکین کی حاجت ہمیشہ باقی رہی۔
تکمیل اسلام اور آخری الہامی کتاب کے حامل نبی آخر الزمانؐ ﷺبھی یہاں سے ہزار ہا میل کی مسافت پہ واقع سرزمین حجاز پہ مبعوث ہوئے۔ آپﷺؐ کا دور مبارک گزرے سینکڑوں سال بھی بیت گئے کہ اس خطہ ہندوستان پہ قدرت مہربان ہوئی اور اسے تعلیمات اسلامی سے روشناس کرنے کا اہتمام کیا جانے لگا۔ خداشناس صاحبان امروز نے آفاقی واولین حقیقت سے روشناس کروانے کا بیڑا اپنے ذمے لیا اور ہندوستانیوں تک نور ایمانی اور تعلیمات قرآنی پہچانے کا فریضہ سرانجام دینا شروع کیا۔
ہزارہا میلوں کی مسافت اور سینکڑوں سالوں کی دوری کو پس پشت ڈالتے ہوئے اسلامی تعلیمات میں مخفی حقیقتوں کو مکمل سچائی اور خلوص کے ساتھ ہند سندھ کی سرزمین تک لے آنا اور پھر یہاں کے باسیوں کو مستفید کرنا انہیں نیک سیرت بزرگان دین کا ہی طرہ امتیاز ہے۔ یہ کمال اخلاق اور انتہائی خلوص کے بنا ممکن نہ تھا۔ یہ بندوق تلوار دولت کا نہیں بلکہ انسان دوستی کا اثر تھا جو پسی ہوئی انسانیت کو پھر سے زندہ وجاوید کرگیا۔۔
اسلامی تصوف کو دیگرعالمی مذاہب پہ یہ فوقیت بھی حاصل ہے کہ جہاں دیگر مذاہب میں آخری مقام فنا فی اللہ تھا اور ہندو، بدھ، عیسائی راہب ترک دنیا کرکے غاروں اور جنگلوں میں رہ جاتے تھے اسلام نے آکر مقام بقا بااللہ کی رہنمائی کی۔ یورپی مصنفین ومتشرقین نے یہ ڈھونگ رچایا کہ تصوف اور صوفیائے کرام ہندعیسائی فلسفہ روحانیت سے متاثر ہوئے ہیں یہ بے بنیاد اور لغوبات ہے حقیقت یہ ہے کہ صوفیائے اسلام دیگر مذاہب سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ دیگر مذاہب کے ارباب روحانیت نے صوفیائے اسلام سے زبردست استفادہ کیا ہے۔
ہندو ریسرچ سکالر ڈاکٹر تارا چند نے تحقیق کے ذریعے اپنی کتابInfluence of islam on Hindu Culture
میں ثابت کیا ہے کہ نامور ہندو ارباب روحانیت مثلاً شنکراچاریہ، رامانوجا، رامانندا، کبیر اور ان کے چیلوں نے صوفیائے اسلام سے روحانی تعلیمات حاصل کیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے تمام تر مشرکانہ ہندوعقائد مثلاً بت پرستی تناسخ ذات پات، مردوں کو جلانا وغیرہ ترک کرکے اسلامی عقائد اختیار کرلیے تھے۔
صوفیائے کرام کا مطمح نظر اور طریق کار دور حاضر کے مشنریوں اور مبلغوں سے بالکل مختلف تھا۔ انہوںنے اپنے آپ کو فقط غیر مسلموں میں اشاعت اسلام کے لئے وقف نہ کررکھا تھا بلکہ تبدیلی مذہب تو شاید ان کا مقصد اولین ہی نہ تھا۔ ان کے دروازے ہر ایک کے لئے خواہ وہ ہندو ہویا مسلمان امیرہویا غریب کھلے تھے۔
ان کا کام ہر ایک میں بلا کسی تفریق کے ارشاد وہدایت تھا۔ اگر صوفیہ کا مطمح نظر عہد حاضر کے مبلغوں سے مختلف تھا تو ان کا طریق کار بھی اس زمانے کے عیسائی مشنریوں کی عین ضد تھا۔ انہوں نے کبھی یہ نہ کیا کہ دوسرے مذہبوں اور ان کے بانیوں کی بدگوئی کرکے اپنے مذہب کی فضیلت ثابت کریں۔ دوسرے مذہبوں کی طرف ان کا طرز عمل انتہائی رواداری اور صلح پسندی کا تھا۔ صوفیاء کرام کے صلح کُل طریقوں اور ہندوئوں کے مذہب کے متعلق خاص نقطہ نظر کا ایک دلچسپ نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیاء کرم کی اشاعت اسلام کی کوششوں کی کوئی خاص مخالفت نہ ہوئی بلکہ ہندئوں نے ان صوفیوں کو بھی جنہوں نے اشاعت اسلام میں نام پیدا کیا نگاہ احترام سے دیکھنا شروع کردیا۔
اشاعت اسلام کے علاوہ بزرگان دین نے عام مسلمانوں کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کے لئے جو کار ہائے نمایاں انجام دیئے انہیں بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج لوگ ان کے کام کا اندازہ ان کے جانشینوں کو دیکھ کرکرتے ہیں جنہوں نے ان کی یادگاروں کو تجارت کا سرمایہ بنارکھا ہے یا مزاروں پہ ان زائرین کا ہجوم دیکھتے ہیں جن کی حرکات سے تو ہم پرستی ٹپکتی ہے۔
بزرگان عظام کی عظمت کا اندازہ ان باتوں سے کرنا بے انصافی ہے اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم ان بزرگوں کے مستند حالات کا مطالعہ کریں اور ان کے اقوال وافعال پر غور کریں۔ آج بھی اگر فوائد والفواد، سیرالاولیا، زبدۃ المقامات کا مطالعہ کریں تو صاف نظر آجاتا ہے کہ حقیقی اسلام کہاں ہے اور تصوف کے انحطاط کے ساتھ قوم میں اخلاقی وروحانی زوال کیوں آگیا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}