قومی نظام کی درستگی کا کیمیا ئی اور ماحولیاتی تصور — ڈاکٹر ممتاز خان

انسان ایک ایسی مشین ہے، جو ایک خاص ماحول میں بنتی ہے۔ اسکی صحت اور لمبی عمر بھی ایک خاص ماحول میں ممکن ہے۔ اس مشین کو خاص ماحول میں مناسب درجہ حرارت، ہوا، توانائی، پانی اور خوراک درکار ہے۔ اسکو مناسب ترقی کیلئے صحیح روحانی توانائی، سماجی اور رومانوی محبت، ساتھ،خوشی اور جذباتی لگائو درکار ہیں۔ جدید سائنس کے مطابق انسانی ماحول میں موجود جتنے بھی سوشل، طبئی اور ماحولیاتی عوامل ہیں، وہ اس کے ڈی ۔ این۔ اے کو متاثر کرتے ہیں۔ ڈی۔این۔اے کی خصوصیات انسان کی اگلی نسلوں کا کردار، ذہانت، سماجی رویے، انتظامی صلاحیتیں اور مستقبل کا کردار متعین کرتی ہیں۔ اس طرح ماحول اور انسان کا ڈی۔این۔اے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ماحول کی تبدیلی آہستہ آہستہ انسان کے ڈی۔این۔اے کو تبدیل کرتی ہے اور اچھا ڈی۔این۔اے بہتر نسل پیدا کرتا ہے۔ ڈی۔این۔اے بنیادی طور پہ مختلف مرکبات کا ہی تو مجموعہ ہے جو ہماری طرز فکر سے متاثر ہوسکتا ہے۔ خاص طرز فکر ہمارے جسم میں خاص مادے پیدا کرتی ہے جو کہ جوانی کے بعد خصوصاً تیس (۳۰) برس کی عمر میںہمارے چہرے کے خدوخال کو تبدیل کرنا شروع کرتی ہے۔ طرز فکر ڈی۔این۔اے کو آہستہ آہستہ جبکہ چہرے، جلد اور معدہ کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔
انسان اپنے ماحول پہ مختلف انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔ انسانی ماحول میں پیدا ہونے والی سیاسی، مذہبی اور سماجی تحریکیں اسکی موجودہ نسلوں کوبراہ راست متاثر کرتی ہیںاور آنے والی نسلوں کوبالواسطہ متاثر کر رہی ہوتی ہیں۔ تحریک کے اثرات اچھے اور برے بھی ہو سکتے ہیں۔ تحریک کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ اسکے ماحول میں موجود نتائج سے ہوتا ہے۔ اگر ماحول پر امن اور انسان باعزت اور پیداواری ہو گئے ہیںتو تحریک اچھی ہو سکتی ہے۔ یہ تحریکیں ہماری ترجیحات، سوچنے کا انداز، سونے جاگنے کا دورانیہ، جسم میں کیمیکل کا اخراج، ذہانت اور فرد کے معاشرتی کردار کا تعین کرتی ہیں۔ اگر ہم اپنے ماحول، سوچ کے انداز اور اس کے نتیجے میں اقوام عالم میں ہمارے مقام اور مرتبے کا جائزہ لیں، تو ہم انسانی سماج کی تشکیل میں دوسری اقوام سے بہت پیچھے ہیں۔ ہماری فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور ہمارا بین الاقوامی کرداراس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہم نے انسانی سماج کے اگلے درجات میں بحیثیت قوم کافی سفر کرنا ہے۔
ہمارے ماحول میں موجود نام نہاد اسلامی تحریکوں کی تنگ نظری، رجعت پسندی، عدم برداشت اور اسکے ہماری صحت، جذبات اور ذہانت پہ اثرات؛ بائیں بازو کا جوشیلا اندازفکر اور رومانوی شاعری کا ہماری عقلی اور فکری صلاحیتوں پہ اثر؛ مغرب سے مرعوب اور قوم سے دور دائیں بازو کے حکمران اور انکا طرز حکمرانی؛ ان سب کے نتیجے میں جنم لینے والے معاشرے کی دنیا میں حیثیت اور پیداواری صلاحیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم ابھی تک درست سمت کا تعین کرنے میں ناکام ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}